اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اچھے اور برے اعمال کے حساب کے لیے ایک عظیم دن مقرر فرمایا ہے، جس دن وہ اپنے نیک بندوں کو بے شمار انعامات سے نوازے گا اور گناہگاروں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس دن کو یوم القیامہ کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جز ہے۔

قرآنِ کریم میں اس دن کو مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے، جیسے:

یومُ الساعۃ

یومُ الحساب

یومُ المیزان

یومٌ عظیم

اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما کر ہمیں عبرت حاصل کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔

قرآن کریم میں قیامت کے مناظر:

1۔ قیامت کی ہولناکیاں: اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ(۴) وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ(۶) ترجمہ کنزالایمان:جب زمین زور سے ہلائی جائے گی، اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے تو وہ بکھرے ہوئے غبار کی طرح ہو جائیں گے۔(الواقعہ 4-6، پ 27)

تفسیر:قیامت کے دن زمین زلزلے سے کانپے گی، پہاڑ ستو کی طرح ریزہ ریزہ ہو کر فضاؤں میں غبار کی طرح اڑ جائیں گے۔

2۔ صور میں پھونکا جانا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمہ کنزالایمان:صور میں پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین میں جو ہیں سب مر جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور دیکھنے لگیں گے۔(الزمر 68، پ 24)

تفسیر:پہلی بار صور پھونکے جانے سے ہر جاندار مر جائے گا، دوسری بار صور پھونکے جانے سے سب زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

3۔ دل دہلا دینے والا دن: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴)ترجمہ کنزالایمان:وہ کھڑکھڑانے والی قیامت! تجھے کیا معلوم وہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے اس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح ہو جائیں گے۔ (القارعہ 1-4، پ 30)

اے قارئین کرام! یہ چند آیات اس حقیقت کو واضح کر رہی ہیں کہ قیامت کا دن یقینی ہے۔ دنیا فانی ہے، اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا، اور جو غفلت میں ڈوبا رہا وہ نقصان اٹھائے گا۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان آیاتِ کریمہ سے عبرت حاصل کریں، اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں بسر کریں، اور آخرت کی تیاری میں مشغول رہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے کلام سے نصیحت حاصل کرنے، ایمان پر استقامت پانے اور آخرت میں کامیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ