اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، عدل، بھائی چارے اور انسانیت کی بھلائی کا درس دیتا ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ زمین میں فساد پھیلانے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے اور اسے ایک بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ فساد فی الارض سے مراد زمین میں ظلم، قتل و غارت، بدامنی، چوری، ڈاکہ، شرک، اخلاقی برائیاں اور معاشرتی بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ اسلام ایسے تمام اعمال کو سخت ناپسند کرتا ہے جو معاشرے کے امن کو خراب کریں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 205)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو ناپسند فرماتا ہے اور ان کے اعمال کو انسانیت کے لیے تباہ کن قرار دیتا ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ

ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں ۔(سورۃ المائدۃ: 33)

یہ آیت فساد فی الارض کی سنگینی کو واضح کرتی ہے کہ یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ اس کی سزا بھی سخت رکھی گئی ہے۔

قرآن کریم میں ایک اور جگہ فرمایا گیا:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف: 56)

یہ حکم انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اللہ نے زمین کو نظام اور توازن کے ساتھ بنایا ہے، لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اس میں بگاڑ نہ پیدا کرے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں:نبی کریم ﷺ نے بھی فساد اور ظلم سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 10)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچانا ایمان کے منافی ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2578)

یہ حدیث معاشرتی فساد، لڑائی جھگڑے اور نقصان پہنچانے کی سخت مذمت کرتی ہے۔

فساد فی الارض کے نقصانات:فساد فی الارض کے نتیجے میں معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے، لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں رہتا، انصاف ختم ہو جاتا ہے اور معاشی و اخلاقی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ اس سے نسلیں برباد ہوتی ہیں اور ملک ترقی کی بجائے زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسلام کا پیغام امن:اسلام کا بنیادی مقصد امن قائم کرنا ہے۔ قرآن نے بار بار اصلاح، صلح اور عدل کا حکم دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کو حقوق حاصل تھے۔