ابن رفیق محمد شفیق عطّاری ( جامعۃ المدینہ فيضان عثمان غنى کراچی ، پاکستان)
دنیا
کی زندگی کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، ایک دن ختم ہو کر رہے گی۔ وہ دن جسے قرآن مجید
نے بار بار یاد دلایا، جسے یوم القیامۃ، یوم الدین، یوم الحشر اور یوم الحسرة کے
ناموں سے پکارا گیا ہے۔ قیامت کا ذکر انسان کو غفلت سے جگاتا اور عمل کی طرف متوجہ
کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں قیامت کے ہولناک مناظر اور اس کے مختلف پہلوؤں کو نہایت
بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں چند آیات کے ذریعے قیامت کے احوال ملاحظہ
ہوں۔
آسمان
پھٹ پڑے گا:ارشادِ باری تعالیٰ ہے اِذَا السَّمَآءُ
انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ
فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ (۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا
قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ
جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی
جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔ (الانفطار:1تا 5)
تفسیرِ
خازن میں ہے : جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی
جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور
جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر
مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال
دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا
اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)
قیامت
کا ایک نام القارعہ: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا
الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ
النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ
الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان:دل دہلانے والی کیا وہ دہلانے والی اور
تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی،جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے،اور پہاڑ
ہوں گے جیسے دھنکی (دھنی ہوئی)اون۔ (القارعۃ: 1تا 5)
تفسیرِ
خازن میں ہے : قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کا یہ نام اس لئے
رکھا گیا کہ اس کی دہشت ،ہَولْناکی اور سختی سے (تمام انسانوں کے) دل دہل جائیں گے
کیونکہ دل دہلا دینے والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے بلند و بالا اور مضبوط
ترین پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اس طرح اڑتے پھریں گے
جس طرح رنگ برنگی اُون کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں تو ا س وقت کمزور
انسان کا حال کیا ہو گا!( خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۴۰۳)
زلزلے
کی شدت: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ
اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ
کنزالعرفان:جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔اور زمین اپنے
بوجھ باہر پھینک دے گی۔ (الزلزال:1تا 2)
تفسیرِ
خازن میں ہے : جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی
درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز
ٹوٹ پھوٹ جائے گی اورجب زمین اپنے اندر موجود خزانے اور مردے سب نکال کر باہر پھینک
دے گی۔ یاد رہے انسان اور جِنّات بوجھ والے وجود ہیں جب تک زمین کے اوپر موجود ہیں
تو وہ زمین پر بوجھ ہیں اور جب زمین کے اندر ہوں تو زمین کے لئے بوجھ ہیں اسی وجہ
سے انسانوں اور جِنّات کو ثَقَلَین کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مردہ ہوں یا زندہ زمین
ان کا بوجھاٹھاتی ہے۔( خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۴ /
۴۰۰-۴۰۱)
قیامت
کا دن وہ عظیم دن ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآنِ کریم میں دی تاکہ
انسان غفلت سے جاگے اور عمل کی طرف متوجہ ہو۔ اس دن نہ مال کام آئے گا، نہ رشتہ
دار اور نہ ہی دنیاوی تعلقات، بلکہ ہر ایک کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ خوش
نصیب وہی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں ایمان اور نیک اعمال کا سرمایہ جمع کیا۔ اللہ
پاک ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت
الفردوس میں داخلہ عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami