احمد رضا بن ذیشان ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
اللہ
پاک نے اپنی حکمت کاملہ کے مطابق اس دنیا کو پیدا فرمایا اور جس طرح ہر چیز کے لیے
ایک عمر مقرر ہے کہ اتنے وقت ہی وہ باقی رہتی ہے پھر فنا ہو جاتی ہے ایسے ہی دنیا
کی ایک عمر اللہ عزوجل کے علم میں مقرر ہےاس کے پورا ہونے کے بعد دنیا فنا ہو جائے
گی. زمین و آسمان، آدمی، جانور کوئی بھی باقی نہ رہے گا اسی کو '' قیامت '' کہتے ہیں.
اب
یہ کب قائم ہوگی اس کا علم تو خدا کو ہے اور اس کے بتانے سے حضور ﷺ کو ہے. قیامت
کا معاملہ انتہائی اہم اور ہولناک ہے، یہاں قیامت کے چند احوال و ہولناکیاں بیان کی
جا رہی ہیں کیونکہ انسان جب ان احوال اور ہَولْناکیوں کے بارے میں سنے گا تو اس کے
دل میں خوف پیدا ہو گا اور اسی خوف کی وجہ سے وہ دلائل میں غورو فکر کرنے ،کفر سے
منہ موڑ کر ایمان قبول کرنے، لوگوں پر تکبر کرنا چھوڑ دینے اور ہر ایک کے ساتھ
عاجزی واِنکساری کے ساتھ پیش آنے کی طرف مائل ہو گا۔
زمین
کا زلزلہ: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ
کنز الایمان :جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(سورۃالزلزال،آیت
01)
اس
آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور
زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی
شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک
ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: 1 ،4 /400)
قیامت کا زلزلہ کتنا ہَولْناک ہے اس کے بارے میں
ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ
عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ
تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ
بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو
،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی
کہ)ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا
حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں
ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے.
(سورۃ
الحج، آیت 1،2)
مخلوق
کا انتشار: یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ
الْمَبْثُوْثِۙ(۴) ترجمہ
کنز الایمان :جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے(سورة القارعۃ، آیت 04)
اس آیت میں قیامت کے دن قبروں سے اٹھتے وقت
مخلوق کے اِنتشار کو پھیلے ہوئے پروانوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح پروانے
شعلے پر گرتے وقت مُنتَشِر ہوتے ہیں اور ان کے لئے کوئی ایک جہت مُعَیَّن نہیں ہوتی
بلکہ ہر ایک دوسرے کے خلاف جہت سے جاتا ہے یہی حال قیامت کے دن مخلوق کے اِنتشار
کا ہو گا کہ جب انہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا تو وہ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح مُنتَشِر
ہوں گے اور ہر ایک دوسرے کے خلاف جہت کی طرف جا رہا ہو گا( خازن، القارعۃ، تحت
الآیۃ: 4 ،4 /403)
پہاڑ
ریزہ ریزہ: وَ تَكُوْنُ
الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان :اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی
اون(سورة القارعۃ، آیت 05)
آیت
مبارکہ میں قیامت کے دن پہاڑ کی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ دل دہلا دینے
والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے بلند و بالا اور مضبوط ترین پہاڑوں کا یہ حال
ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح رنگ برنگی اُون
کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں تو ا س وقت کمزور انسان کا حال کیا ہو گا!
(
خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: 5 ،4 /403، روح البیان، القارعۃ، تحت الآیۃ: 5 ،10
/500، ملتقطاً)
آسمان
کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ
بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان : جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں
اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے(سورة
الانفطار، آیت 1 تا 5)
ان
آیات طیبہ میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں
کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں
گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے
انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں
کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو
معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔(
روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: 1 - 5، 10 / 355 - 366، خازن، الانفطار، تحت
الآیۃ: 1 - 5 ،4 /358، ملتقطاً)
اللہ
پاک ہمیں قیامت کے دن کی تیاری کرتے ہوئے اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
آمین
Dawateislami