21 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
59 days ago

وقت اللہ پاک کى بہت بڑى نعمت ہے کہ جس کى قدر وا ہمىت کو جان کر اسے اچھے کاموں مىں استعمال کرکے دنىا و آخرت مىں بڑى کامىابى حاصل کى جاسکتى ہے، ىہ اصل حقىقت ہے کہ گىا وقت لوٹ کر نہىں آتا۔ اور ىہ حقىقت بھى واضح ہے کہ دنىا مىں جن لوگوں نے وقت کى قدر کى انہوں نے بہت اہم کام انجام دىئے اور کامىابى نے ان کے قدم چومے اور جنہىں اسے غفلت مىں گزارا انہىں ناکامى کا منہ دىکھنا پڑا۔

وقت کى اہمىت شخصىت کا نور ہے اىک دانا کا قول ہے کہ تمام نعمتىں اور دولتوں مىں سے قىمتى دولت وقت ہے، کہ دنىا کى ہر اىک نعمت دوبارہ حاصل کرنا ممکن ہے لىکن جو وقت اىک بار گزر گىا وہ کبھى لوٹ کر نہىں آئے گا۔

دىن اسلام مىں وقت کى اہمىت :

ہمارے دىن اسلام مىں وقت کو بہت اہمىت حاصل ہے کہ عبادتوں کو وقت پر ادا کرنا بندے پر فرض ہے، جیسے نماز ، روزہ، حج اور دىگر عبادتىں کہ ان کى ادائىگى مقررہ وقت پر لازم ہے، قرآن کرىم مىں رب تعالىٰ فرماتا ہے:

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳)

تَرجَمۂ کنز الایمان:بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔ (سورہ نسا آىت۱۰۳)

زندگى قىمتى سرماىہ ہے :

ہمارى زندگى کا اىک اىک لمحہ قىمتى سرماىہ ہے اگر ہم نے اسے بے کار ضائع کردىا تو سوائے حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہىں آئے گا، ہمىں ىہ بات ىاد رکھنى چاہىے کہ رب تعالىٰ نے انسان کو اىک خاص مقصد کے تحت دنىا مىں بھىجا ہے رب تعالىٰ صورت و پىدائش کا سبب قرآن پاک مىں ارشاد فرماتا ہے:

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا

تَرجَمۂ کنز الایمان:وہ جس نے موت و زندگى پىدا کى کہ تمہارى جانچ ہو تم مىں کس کا کام زىادہ اچھا ہے۔ (سورہ ملک: ۲)

احادىث مبارک:

پىارے پىارے آقا مکى مدنى مصطفى صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے امتىوں کو وقت کى اہمىت کى تعلىم دىتے ہوئے ارشاد فرماىا:

۱۔روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اعلان کرتا ہے کہ اگر آج کو ئى اچھا کام کرتا ہے تو کرلو آج کے بعد مىں کبھى پلٹ کر نہىں آؤں گا۔(شعب الاىمان حدىث ۳۸۴۰)

اے کاش ہمىں اس بات کا احساس ہوجائے کہ ہم روز بروز اپنی موت کے قرىب ہوتے جارہے ہىں ہر گزرتا لمحہ ہمىں موت کى طرف لے جارہا ہے

مرتے جاتے ہىں ہزاروں آدمى

عاقل وو نادان آخر موت ہے

۲۔اہل جنت افسوس کرىں گے :

تاجدار مدىنہ قرار قلب و سىنہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ باقرىنہ ہے کہ اہل جنت کو کسى چىز کا فسوس نہ ہوگا سوائے اس ساعت ( گھڑى) کے جو دنىا مىں اللہ کے ذکر کے بغىر گزرگئى۔

۳۔لوگ دو معاملے مىں دھوکے مىں ہىں:

پىارے آقا مکى مدنى مصطفى صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالى شان ہے کہ دو نعمتىں اىسى ہىں جن کے بارے مىں لوگ دھوکے مىں ہىں اىک صحت اور دوسرى فراغت۔(صحىح البخارى ج ۴، حدىث، ۶۴۱۲)

حقىقت ہے کہ صحت کى قدر بىمارى ہى کرسکتا ہے اور وقت کى قدر وہى سمجھ سکتا ہے جو بے حد مصروف ہو ورنہ جو لوگ فارغ ہوں انہىں کىا معلوم کہ وقت کىسى قىمتى چىز ہے۔

اسلاف کرام کے ارشادات:

حضرت حسن بصرى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہفرماتے ہىں :

اے آدمى تو اىام ( دنوں) ہى کا مجموعہ ہے جب تک اىک روز گزر جائے تو ىوں سمجھ کہ تىرى زندگى کا اىک حصہ گزر گىا۔ (الطبقات الکبرىٰ ج ۱)

علامہ ذہبى، خطىب بغدادى کے بارے مىں تحرىر فرماتے ہىں کہ آپ راہ چلنے مىں بھى مطالعہ جارى رکھىں (تاکہ آنے جانے کا وقت بے کار نہ جائے)۔

غور تو کىجئے کہ وہ عظىم الشان جن کے شب و روز صرف نىکىوں مىں گزرتے تھے وہ وقت کے کبھى قدر کرنے والے تھے کہ اىک لمحہ بھى فارغ گزارنا انہىں گوارا نہ تھا، اور آج ہمارا حال ہے کہ روزانہ کچھ گھنٹے فضول باتوں مىں ضائع کرنے پر بھى افسوس نہىں ہوتا۔

زندگى کى مثال برف جىسى ہے :

اىک بزرگ فرماتے ہىں کہ مىں نے سورہ عصر کا مطلب اىک برف فروش ( بىچنے والے) سے سمجھا جو بازار مىں آؤاز لگا رہا تھا کہ ااس شخص پر رحم کرو جس کا سرماىہ گھلا جارہا ہے تب مىرى سمجھ مىں والعصر ان الانسان لفى خسر، کا مطلب آگىا واقعى عصر کى جو نصىحت انسان کو دى گئى ہے وہ برف کى طرح تىزى سے پگھل رہى ہے اس کو بے کار برباد کرنا اور فضول کاموں مىں اپنا ہى انسان کا خسارہ ہے۔(تفسىر جلالىن سورہ العصر)

حاصل الکلام :

خلاصہ کلام ىہ ہے کہ ہمىں اس دنىا مىں کہىں مختصر وقت کے لىے رہنا ہے اور اسى مختصر وقت مىں قبر و حشر کے طوىل ترىن معاملات کى تىارى کرنى ہے لہذا ہمارا وقت بہت قىمتى ہے ىہ تىز رفتار گاڑى کى طرح فراٹے بھرتا ہوا جارہا ہے نہ روکے رکتا ہے اور نہ پکڑنے پر ہاتھ آتا ہے کاش کہ ہمىں وقت کى قدر کرنا نصىب ہوجائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ىہ سانس کى مالا بس اب ٹوٹنے والى ہے

غفلت سے مگر دل کىوں بىدار نہىں ہوتا