اسلام امن، سلامتی اور انسانیت کا دین ہے۔ اس کی تعلیمات عدل، رواداری اور اخوت پر مبنی ہیں۔ قرآنِ کریم نہ صرف فساد فی الارض کی سخت مذمت کرتا ہے بلکہ امن و سلامتی کو فروغ دینے کا حکم دیتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں قرآن کی روشنی میں فساد فی الارض کی مذمت پیش کی جائے گی۔

فساد کا لغوی معنی: اس کا مادہ ہے ( ف ،س، د ) جس کے معنی ہیں :بگاڑ، خلل، خرابی، تباہی بلوا، جھگڑا وغیرہ ۔

فساد کی اصطلاحی تعریف: کسی چیز کی صورت کو بگاڑ دینا۔(التوقیف علی مھمات التعریف ، ص / 259)

امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حدِ اعتدال سے کسی چیز کا نکل جانا ، چاہے وہ نکلنا تھوڑا ہو یا زیادہ۔ ( التوقیف علی مھمات التعریف ، ص/259، المفردات، ص/379)

فساد فی الارض کی مثالیں:ایمان قبول نہ کرنا ، دوسروں کو ایمان قبول کرنے سے روکنا ، کفر و شرک کرنا، جان بوجھ کر حق ماننے سے سرکشی کرنا ، مال اور عزت کی طمع میں بری رسمیں پھیلانا ، قتلِ ناحق، مار پیٹ، گالی گلوچ کرنا ، کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرنا ، ڈاکے ڈالنا ، غیبت و چغلی و تہمت وغیرہ کے ذریعے لوگوں کے باہمی تعلقات خراب کرنا، قطعِ رحمی کرنا وغیرہ۔

قرآن پاک میں کئی مقامات پر فساد فی الارض کی مذمت کی گئی ہے۔ ایک مقام پر اسے فاسقین کی صفت شمار کیا گیا اور فساد مچانے والوں کو نقصان اٹھانے والوں میں شامل فرمایا۔چنانچہ الله تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)ترجمۂ کنزالعرفان: وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اوراس چیز کو کاٹتے ہیں جس کے جوڑنے کااللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (البقرۃ،27)

جب فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم کر کے ، ان کے بیٹوں کو قتل کر کے زمین میں فساد پھیلایا:اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(۴) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ فسادیوں میں سے تھا۔(القصص،4)

تو اس کا ہونے والا عبرتناک انجام بھی قرآن نے بیان کیا فرمایا:فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّۚ

ترجمہ کنز العرفان:تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔(القصص،40)

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ عز و جل نے مفسدین سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا:

وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنز العرفان: اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(المائدۃ:64)

فساد پھیلانے والوں کو قرآن میں ملعون قرار دیا گیا اور ان کیلئے برے گھر کی وعید ارشاد فرمائی ۔ چنانچہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے:وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنز العرفان: زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔(الرعد،25)

الله پاک نے مفسدین کیلئے ان کے فساد کے بدلے میں عام عذاب سے زیادہ عذاب تیار کر رکھا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنز العرفان: ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔ (النحل،88)

غرض یہ کہ دینِ اسلام نے فساد فی الارض کی شدید مذمت فرمائی اور اپنے ماننے والوں کو اس سے بچنے کی تلقین فرمائی۔چنانچہ خالقِ کائنات قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز العرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔(الاعراف،56)

قرآن پاک میں فساد فی الارض سے بچنے والوں کو جنت کی خوشخبری سنائی گئی چنانچہ ارشاد ہوا:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ (القصص،83)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں لکھا ہے : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے۔( تفسیر صراط الجنان ، ج،7 ،ص، 332)

اسی طرح رسول کریم ﷺ نے بھی فساد فی الارض کے حوالے سے ہماری تربیت فرمائی اور چند جملوں میں فساد فی الارض کا سدِ باب فرمایا چنانچہ صاحبِ جوامع الکلم کا فرمان ہے :كُلُّ الْمـُسْلِمِ عَلٰى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُه وَ مَالُه وَ عِرْضُهترجمہ: ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔(مسلم ، کتاب البر و الصلۃ، باب تحريم ظلم المسلم الخ ، ص ٣٨٦، حديث ٢٥٦٤)

پیارے اسلامی بھائیو! ہم بھی اپنے اعمال پر غور کریں کہ آیا ہم تو فساد فی الارض میں مبتلا نہیں ہیں کسی کا مال دبا کر ، سودی لین دین کے ذریعے ، حرام کمانے ، کھانے کے ذریعے ،اسلامی احکام و شرائع کی کھلم کھلا مخالفت کرنے کے ذریعے غرض کسی بھی طرح ہم اگر اس گھناؤنے جرم میں مبتلا ہیں تو سچے دل سے توبہ کریں اور اس کے تقاضے پورے کریں اللہ پاک ہمیں اپنے مخلص بندوں میں شامل فرمائے اور ہر طرح کے گناہ و فساد سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔