ندیم احمد ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی
کراچی ، پاکستان)
یقیناً
ہر مسلمان پر یہ عقیدہ رکہنا ضروری ہے کہ ہم مرنے کی بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے
اور اس بات پر ایمان لانا واجب ہے قیامت کے دن لوگوں سے حساب لیا جائے گا نیک
لوگوں کو انکا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا جبکہ برے لوگوں کو انکا نامہ
اعمال الٹے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے میزان حق ہے
اس پہ لوگوں کہ اعمال تولے جائیں گے اسکے علاؤہ جنت اور دوزخ پر ایمان لانے ضروری
ہے ۔
قیامت
کے دن کوئی جان کسی کو نفع بخش نہیں ہوگی:قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ
وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ-وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ
وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ
بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ(۳۳)
ترجمہ
کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنے
بچہ کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی کامی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بیشک الله کا
وعدہ سچا ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں الله کے حلم
پر دھوکا نہ دے وہ بڑا فریبی۔(سورۃ لقمان : آیت 33)
اس
آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یقیناً ہر انسان کو کو مرنے کے بعد دبارہ اٹھایا جائے
گا اسے چاہیے کہ قیامت کے دن سے خوف کرے جس دن ہر انسان نفسی نفسی کہتا ہو گااور
باپ بیٹے کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آ سکے گا ، نہ کافروں کی مسلمان اولاد انہیں
فائدہ پہنچا سکے گی نہ مسلمان ماں باپ کافر اولاد کو- بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ
سچا ہے ا ورایسا دن ضرور آنا ہے۔
قیامت
کے دن کو جھٹلانے والوں کا انجام:اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
ہے: بَلْ كَذَّبُوْا
بِالسَّاعَةِ- وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان:بلکہ یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے
لیے تیار کر رکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ- (سورۃ: الفرقان: آیت 11)
اس
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں انکے لیے اللہ تبارک و
تعالیٰ نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے :
کفار
قیامت کے دن کس کو پکارے گئے:اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ
اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَۚ-اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۴۰)
بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ
تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠(۴۱)
ترجمہ
کنز الایمان:تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا
اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے اگر سچے ہو۔ بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے
جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے۔(سورۃ الانعام آیت
نمبر40اور41)
اس
آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اگر ان پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا وہ
اللہ کے سوا کسی اور پکارے گئے ان کو مخاطب کر کے فرمایا اگر تم سچے ہو تو انکو
پکارو جن جھوٹے معبودوں کی تم پوجا کرتے تھے ہتاکہ وہ اپنے ان معبودوں کو بھی بھول
جائیں گے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں -
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قیامت کی حولناکیوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں حضور ﷺ کی
شفاعت نصیب فرمائے اور ہماری بے حساب مغفرت فرمائے آمین یارب العالمین
Dawateislami