فساد فی
الارض ایک ایسا جرم ہے جس کی مذمت قرآن مجید میں بہت زیادہ کی گئی ہے یہ جرم نہ
صرف انسانوں کے لیے تباہی کا باعث ہے بلکہ یہ اللہ کی نظر میں بھی بہت بڑا گناہ ہے
اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض کو ایک بڑا جرم قرار دیا ہے اور اس کی سزا بھی بہت
سخت بتائی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فساد فی الارض کرنے والے لوگ
دنیا اور آخرت میں خسارہ اٹھائیں گے۔ یہ جرم انسانوں کے لیے تباہی کا باعث ہے اور
اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب ہے اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے بچائے اور ہمیں
صالحین میں شامل فرمائے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا
لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ
الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے
ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔(القصص:83)
تکبر کرنے اور
فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں
کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و
اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں
کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر
مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی
معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے۔
حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے
مجھے وحی فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی کرو حتّٰی
کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔( مسلم ،
کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ
الخ ، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث: ۶۴)
Dawateislami