قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے احوال کو نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان فرمایا ہے تاکہ انسان عبرت حاصل کرے اور اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری کے ساتھ بسر کرے۔ قیامت کا دن وہ عظیم دن ہے جب زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوگا، قبروں سے انسان اٹھائے جائیں گے، اعمال نامے کھولے جائیں گے اور عدلِ الٰہی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ قرآن مجید جگہ جگہ اس دن کے ہولناک مناظر اور انسان کے انجام کو بیان کر کے یہ حقیقت اجاگر کرتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت ہی کی ہے۔  اللہ پاک نے قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر قیامت کے احوال بیان کئے ہیں۔ آئیے اس کے متعلق کچھ جانتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ عزوجل ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔( پارہ 30 ، سورۃ الزلزال ، آیت 1)

ایک اور مقام پر بیان ہوا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ: اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:"بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ۔"( پارہ 30 ، سورۃ النبا ، آیت 17٫18)

دوسرے مقام پر بیان ہوا ۔ارشاد باری تعالیٰ عزوجل: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:"پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔ " (پ29،القیامۃ،7تا 9)

قیامت کے احوال کا قرآنی بیان ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان اپنے رب کی اطاعت اور نافرمانی کے انجام کو کبھی نہ بھولے۔ وہ دن ایسا ہوگا جہاں نہ مال ساتھ دے گا نہ اولاد، بلکہ صرف ایمان اور نیک اعمال ہی کامیابی کا ذریعہ ہوں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قرآن کے پیغام سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو تقویٰ، عبادت اور اعمالِ صالحہ سے سنواریں تاکہ قیامت کے دن اللہ کی رحمت اور بخشش کے مستحق بن سکیں۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ