محمد عمر رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
قیامت،
جسے یومِ حشر، یومِ حساب اور یومِ الدین بھی کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کا سب سے
بڑا اور فیصلہ کن واقعہ ہے. قرآنِ کریم میں اس کا ذکر بار بار اور مختلف پہلوؤں سے
کیا گیا ہے، تاکہ انسان اس کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگی کو اس
کے مطابق ڈھال سکیں. قرآن میں قیامت کے جو احوال بیان کیے گئے ہیں، وہ صرف ڈرانے
کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے، انہیں انصاف، عدل اور اخلاقی ذمہ
داری کا احساس دلانے کے لیے ہیں۔
(1)
بات کریں گے: اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ
تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ
(۶۵) ترجمۂ کنز الایمان:آج ہم ان کے مونھوں پر مہر
کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں
گے۔(سورۃ یٰس آیت 65)
(2)
آسمان شق ہوگا : اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ
لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا
وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب
کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں
ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔(سورۃ
انشقاق آیات1,2,3,4,5)
(3)
مصیبت کی خبر آئی : هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی
خبر آئی جو چھا جائے گی۔(سورۃ غاشیہ آیت 1)
(4)
سفارش کام نہ آئی: وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ
نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا
عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ(۴۸) ترجمہ
کنزالایمان:اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی اور نہ
کافر کے لئے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ
ان کی مدد ہو۔(سورۃ بقرہ آیت 48)
(5)سور
کا پھونکنا : فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ
الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶)
لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے
والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں
سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔(سورۃ عبس آیات
33,34,35,36,37,)
Dawateislami