محمد
شاہزیب سلیم عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
،لاہور،پاکستان)
دین اسلام
امن و سلامتی والا اور دین فطرت ہے جو معاشرے کو امن و سلامتی اور پرسکون بنانے کے
اصول مہیا کرتا ہے اور زمین میں فساد پھیلانے سے روکتا ہے اور اس کی مذمت بیان
کرتا ہے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر زمین میں فساد پھیلانے کی مذمت کو بیان کیا
گیا ہے آئیے ہم بھی اس کے متعلق چند آیات پڑھتے ہیں اور معاشرے کو پرسکون اور
امن والا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(1)منافقوں کا طرزِ عمل: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین
میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ
فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (پارہ 1، سورۃالبقرۃ:11،12)
تفسیر صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا
کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور
صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں
ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو
کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں
اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی
کوپہچان سکیں۔(تفسیر صراط الجنان)
(2) اللہ عزوجل فسادکو پسند نہیں
کرتا :وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ
فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے
توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد
کو پسند نہیں کرتا۔(پارہ 2، سورۃالبقرۃ : 205)
یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت
بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں
جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں
لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں
اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔(تفسیر صراط الجنان )
(3) اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلانا:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمۂ
کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا
کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (پارہ 8،
سورۃالاعراف : 56)
تفسیر صراط الجنان: وَ لَا
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی
اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت
فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ
اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔(تفسیر صراط الجنان)
(4)مدد الٰہی سے محرومی : فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ
مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِۙ-السِّحْرُؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ
لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱)ترجمہ کنزالایمان : پھر جب
انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے اب اللہ اسے باطل کردے گا
اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا۔ (پارہ11،سورۃ یونس ،آیت81)
(5) فسادیوں کے لیے لعنت :وَ
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ
مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی
الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ
کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور
زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (پارہ
13،سورۃالرعد،آیت25)
Dawateislami