21 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
59 days ago

حکایت:

کلاس میں موجود ایک طالب العلم نے استاذ سے سوال کیا کہ وقت کی اہمیت کو کیسے جانے؟

استاذ نے کہا؟ پیارے طالب العلم میں آپ کو ایک حکایت سے سمجھاتا ہو،ایک مرتبہ دو شخصوں کو دو گھنٹے فرصت کے ملے،سوچ میں پڑ گئے اب کیا کیا جائے؟ تو ایک شخص(دینی)کتاب پڑھنے میں لگ گیا تو دوسرا موبائل میں وقت کو گزارنے لگا،ایک کتاب پڑھتا رہا تو دوسرا موبائل میں وقت کو ضائع کرتا رہا،دوگھنٹے پورے ہوگئے،وقت دونوں کا گزر گیا،لیکن سوال یہ ہے کہ فائدہ میں کون رہا ہے؟یقینا جواب کتاب والےکے حق میں دیا جائےگا،وقت تو گزر جاتا ہے چاہے صحیح استعمال کرے یا نہ کرے،فائدہ میں وہی ہے جس نے وقت سے فائدہ اٹھا لیا کامیاب وہی کہ جس نے وقت کو کامیاب بنا لیا۔

پیارے اسلامی بھائیو! اس فرضی حکایت سے وقت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

زندگی کے شب و روز:

وقت اللہ پاک کی ایک ایسی نعمت ہے جو ملتی تو ہر شخص کو ہے چاہے وہ دینی شخص ہو یادنیاوی،امیر ہو یا غریب،بڑا ہو یا چھوٹا،استاذ ہو یاشاگرد لیکن اس کے گزارنے میں تقریباہر ایک کااختلاف(فرق) ہوتا ہےکوئی وقت کو پڑھائی میں گزارتا ہے،تو کوئی سوشل میڈیاپر،کوئی ذکر اللہ کی محفل میں گزارتا ہے،تو کوئی دنیاوی گپ شپ کی بیٹھک میں،کوئی رب کو راضی کرنے میں گزارتا ہے تو کوئی دنیا کو راضی کرنےمیں۔

وقت تو گپ شپ میں گزر جاتا ہے لیکن زندگی میں مقام و مرتبہ اسی کو حاصل ہوتا ہے جس نے وقت کی قدر اس کو دنیا میں وہ مقام ملتا ہے کہ صدیاں گزر جاتی ہے،پھر بھی ان کا نام تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے،آپ امام اعظم کو دیکھ لیں یا امام مسلم کو، امام شافعی کو دیکھ لیں یا امام بخاری کو،امام اہلسنت کو دیکھ لیں یا پھر صدر الافاضل کو،حکیم الامت کو دیکھ لں یا پھر حافظ ملت، جتنے بھی عمل خیر(نیک عمل) میں حصہ ڈالنے والی شخصیات ہیں ان کی سیرت میں ایک نمایاں وصف ",وقت کی قدر "بھی ہوتا ہے جو ان کو بلند بالا(بہت اونچے) مقام پر فائز کردیتا ہے

وقت کی قدر قدردانوں سے پوچھو:

وقت کی قدر قدردانوں سے پوچھو کہ وہ کیسے ایک ایک لمحے کو ضائع ہونے سے بچاتے تھے

جیسا کہ حافظ ابن عساکر", تبیین کذب المفتری" میں فرماتےہیں:پانچویں صدی کے مشہور بزرگ حضرت سیدنا سلیم رازی علیہ الرحمۃ کا قلم جب لکھتے لکھتے گھس جاتا تو قط لگاتے یعنی نوک تراشتے اگرچہ دینی تحریر کے لیے یہ بھی ثواب کا کام ہے مگر آپ علیہ الرحمۃ ذکر اللہ شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صرف قط لگاتے ہوئے ہی صرف نہ ہو۔ (ماہنامہ ضیائے طیبہ،اپریل2018)

جنتیوں کی حسرت:

وقت کی اہمیت کیوں ضروری ہے اس بارے میں حدیث مبارک دیکھئےکہ ،"جنتی لوگ کسی چیز پر حسرت نہیں کریں گےسوائے ان ساعتوں(گھڑیوں) کے جو انہوں نےدنیا میں اللہ کے ذکر کے بغیر صرف کردیں۔(مراۃ المناجیح،ج7،ص1،نعیمی کتب خانہ)

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم وقت کی قدر کرتے ہوئے خدا و رسول(صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یاد میں گزاریں کہ۔

سانسوں کی مالا بس ٹوٹنے ہی والی ہے