جیسے
دنیاوی امتحان کے لیے بندے اس کشمکش میں ہوتے ہیں کہ ہم اچھے نمبروں سے پاس ہو جائیں
اچھی گریڈ پا جائیں اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اخروی امتحان کے لیے بھی تیاری کریں
تاکہ ہم ادھر بھی اچھے گریڈ حاصل کر کے جنت کی طرف روانہ ہو جائیں جیسا کہ اللہ تعالی قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ
کنزالایمان:جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے اور جب سمندر بہا دیے
جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی ہر جان کو معلوم ہو جائے گا جو اس نے اگے بھیجا
اور جو پیچھے چھوڑا۔(سورۃ الانفطار ایت نمبر 1 تا 5)
اس آیت مبارکہ اور اس کے بعد والی چار ایات میں
قیامت کے احوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب اسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لیے
پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑکے گر پڑیں گے جس طرح پروئے
ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم اٹھ دوڑ کر کے انہیں بہا دیا
جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہو جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں
گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہو جائے
گا جو اس نے نیک یا برا عمل اگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی ایک قول یہ ہے
کہ جو اگے بھیجا ہے اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑا اس سے میراث مراد ہے
(روح البیان٫الانفطار٫تحت الایت 5ـ1)
اور
یہ جاننا اعمال نامے پڑھنے کے ذریعے ہوگا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ
تعالی نے ارشاد فرمایا
ترجمہ
کنز العرفان اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگا دیا اور ہم اس کے لیے قیامت
کے دن ایک نامہ اعمال نکالیں گے جس سے وہ کھلا ہوا پائے گا فرمایا جائے گا کہ اپنا
نامہ اعمال پڑھ اج اپنے متعلق حساب کرنے کے لیے تو خود ہی کافی ہے (بنی اسرائیل:
13/14)
جیسا
کہ ہمیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو کچھ بھی ہم دنیا میں رہ کر کریں گے چاہے وہ نیک
اعمال ہو یا وہ توبہ نعوذ باللہ برا اعمال ہو یقینا اس کا حساب ہمیں ضرور دینا ہے
دینا ہوگا اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیں اچھے سے اچھا اعمال کریں اور برے کاموں سے
بچنے کی کوشش کریں ۔ جو کچھ سنا اللہ پاک اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
Dawateislami