اللہ نے انسان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا تاکہ وہ عدل و امن قائم کرے۔ جب انسان اللہ کے نظام کو چھوڑ کر ظلم، قتل، اور گناہوں کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ فساد فی الارض کہلاتا ہے۔قرآن نے اسے اللہ اور رسول سے جنگ قرار دیا ہے اور اس کی سزا دنیا و آخرت میں سخت رکھی ہے۔ تمام انبیاء نے اپنی قوموں کو حکم دیا: وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۷۴)

ترجمہ کنز لایمان: اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔(الاعراف:74)

آج قتل و غارت، رشوت، اور ظلم کی شکل میں یہ فساد عام ہے۔ ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم مفسد بننے کے بجائے مصلح بنیں اور اللہ کے حکم :وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا پر عمل کریں۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔(المائدۃ:33)

جو لوگ اللہ رسول سے جنگ کرتے ہیں ، اللہ تعالی کے بندوں اور اس کے دوستوں کو ستاتے ڈراتے ہیں ،اسی طرح اللہ کی زمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں راستے بند کرتے ہیں ڈکیتی پر کمربستہ رہتے ہیں۔ ان کی سزا یہ ہے کہ اگر وہ صرف قتل کریں مال نہ لوٹیں تو ان سب کوضرور قتل کر دیا جائے کسی طرح معافی نہ دی جائے اور اگر قتل بھی کریں مال بھی لوٹیں تو ان کو سولی پر لٹکا دیا جاوے ۔اس طرح کہ ان زندہ کو اونچے درخت اونچی میخ پر بازار میں لٹکایا جائے ان کا پیٹ پھاڑ دیا جائے۔ پھر یونہی لٹکا رکھا جائے حتی کہ سوکھ جائے یا بگڑنے کا اندیشہ ہو جائے اور اگر صرف مال ہی لوٹیں کسی کو قتل نہ کریں تو ان کے دو طرفہ ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں کہ داہنا ہاتھ بایاں پاؤں کاٹا جائے اور اگر انہوں نے مسافروں کو صرف ڈرایا دھمکایا تو ہے مگر نہ کسی کوقتل کیا نہ کسی کا مال لوٹا تو انہیں ان کے گھر بار سے نکال دیا جائے اس طرح کہ انہیں جیل میں ڈال دیا جائے حتی کہ صحیح تو بہ کریں ۔ یہ تو ان کی دنیاوی سزائیں ہیں ، اخروی سزا اس کے علاوہ ہے ۔ ان کے لئے سخت عذاب اور ذلت خواری ہے ۔ ہاں جو ڈا کو گرفتار ہونے سے پہلے ہی از خودتو بہ کرلیں گزشتہ پر نادم آئندہ کے لئے عہد کر لیں تو وہ اخروی سزا سے بھی بچ جائے گے اور دنیاوی مذکورہ سزا سے بھی بچ جائیں گے۔ ہاں قتل ناحق کاقصاص ، لوٹا ہوا مال واپس کرنا ان پر لازم ہوگا کہ یہ سزا شرعی نہیں بلکہ حق عباد ہے۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ حق خواہ اللہ تعالیٰ کا ہو یا شریعت کا یا بندے کا ، بہر حال اس کے لئے ضروری ہے کہ مارا ہوا حق ادا کرے۔ جو سزا یا کفارہ ہو وہ اسے پورا کرے۔ ساتھ میں تو بہ بھی کرے ورنہ آخرت کی سزا سے بچنا مشکل ہے۔ نمازیں رہ گئی ہیں تو قضا بھی کرے توبہ بھی ۔ روزہ توڑا ہے تو قضا و کفارہ بھی دے توبہ بھی کرے۔ چوری کی ہے تو ہاتھ بھی کٹیں اورتو بہ بھی کرے۔ زنا میں پکڑا گیا ہے تو رجم بھی ہو تو بہ بھی کرے۔ ڈکیتی کی ہے تو یہ سزا میں بھی بھگتے تو یہ بھی کرے۔ ہاں اگر زانی چور ڈا کو خود ہی عدالت میں حاضر ہو کر سزا لے لیں تو ان کی یہ حاضری ہی تو بہ میں شمار ہے۔ حضرت ماعز کے متعلق حضور نے فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ پر تقسیم ہو توسب بخشے جاویں۔ جناب ماعز کی حاضری عدالت اور اقرار زنا کو تو بہ قرار دیا۔(تفسیر نعیمی پارہ نمبر 6 آیت نمبر 33 صفحہ نمبر 387)