فساد فی
الارض سے مراد زمین میں ہر وہ عمل ہے جو انسانی زندگی کے توازن، اور امن و عدل کو
متاثر کرے اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو ہر
انسان کو امن، اور عدل و انصاف کا درس دیتا ہے۔ قرآن مجید میں بار بار ارشاد فرمایا
گیا ہے کہ انسان زمین میں فساد نہ پھیلائے، کیونکہ فساد پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا
ہے۔فساد فی الارض سے مراد ہر وہ عمل ہے جو نظامِ زندگی میں بگاڑ پیدا کرے، جیسے
ظلم، ناانصافی، قتل، جھوٹ ، رشوت، دھوکہ دہی اور حقوق العباد کی پامالی۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
((1 وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنزالایمان:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف: آیت نمبر 56)
(2) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا
اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)
ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ: آیت نمبر11)
((3 وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ
الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمہ کنز
الایمان: اور اللہ فساد سے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 205)
(4)وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنزالایمان: اور زمین
میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (القصص:77)
(5)ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ۔
ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان
برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں ۔(سورۃ الروم: 41)
(6) مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ
فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمۂ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے
بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ
المائدۃ: 32)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ فساد نہ صرف ایک گناہ ہے بلکہ ایک سنگین جرم ہے
جس سے اللہ تعالیٰ سخت ناراضگی فرماتا ہے۔
زمین میں فساد کیسے ختم ہوگا :((1رجوع الی اللہ((2عدل و انصاف((3 اصلاحِ نفس((4 تعلیم و تربیت
(5) امر بالمعروف ونہی عن المنکر ((6قانون کا نفاز((7 اتحاد و رواداری((8 امانت و دیانت۔
آج کے دور میں فساد کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں، جیسے کرپشن، جھوٹ، دھوکہ
دہی، رشوت اور ناانصافی۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو معاشرے کو تباہ کرتے ہیں۔ اگر ہم
قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں تو ایک پرامن اور مثالی معاشرہ قائم ہو سکتا
ہے۔اسلام فساد کی سخت مذمت کرتا ہے اور اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہر فرد
اپنے کردار کو بہتر بنائے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو زمین امن و سلامتی
کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ یہی قرآن و سنت کا حقیقی پیغام ہے۔
Dawateislami