دنیا
کی زندگی ایک عارضی امتحان ہے اور اس کے بعد سب کو قیامت کے دن ربّ العالمین کے
حضور حاضر ہونا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار قیامت کے احوال بیان فرمائے
تاکہ بندہ دنیا کی غفلت سے نکل کر اپنی آخرت کی تیاری کرے۔
قیامت
کا برپا ہونا:قیامت اچانک برپا ہوگی، ساری کائنات کی بساط لپیٹ دی
جائے گی۔ قرآن میں ہے: اِذَا
الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) ترجمۂ کنز الایمان: "جب
سورج لپیٹا جائے گا" (التکویر: 1) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) ترجمۂ
کنز الایمان: "اور جب ستارے جھڑ جائیں گے" (الانفطار: 2) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳)
ترجمۂ کنز الایمان: "اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے" (التکویر:
3)
آسمان
پھٹ جائیں گے، زمین کانپ اُٹھے گی اور سمندر بھڑک اُٹھیں گے۔
قیامت
کی ہیبت:یہ دن نہایت ہیبت ناک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان: جس
دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی
اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور
وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔ (الحج: 2)
اے
عاشقانِ رسول ﷺ!قیامت کا دن برحق ہے، اس کے ہولناک احوال قرآنِ عظیم میں بار بار بیان
کیے گئے تاکہ ہم غفلت سے جاگ جائیں۔ یاد رکھئے! دنیا چند روزہ ہے، مال و دولت، عیش
و آرام سب یہیں رہ جانا ہے، قبر کے بعد تنہا ساتھ دینے والی چیز صرف ایمان اور نیک
اعمال ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہئے کہ گناہوں سے بچیں، نماز قائم کریں، قرآن کی تلاوت اور
خدمتِ دین کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں، تاکہ قیامت کے دن حضور ﷺ کی شفاعت نصیب
ہو اور ہم جنت الفردوس کے وارث بنیں۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں قیامت کی سختیوں سے محفوظ فرمائے اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے میں
جنت کا پروانہ عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الأمین ﷺ
Dawateislami