قیامت کا دن جسے یومِ حشر بھی کہا جاتا ہے، وہ وقت ہے جب یہ دنیا اپنے انجام کو پہنچے گی۔ یہ ایک ایسا دن ہو گا جس کا تصور ہماری عقل سے بالا تر ہے۔ قرآن و حدیث میں اس دن کے احوال کا ذکر بڑے دل دہلا دینے والے انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ دن حساب و کتاب کا دن ہو گا، جب ہر شخص کو اس کی نیکیوں اور برائیوں کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ آئے گی : فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ (۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنز العرفان:پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپاوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔سورۃ عبس آیت نمبر (33تا37)

یہاں سے قیامت کی ہو ناکیاں بیان کی جا رہی ہیں کیونکہ انسان جب ان ہوناکیاں کے بارے میں سنے گا اس کے دل میں خوف پیدا ہوگا اور اسی خوف کی وجہ سے وہ دلائل میں غور و فکر کرنے کفر سے منہ موڑ کر ایمان قبول کرنے لوگوں پر تکبر کرنا چھوڑ دینے اور ہر ایک کے ساتھ عاجزی انکساری کے ساتھ پیش انے کی طرف مائل ہوگا۔ (تفسیر صراط الجنان سورت عبس آیت نمبر (33تا37) جلد دسویں صفحہ (نمبر 543)