حضرت علامہ سید انعام الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی اور حضرت علامہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی کے ابو جان، استاد العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ ابوالخیر پیر سید حسین الدین شاہ صاحب سلطانپوری کاظمی قادری ضیائی رحمۃ اللہ علیہ 23 صفر المظفر 1448ھ بمطابق 07 اگست 2026ء کو تقریباً 92 سال کی عمر میں راولپنڈی میں قضائے الٰہی سے وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن

وفات کی خبر ملنے پر امیرِ اہلِ سنت نے اپنے خصوصی آڈیوپیغام کے ذریعے مرحوم کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لیے دعا کرتے ہوئے لواحقین کو صبر و ہمت کی تلقین کی ہے۔

دعوتِ اسلامی کا وفد جن میں چیئرمین کنزالمدارس بورڈ و رکن شوریٰ مولانا حاجی جنید عطاری مدنی، استاذ العلماء مفتی گُل رضا عطاری مدنی اورسید لطیف ناظم عطاری سمیت ذمہ داران دعوت اسلامی شامل تھے۔ امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کاآڈیو پیغام لے کرسلطان پور پہنچے۔ سلطان پور پہنچ کر مرحوم کے صاحبزادگان حضرت علامہ سید انعام الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی اور حضرت علامہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کرتے ہوئے امیراہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا آڈیوپیغام سنایا۔پیغام سن کر صاحبزادگان نے امیرِ اہلسنت کا شکریہ ادا کیا اور آپ کی دینی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی مزید ترقی و صحت والی طویل زندگی کی دعائیں کیں۔ بعد ازاں دعوت اسلامی کے وفد نے حضرت علامہ ابوالخیر پیر سید حسین الدین شاہ کاظمی قادری ضیائی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف پرحاضری دی جہاں فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔

امیر اہلسنت کاپیغام:

امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے مکتبۃ المدینہ کی کتاب 'اللہ والوں کی باتیں' جلد پانچ، صفحہ 471 سے حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان نقل کرتے ہوئے فرمایا : ”جب تک دنیا میں کسی کی عمر کا ایک لمحہ باقی ہے وہ مکمل نہ ہو جائے، جہاں قدم لگنا لکھا ہے وہ لگ نہ جائے، رزق کا ذرہ برابر دانہ جب تک پورا نہ مل جائے اور جہاں موت آنی ہے جب تک وہاں پہنچ نہ جائے، اس وقت تک کسی کو موت نہیں آ سکتی“

امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا لواحقین سے تعزیت:

محمد الیاس عطار قادری رضوی عفی عنہ کی جانب سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے یہ افسوس ناک خبر ملی کہ حضرت علامہ سید انعام الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی اور حضرت علامہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی کے ابو جان، استاد العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ ابوخیر پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی رحمۃ اللہ علیہ صفر شریف کی 23 تاریخ 1448 ہجری مطابق 7 اگست 2026 کو تقریباً 92 سال کی عمر میں راولپنڈی میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن

میں تمام سوگواروں سے تعزیت کرتا ہوں اور صبر و استقامت سے کام لینے کی تلقین کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت آپ حضور کے تمام مریدین و متوسلین، اہل خاندان، تلامذہ، آپ حضور کے ادارے کے مدرسین اور معلمین، سبھی کو صبر جمیل عطا فرمائے اور دونوں جہانوں کی بھلائیوں سے مالا مال کرے۔ حضور کے ادارے کے لگائے ہوئے باغ کو اللہ پاک ہرا بھرا اور لہلہاتا، مدینے کے پھولوں کے صدقے سدابہار رکھے۔

دعا و ایصالِ ثواب:

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین

یا رب المصطفیٰ جل جلالہ و صلی اللہ علیہ والہ وسلم! مرحوم کی بے حساب مغفرت فرما، ان کی قبر نور علی نور ہو اور نورِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ان کی قبر تا حشر جگمگاتی رہے۔ یا رب العزت! ان کی قبر باغِ جنت بن جائے۔ یا ربِ جلیل! تمام سوگواروں کو صبرِ جمیل اور صبرِ جمیل پر اجرِ جزیل مرحمت فرما۔ یا ذوالجلال والاکرام

اے عظمت و عزت والے! میرے پاس جو کچھ ٹوٹے پھوٹے اعمال ہیں، اپنے کرم کے شایانِ شان ان پر اجر عطا فرما۔ یہ سارا اجر و ثواب جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عنایت فرما، بوسیلہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ سارا ثواب مرحوم سمیت ساری امت کو عنایت فرما۔

اللہم اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم


دینِ اسلام کی پرامن تعلیمات عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی اصلاح کے لئے کوشاں عالمی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام تربیتی سلسلوں کا تسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 08اگست  2026ء (25 صفر المظفر 1448ھ) کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس کا محور شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی بابرکت موجودگی تھی۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔ تقریب کا بنیادی حصہ سوال و جواب کا وہ سیشن تھا جس میں امیرِ اہلِ سنت نے شرکائےمحفل اور آن لائن موصول ہونے والے مختلف دینی، شرعی اور معاشرتی سوالات کے انتہائی جامع، حکمت بھرے اور دل کو چھو لینے والے جوابات ارشاد فرمائے۔ گفتگو کے دوران اصلاحِ معاشرہ، والدین کے حقوق اور دینی تحریک کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے قیمتی مدنی پھول نچھاور کئے گئے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال: اعلیٰ حضر ت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کا با جماعت نماز پڑھنے کا جذبہ کیسا تھا ؟

جواب:اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تمام نمازیں با جماعت پڑھتے تھے ۔ آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کا آپریشن ہوا تو احباب(قریبی عزیز،رفقاءوغیرہ) آپ کی خواہش کے مطابق ایک ماہ تک آپ کو کُرسی(Chair) پر مسجد لے جاتے رہے یہاں تک آپ چلنے کے قابل ہو گئے۔

سوال: حدائقِ بخشش کا معنی کیا ہے؟ اور یہ کن کی لکھی ہوئی ہے؟

جواب: حدائق،حدیقہ کی جمع ہے یعنی بخشش کے باغات،حدائقِ بخشش اعلیٰ حضر ت رحمۃ اللہ علیہ کے کلاموں کا مجموعہ ہے ۔نعت پڑھنا بخشش کا ذریعہ ہے،جس میں عشق کا ذوق نہ ہو تو وہ حدائقِ بخشش پڑھتا رہے ،اشعار یاد کرتا رہے تو عشق کا ذوق حاصل ہو جائے گا۔

سوال: علمائے کرام کے احترام کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں؟

جواب: جو عاشقِ رسول یعنی علمائے اہلِ سنت ہیں،ان کا احترام سب پر لازم ہے ۔ ان کے بارے میں ہرگز زبان نہ کھولی جائے ۔زبان کٹ جائے مگر کسی عالمِ دِین کے خلاف زبان نہ کھُلے ،اگر کوئی عالمِ دِین باعمل نہ ہو تب بھی عوام کو ان پر زبان کھولنے کی اجازت نہیں کہ وہ علمِ دِین کی وجہ سے عوام سے افضل ہیں ۔ ان کےسِینے میں علمِ دِین کا نور ہے ۔ عالمِ دِین حافظِ قرآن سے افضل ہے۔

سوال: اعلیٰ حضرت اپنے احباب کے لیے کس طرح دعا کیا کرتے تھے؟

جواب: اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک فہرست(List) تھی جس میں آپ کے احباب(قریبی عزیز،رفقاءوغیرہ) کے نام درج تھے، آپ ان کا نام لے کر دعا کیا کرتے تھے ۔

سوال: نبی ِکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا ولادت کا دن کس طرح مناتے تھے؟

جواب: نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیر(Monday)کو روزہ رکھتے تھے ،اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ اسی روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز میری بعثت ہوئی اور اسی روز میرے اوپر قرآن نازل کیا گیا۔(صحیح مسلم، 2/819، حدیث نمبر 1162)

سوال: بچوں کی بر تھ ڈے(Birthday) انگریزی تاریخ کے اعتبار سے منائی جائے یا ہجری سن کے اعتبار سے ؟

جواب: ہجری(اسلامی)سن کے اعتبار سے منایا کریں ،یوں بچوں کو اسلامی تاریخ کا فیضان بھی حاصل گا ۔ان شاء اللہ الکریم

سوال: اعلیٰ حضرت کی وفات کس وقت ہوئی اور اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟

جواب: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے25صفرشریف1340ھ کو ہند (India) کے وقت کے مطابق دو بج کر اڑتیس منٹ 02:38pm پر وصال فرمایا ،پاکستانی وقت کے مطابق دو بج کر آٹھ منٹ(02:08pm) تھے ،دیگر ممالک میں اسی اعتبار سے فرق ہے۔ تمام عاشقانِ رسول کی مساجد میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت بیان کریں ،02:08pm پر فاتحہ خوانی کریں۔یہ محبت کی بات ہے کوئی فرض یا واجب نہیں، اسلامی بہنیں گھروں میں بھی فاتحہ خوانی کر لیں ۔فاتحہ کے ساتھ نیازبھی کر لیں۔

سوال: جشن ِولادت اور عُرس منانے کا کیا فائدہ ہے ؟

جواب: جشنِ ولادت منانے، درست انداز سے عُرس و فاتحہ خوانی کرنے کے کئی فوائد ہیں ،یہ بھی نیکی کی دعوت دینے کا ایک ذریعہ ہے ۔

سوال: امتحان میں پاس ہونے کا کوئی وظیفہ بتادیں ؟

جواب: صرف تین دن مسلسل کسی بھی ایک نماز کے بعد ”یَا حَسِیْبُ“111(اوّل آخر11 بار دُرود شریف)پڑھ کر امتحان میں اچھے رزلٹ کے لئے دُعا کیجئے، ان شاء اللہ الکریم کامیابی ملے گی۔

سوال: کیا مسلمان کو تکلیف پہنچے تو اُسے اجر ملتا ہے ؟

جواب: حدیث پاک ہے کہ مسلمان کو کوئی تکلیف ،فکر، بیماری ملال (رنج و غم )اذیت اور کوئی غم نہیں پہنچتا یہاں تک کہ کانٹا جو اُسے چُبھے مگر اللہ کریم ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔(بخاری شریف ،حدیث نمبر 5642 )علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی انسان کا دنیا میں مصیبت اور آفتوں میں مبتلا ہونا اس بات کی علامت (نشانی )ہے کہ اللہ پاک اس سے بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے،اسی لیے اسے گناہوں کی سزادُنیا میں ہی کسی مصیبت وغیرہ کے ذریعے دے دی اور اسے آخرت پر مؤخر نہ کیا۔ (فیض القدير ،5/626)

سوال: صفر کا مطلب کیا ہے؟ اس کو صفر کیوں کہتے ہیں ؟

جواب: صفر کا معنی ٰ خالی ہونا ہے ۔جن دنوں مہینوں کے نام رکھے جا رہے تھے ان دنوں میں گھر کھانے پینے کی چیزوں سے خالی ہو جاتے تھے اور کمانے کے لیے گھر سے باہر جانا پڑتا تھا ،اس لیے اس مہینے کا نام صفر پڑا۔

سوال: دانت مضبوط رکھنے کا کوئی وظیفہ بتا دیں ؟

جواب:ایک بزرگ جن کی عمر سوسال کے قریب تھی جبکہ دانت صحیح سلامت تھے۔ جب ان سے دانتوں کی محفوظی اور مضبوطی کے بارے میں پوچھا گیاتو فرمایا:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے مجھے بچپن میں یہ عمل بتایا تھاکہ ”عشاء کے وتر جب پڑھے جائیں تو پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اِذَا جَاءَ (یعنی نصر)، دوسری میں تَبِّت یَدَا (یعنی سورہ لہب) اور تیسری میں سورۃ الاخلاص پڑھنے سے دانت عمر بھر ہر تکلیف سے محفوظ رہتے ہیں“ جب سے میں اسے پڑھتا ہوں اور اسی کی یہ برکت ہے۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط2) “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط2) “ پڑھ یا سُن لے، اُس کا دل دنیا کی محبت اور گناہوں کی نحوسَت سے پاک کر دے اور اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطا فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے ایک خصوصی ”مدنی مذاکرے“ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ روحانی و علمی نشست 13 اگست (جمعرات) کو ہفتہ وار اجتماع کے بعد رات تقریباً 10:15 بجے شروع ہوگی۔ اس خصوصی مدنی مذاکرے میں بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی شرکت فرمائیں گے۔

یہ پروگرام مدنی چینل پر لائیو نشر کیا جائے گا۔YouTube،Facebookاور امیرِ اہلسنت کے آفیشل Pagesکے ذریعے دنیا بھر میں براہِ راست دیکھا جا سکے گا۔

اس خصوصی نشست میں یومِ آزادی کی اہمیت، ملکی سلامتی و بقا اور دینی و اخلاقی موضوعات پر امیرِ اہلسنت کے بصیرت افروز بیانات اور عوام کے سوالات کے جوابات شامل ہوں گے۔


بین الاقوامی اسلامی تحر یک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام آج بعد نمازِ مغرب دنیا بھر سمیت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور بالخصوص عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا باوقار انعقاد کیا جائے گا۔ اس اجتماع کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، فکرِ آخرت اور سنتِ نبوی پر عمل کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔

اجتماع کا باقاعدہ آغاز نمازِ مغرب کے فوراً بعد تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوگا، جس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں عقیدت و احترام کے ساتھ نعت پیش کی جائے گی۔ تلاوت و نعت کے بعد دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کےاراکین و مبلغینِ دعوت اسلامی سنتوں بھرا اصلاحی بیان فرمائیں گے۔ بیان میں معاشرتی اصلاح، رزقِ حلال، والدین کے حقوق، اور سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی جائے گی۔ بیان کے اختتام پر اجتماعی ذکر و اذکار اور بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ دعا کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملکی سلامتی، امتِ مسلمہ کے کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق آج رات مدنی چینل پر براہِ راست (Live) نشر ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں رکن شوریٰ حاجی قاری سلیم عطاری مدنی مرکز فیضان مدینہ نزد ریلوے اسٹیشن انڈر پاس خانیوال میں سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

اس کے علاوہ مدنی مرکز فیضانِ مدینہG-11اسلام آبادمیں رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ بابو محلہ دربند اڈہ ہری پور میں رکن شوریٰ حاجی منصورعطاری، فیض مدینہ مسجد کریلا اسٹاپ نیو کراچی میں رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ گلشن اقبال ٹاؤن خان پور ضلع رحیم یار خان میں رکن شوریٰ مولانا حاجی محمد عقیل عطاری مدنی، دارُ السنہ Cahaya Ampang Selangor Malaysia میں رکن شوریٰ عبد الوہاب عطاری، غوثیہ جامع مسجد بولی پاڑہ (قریب ٹرک ٹرمینل روڈ) CDA، چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ Sheffield Firth Park Road S5 6WSمیں رکن شوریٰ حاجی خالد عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

تمام عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ آج رات اپنے قریب ترین فیضانِ مدینہ یا دعوتِ اسلامی کے اجتماع گاہ میں خود بھی شرکت فرمائیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لانے کی نیت کریں۔


مکمل سورج گرہن

(Total Solar Eclipse)

12 2026/August

سورج گرہن اللہ پاک کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

الحدیث: قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‏”‏إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاَةِ“‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏

ترجمہ : سورج اور چاند کسی کی موت وحیات سے بے نور نہیں ہوتے۔ وہ دو نشانیاں ہیں اللہ کی نشانیوں میں سے، اللہ اپنے بندوں کو دکھلاتا ہے، جب تم یہ گرہن دیکھو تو نماز کی طرف جلدی کرو۔

ان مواقع پر توبہ استغفاراورنمازکا اہتمام کرنا چاہئے سورج گرہن کی نماز ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے۔مکروہ وقت میں سورج گہن واقع ہو تو صرف ذکر و اذکار کرینگے۔

سائنسی اعتبار سے سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب سورج اور زمین کے درمیان چاند حائل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سورج کی روشنی بعض اوقات مکمل طور پر اور بعض اوقات جزوی طور پر ماند پڑ جاتی ہے۔

12 اگست 2026 بروز بدھ مکمل سورج گرہن ہوگا جو گرین وچ مین ٹائم سے 15:34 پر شروع ہوکر 17:46پر عروج کو پہنچے گا جبکہ 19:58 پر سورج گرہن کا اختتام ہوگا ۔

یہ گرہن مغربی یورپ، شمال مغربی افریقہ اور شمالی امریکہ کے اکثر حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔

گرہن کے حاملہ عورت پر کسی قسم کے کوئی منفی اثرات نہیں پڑتے۔

نوٹ:یہ سورج گرہن پاکستان میں نہیں دیکھا جاسکے گا۔

جن ممالک میں مکمل یا جزوی سورج گرہن ہوگاان میں بعض کے نام اور گرہن کے اوقات درج ذیل ہیں:

No

Country

City

…….. %
Eclipse

Start Time

End Time

1

Spain

Madrid

100

19:37

Sunset

2

Iceland

Reykjavik

100

16:47

18:48

3

Algeria

Algiers

96

18:43

Sunset

4

Portugal

Lisbon

95

18:39

20:29

5

France

Paris

92

19:22

21:09

6

U.K

London

91

18:17

20:06

7

Netherland

Amsterdam

88

19:16

21:03

8

Germany

Frankfurt

88

19:20

Sunset

9

Denmark

Copenhagen

84

19:10

Sunset

10

Norway

Oslo

83

19:03

20:49

11

Moroco

Marakesh

83

18:52

Sunset

12

Poland

Warsaw

82

19:15

Sunset

13

Greenland

Nuuk

79

15:30

17:39

14

Italy

Rome

69

19:33

Sunset

15

Hungary

Budapest

56

19:23

Sunset

16

Canada

Ottawa

16

12:50

14:34

17

U.S.A

New york

09

13:08

14:39


چشتیاں شریف (ویب ڈیسک):پنجاب کے معروف شہر چشتیاں شریف میں 25 صفر المظفر (عرسِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ) کی پرنور مناسبت سے ایک پروقار ”اجتماعِ دستارِ فضیلت و عرسِ اعلیٰ حضرت“  کا انعقاد کیا گیا۔ اس عظیم الشان روحانی و علمی تقریب میں معروف دینی و علمی شخصیت استاذ الحدیث مفتی محمد ہاشم خان عطاری مدنی نے خصوصاً شرکت کی اور فکر انگیز بیان فرمایا۔

چشتیاں شریف میں منعقدہ اس پرنور اجتماع گاہ کو خوبصورت برقی قمقموں اور پھولوں کی پتیوں سے سجایا گیا تھا۔ تقریب میں علاقہ بھر سے شائقینِ علمِ دین، معززینِ شہر، حفاظ، علماء اور عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اجتماع کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں نذرانہٴ نعتِ رسولِ مقبول پیش کر کے کیا گیا، جس کے بعد عرسِ اعلیٰ حضرت کی پُرنور یاد اور ان کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

اپنے بیان میں مفتی ہاشم خان عطاری نے اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان کی علمی، تصنیفی اور تجدیدی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی زندگی عشقِ رسولﷺ اور اتباعِ سنت کا بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے اپنے علم و قلم سے امتِ مسلمہ کے ایمان کی حفاظت کی اور شریعت و طریقت کی شمع کو روشن رکھا۔ آج ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے عقائد اور کردار کو مضبوط بنائیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ علمِ دین حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے باعثِ سعادت ہے اور جو طلباء آج فاضل ہو کر نکل رہے ہیں، ان پر معاشرے میں حق و صداقت کا پیغام عام کرنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اجتماع کی ایک خاص اور روح پرور کڑی دستارِ فضیلت کی تقریب تھی، جہاں دینی تعلیم مکمل کرنے والے فارغ التحصیل حفاظ اور علمائے کرام کے سروں پر مبارک عمامے (دستار) سجا کر ان کی افزائی کی گئی۔ شیوخ اور علمائے کرام نے طلباء کو مبارکباد دی، جبکہ ان کے گلے میں گلاب کے ہار پہنا کر ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

اجتماع کے اختتام پر مفتی ہاشم عطاری نے ربِ ذوالجلال کی بارگاہ میں عجز و انکسار کے ساتھ ملکِ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور امن و امان کے لیے خصوصاً دعا کی۔


دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ایک خصوصی مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس روحانی و تربیتی نشست کا مقصد محفلِ نعت، جلوسِ میلاد اور سنتوں بھرے اجتماعات میں سیکیورٹی کی خدمات سرانجام دینے والے احباب کی دینی و اخلاقی تربیت کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اہم نشست بروز اتوار، 26 صفر المظفر 1448ھ بمطابق 09 اگست 2026ء کو قریب رات 10:00 بجے منعقد ہوگی۔ اس پروگرام کو مدنی چینل پر براہِ راست (LIVE) نشر بھی کیا جائے گا تاکہ ملک و بیرونِ ملک سے وابستہ افراد بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔

انتظامیہ کی جانب سے محفلِ نعت، جلوسِ میلاد اور دیگر مذہبی اجتماعات کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھانے والے تمام شعبہ جات اور سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد سے فیضانِ مدینہ کراچی میں وقتِ مقررہ پر شرکت کی باقاعدہ اپیل کی گئی ہے۔


حجۃ الاسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ الرحمہ کی مبارک تعلیمات اور نصائح حکمت دانائی کا ایسا بہتا سمندر ہیں جو انسان کو دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلا کر آخرت کی فکر اور تزکیۂ نفس کی راہ دکھاتی ہیں۔

اسی سلسلے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 20 صفحات کا رسالہ ”امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط 02) “ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یا اللہ پاک! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”امام غزالی کی سنہری باتیں “ پڑھ یا سُن لے، اُس کا دل دنیا کی محبت اور گناہوں کی نحوسَت سے پاک کر دے اور اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطا فرما۔اٰمین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

یہ رسالہ آڈیو (Audio) میں سننے، پڑھنے اور اردو سمیت مختلف زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:


دین اسلام امن و سلامتی والا اور دین فطرت ہے جو معاشرے کو امن و سلامتی اور پرسکون بنانے کے اصول مہیا کرتا ہے اور زمین میں فساد پھیلانے سے روکتا ہے اور اس کی مذمت بیان کرتا ہے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر زمین میں فساد پھیلانے کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے آئیے ہم بھی اس کے متعلق چند آیات پڑھتے ہیں اور معاشرے کو پرسکون اور امن والا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

(‎‎1)منافقوں کا طرزِ عمل: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (پارہ 1، سورۃالبقرۃ:11،12)

تفسیر صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔(تفسیر صراط الجنان)

(2) اللہ عزوجل فسادکو پسند نہیں کرتا :وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔(پارہ 2، سورۃالبقرۃ : 205)

یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔(تفسیر صراط الجنان )

(‎‎3) اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلانا:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (پارہ 8، سورۃالاعراف : 56)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد  تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم  کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔(تفسیر صراط الجنان)

(‎‎4)مدد الٰہی سے محرومی : فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِۙ-السِّحْرُؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱)‎‎ترجمہ کنزالایمان : پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے اب اللہ اسے باطل کردے گا اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا۔ (پارہ11،سورۃ یونس ،آیت81)

(5) فسادیوں کے لیے لعنت :وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (پارہ 13،سورۃالرعد،آیت25)


قرآن کریم میں جابجا زمین میں فساد کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ فساد پھیلانے والا شخص جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم ہوسکتا ہے اور بسا اوقات فساد پھیلانے والے مختلف طرح کے لوگ ہوتے جیسے کچھ تو توحید کی آڑ میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں گستاخی کرتے اور کچھ تو قرآن کی آڑ میں حدیث کا انکار کرتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کہ نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدتریں کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ آزادی کے نام پر بے حیائی ،فن کے نام پر حرام افعال ،انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا ، ارو تہذیب کا نام لے کر اسلام اعتراض کرنا انکا کام ہوتا ہے ۔

اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرہ ، آیت نمبر11،12)

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین جب ایمان والوں سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہیں یعنی وہ صرف زبان سے ایمان لانے کی باتیں کرتے تھے اور باطن میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں تو اس لیے اللہ عزوجل نے انکے اس راز کو کھول دیا ہے۔

جنت کا مستحق کون؟ایک اور مقام پر اللہ عزوجل کاارشاد ہے :

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ (سورۃ القصص:آیت نمبر83)

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں جانے کے مستحق وہی ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اور نہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ گناہ کر کہ فساد چاہتے ہیں اور آخرت کا اچھا انجام پر ہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ(۷۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر آ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ (سورۃ الانفال: آیت نمبر73)

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اتحاد پیدا کریں ورنہ اس کی وجہ سے فساد کبیر پیدا ہوگا کیونکہ کفار تمام کے تمام آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور وہ مسلمانوں کے عدم اتحاد کی وجہ سے انکے درمیان فساد پھیلائیں گے۔لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے آپس میں باہمی تعلقات اپنائیں ۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن کریم اور احادیث کو صحیح طور پر سمجھنے کی اور دوسروں تک پہچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، عدل اور اصلاحِ معاشرہ کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں جہاں نیکی، تقویٰ اور بھلائی کی ترغیب دی گئی ہے، وہاں فساد فی الارض یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنے کی سخت مذمت بھی بیان کی گئی ہے۔ فساد سے مراد ہر وہ عمل ہے جو انسانی زندگی، معاشرتی نظام، اخلاقی اقدار اور امن و سکون کو نقصان پہنچائے۔ یہ ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، دھوکہ بازی، بددیانتی اور دیگر برے اعمال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃا لبقرۃ:11،12)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے برے اعمال کو بھی اچھائی کا نام دے کر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ فساد فی الارض کی ایک بڑی شکل ظلم و زیادتی ہے۔فساد فی الارض کی ایک بڑی مثال ہمیں قوم لوط کی بھی ملتی ہے کہ انہوں زمین میں اپنی بد اعمالیوں اور بد کاریوں سے زمین میں فساد پھیلایا تو اللہ تعالٰی نے ان پر عذاب نازل فرمایا قرآن میں ظالموں کے لیے سخت وعید سنائی گئی ہے اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔ اسی طرح قتلِ ناحق کو بھی بہت بڑا فساد قرار دیا گیا ہے۔ ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر بتایا گیا ہے، جو اس بات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی کتنی اہمیت ہے۔ معاشی بدعنوانی بھی فساد کی ایک اہم قسم ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا، رشوت لینا، دھوکہ دینا اور حرام ذرائع سے مال کمانا قرآن کی نظر میں سخت ناپسندیدہ اعمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو تنبیہ کی ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اسی طرح جھوٹ، غیبت اور بہتان بھی معاشرتی فساد کو جنم دیتے ہیں اور لوگوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کو بڑھاتے ہیں۔ قرآن مجید ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم برائی کو روکیں اور بھلائی کو فروغ دیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے تو معاشرہ خود بخود فساد سے پاک ہو سکتا ہے۔ اسلام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تصور اسی مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ آخر میں یہ کہنا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ فساد فی الارض ایک سنگین جرم ہے جس کی قرآن میں بار بار مذمت کی گئی ہے۔ ایک صالح معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں امن، عدل اور انصاف کا بول بالا ہو اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی تعلیمات کو اپنائیں اور ہر قسم کے فساد سے بچ کر ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔


اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فساد کی سخت مذمت بیان کی ہے قرآن مجید میں فساد فی الارض میں بہت زور دیا گیا ہے اس سے معاشرہ خراب ہوتا ہے یہ ایک بڑا گناہ ہے معاشرے میں ایسے شخص کو پسند نہیں کیا جاتا جو زمین میں فساد پھیلاتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی فساد کے متعلق فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ،آیت:11، 12)

اس کی تفسیر میں آتا ہے کہ اگران منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں ہمارے معاشرے میں دیکھا جائےکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جوکہتے ہیں ہم آپ کو دین سیکھاتے ہیں لیکن وہ بھی اصل میں فساد پھیلانے کے لیے بیٹھے ہیں ۔(صراط الجنان)

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (سورۃالمائدۃ: آیت33)

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاۙ-فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۳۶) فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘(۳۷)

ترجمہ کنزالایمان: مدین کی طرف اُن کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی اُمید رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو ۔ تو انہوں نے اُسے جھٹلایا تو اُنہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے ۔( سورۃالعنکبوت:37)

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔ (سورۃالشعرا:152)

اس آیت کی تفسیر میں آتاہےکہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان:جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا بدلہ ان کے فساد کا۔ (سورۃالنحل:آیت:88)

اسکی تفسیر میں آتا ہےاے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جن لوگوں نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور جو آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے لائے، اسے جھٹلایا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے روکا تو ہم قیامت کے دن جہنم میں انہیں اس عذاب سے زیادہ عذاب دیں گے جس کے وہ صرف اپنے کفر کی وجہ سے حقدار ہوئے تھے۔ انہیں دگنا عذاب اس لئے ہو گا کہ دنیا میں یہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیتے تھے۔