حافظ محمد روحان طاہر (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
مجید میں قیامت کا ذکر بار بار آیا ہے تاکہ انسان اپنی زندگی کو آخرت کی جواب دہی
کے شعور کے ساتھ گزارے۔ قیامت کے دن انسان کے اعمال کا حساب ہوگا، نیکوکار کو جنت
اور بدکار کو جہنم ملے گی۔ ذیل میں قرآن مجید کی روشنی میں قیامت کے پانچ اہم
احوال پیش کیے جاتے ہیں:
(1)زمین
و آسمان کا ہل جانا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان : جب زمین
تھرتھرادی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔(پارہ 30 سورت الزلزال آیت 1 )
یعنی جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی
اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی
شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔
(2)
صور پھونکا جانا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی
السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ
اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمہ
کنزالایمان : اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ
چاہے پھر
وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں
گے ۔(سورۃ الزمر، آیت 68، پارہ 24)
(3)قبروں
سے اٹھنا: وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) ترجمہ کنزالایمان : اور جب قبریں
کریدی جائیں۔ (سورۃ الانفطار، آیت 4، پارہ 30)
(
4)اعمال کا پیش کرنا: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ
ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)۔
ترجمہ کنزالایمان : تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا ۔اور
جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ۔
(سورۃ الزلزال، آیات 7-8، پارہ 30)
(5)جنت
و جہنم کا فیصلہ: وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا
لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا
رَیْبَ فِیْهِؕ-فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ(۷) ترجمہ
کنزالایمان : اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں
کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں
کچھ شک نہیں ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک
گروہ دوزخ میں ۔(سورۃ الشوریٰ، آیت 7، پارہ 25)
ملک دلبر (درجہ
رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
مجید میں بار بار قیامت کا ذکر آیا ہے تاکہ انسان اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری اور
جواب دہی کے شعور کے ساتھ گزارے۔ قیامت کے دن سب انسان اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔
نیکوکار جنت میں داخل ہوں گے اور بدکار جہنم میں جائیں گے۔ ذیل میں قرآنِ مجید کی
روشنی میں قیامت کے پانچ اہم احوال بیان کیے جاتے ہیں:
(1)
آسمان کا پھٹ جانا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ
پڑے۔(سورۃ الانفطار، آیت 1، پارہ 30)
یعنی
قیامت کے دن آسمان کی حالت بدل دی جائے گی۔
(2)
پہاڑوں کا اڑ جانا: وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمہ کنز الایمان:اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے
چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا (سورۃ النبأ، آیت 20،
پارہ 30)
یعنی
زمین کے مضبوط پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔
(3)
انسانوں کا جمع ہونا: یَوْمَ
یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) ترجمہ کنزالایمان: جس دن آدمی
ہوں گے جیسے پھیلے پت۔(سورۃ القارعۃ، آیت 4، پارہ 30)
یعنی
سب لوگ گھبراہٹ اور پریشانی میں ہوں گے۔
قیامت
کا دن ایک یقینی حقیقت ہے۔ قرآن ہمیں بار بار اس کی یاد دہانی کراتا ہے تاکہ ہم
اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں۔ نیک اعمال کرنے والے کامیاب ہوں گے
اور برے اعمال والے نقصان اٹھائیں گے۔
انسان
کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت وہ دن ہے جسے قرآن نے کبھی" یوم القیامہ"
کہا، کبھی "یوم الحسرة" اور کبھی" یوم الفصل"۔ یہ دن محض ایک
عقیدہ نہیں بلکہ وہ کائناتی انقلاب ہے جس کے بعد انسان کی اصل زندگی کا آغاز ہوگا۔
قرآن نے اسے اس قدر مؤثر اور جاذب انداز میں بیان کیا ہے کہ سننے والے کے دل میں
لرزہ اور امید دونوں پیدا ہو جاتی ہیں۔
یہی
وجہ ہے کہ ایمان بالآخرت کو ایمان کی تکمیل قرار دیا گیا ہے۔ دراصل قیامت کا تصور
محض ایک آنے والا واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو انسان کی پوری زندگی کا
زاویہ بدل دیتا ہے۔ یہ عقیدہ اسے اس دنیا کی عارضی چمک دمک سے اوپر اٹھا کر اصل
منزل کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اگر آخرت کا یقین نہ ہو تو انسان کی زندگی محض کھیل
تماشہ بن جائے، مگر جب دل میں یہ ایمان راسخ ہو کہ ایک دن سب کچھ اللہ کے حضور پیش
ہوگا تو کردار میں سنجیدگی، عمل میں اخلاص اور رویّے میں جواب دہی کا احساس پیدا
ہوتا ہے۔
اچانک
آنے والی گھڑی:قیامت کی ہولناک حقیقت یہ ہے کہ وہ اچانک برپا ہوگی۔ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا
بَغْتَةًؕ ترجمہ کنز العرفان:تم پر وہ اچانک ہی آجائے گی۔(الاعراف،07:
187)
انسان
اپنی دنیاوی مصروفیات میں مگن ہوگا، منصوبے بنا رہا ہوگا، کہ دفعتاً کائنات کا
پردہ چاک ہوگا اور ہر شے فنا کے دہانے پر جا کھڑی ہوگی۔
کائنات
کا درہم برہم ہونا:اس دن کائناتی نظام اپنی بنیادوں سے ہل جائے گا۔ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) ترجمہ کنز العرفان:جب سورج کولپیٹ
دیا جائے گا۔(التکویر،81: 01)
وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) ترجمہ کنز العرفان: جب
تارے جھڑ پڑیں گے۔ (التکویر،81: 02)
وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْﭪ(۶) ترجمہ کنز العرفان:جب
سمندر سلگائے جائیں گے۔(التکویر،81: 06)
پہاڑ
جو انسان کو ٹھوس اور ابدی دکھائی دیتے تھے، روئی کے گالوں کی طرح بکھر جائیں گے۔
یہ وہ مناظر ہیں جنہیں قرآن بار بار دوہرا کر انسان کو جھنجھوڑتا ہے۔
حشر
و آخرت کا نقشہ:انسان کی زندگی کا سب سے ہولناک مگر بیدار کُن لمحہ وہ
دن ہوگا جب صور پھونکا جائے گا:
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمہ
کنز العرفان:جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔(النباء،78:
18)
زمین
اپنی آغوش چاک کر دے گی اور تمام مخلوق لشکروں کی صورت میں میدانِ حشر میں جمع ہوگی۔
وہاں نہ بادشاہ کی شان باقی رہے گی نہ فقیر کی محتاجی؛ سب برابر، سب اپنے رب کے
حضور کھڑے۔
قیامت
کا قرآنی بیان انسان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔ لہٰذا ہم دنیا
کو عارضی سمجھ کر تقویٰ، نیک اعمال، توبہ و استغفار اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار
بنائیں تاکہ حشر کے دن کامیابی اور جنت کی ابدی راحت نصیب ہو۔
اللہ
پاک نے انسان کو زندگی بخشی اور اسے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اب اللہ پاک
ایک دن قائم کرے گا جس دن انسان سے اس کی زندگی کے متعلق حساب لیا جائے گا اسی دن
کو ’’ یوم الآخرۃ ‘‘ یعنی حساب کتاب کا دن اور قیامت کا دن بھی کہا جاتا ہے ۔
اس
دن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے قیامت
کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا انکار کرنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا کہ یہ
ایسا قطعی معاملہ ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ ایسا
اہم دن ہے کہ جس کے متعلق قرآن کریم اور احادیث طیّبہ میں بار بار یہ یاد دہانی
کروائی گئی (کہ اس دن انسانوں سے ان کی دنیا کی زندگی کے متعلق حساب ہوگا )اور
ساتھ ہی قیامت کے احوال کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ذیل میں چند آیات قرآنیہ سے
احوال قیامت کو واضح کیا جاتا ہے:
قیامت
کے دن لوگوں کے دلوں کی حالت: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲)
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) ترجمہ
کنزالعرفان: وہ دل دہلادینے والی۔وہ دل
دہلادینے والی کیاہےاور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے(پ30،القارعۃ : 1-3)
اس
آیت مبارکہ میں قیامت کے دن لوگوں کے دلوں کے دہلتے ( خوف اور ڈر کی وجہ سے
گھبراتے ہونا) ہونے کو بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ دن قائم ہو گا تو اس کی ہولناکی
اور دہشت کا یہ عالم ہوگا کہ لوگوں کے دل لرز رہے ہوں گے ۔
صور
پھونکے جانے پر لوگوں کی حالت : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ
مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمہ
کنزالعرفان: بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت
ہے۔ جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔(پ 30،النباء :17،18)
ان آیات مبارکہ میں قیامت کے ایک مقرر کردہ
وقت پر واقع ہونے کو بیان کرنے کے ساتھ صور میں پھونک ماری جانے کو بیان کیا گیا
یہ یاد رہے کہ صور میں دو مرتبہ پھونک ماری جائے گی جب پہلی مرتبہ صور میں پھونک
ماری جائے گی تو اللہ پاک کے حکم سے تمام مخلوق موت کا شکار ہوجائے گی پھر اللہ
پاک حضرت اسرافیل علیہ السلام کو
زندہ کرے گا اور پھر اللہ پاک حکم دے گا تو دوبارہ صور میں پھونک ماری جائے گی تو
اس بار تمام انسان اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر میدان محشر کی طرف گروہ در گروہ چلے
آئیں گے ۔
قیامت
کے دن آسمان کی حالت : وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ
فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے بن
جائے گا۔(پ30،النباء:19)
اس
آیت مبارکہ میں قیامت کے دن آسمان کی حالت کو بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن
آسمان کو کھول دیا جائے گا اور آسمان میں کثیر دروازے بن جائیں گے جن سے فرشتے
نازل ہوں گے اس کے علاوہ مزید کئی ایک آیات میں آسمان کے کھولے جانے کا تذکرہ
موجود ہے
قیامت
کے دن پہاڑوں کی حالت : وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح
ہوجائیں گے۔(پ30،القارعۃ : 5)
اس
آیت مبارکہ میں قیامت کے دن پہاڑوں کی حالت کو بیان کیا گیا کہ قیامت کے دن کی
ہولناکی اور دہشت کا عالم یہ ہوگا اس دن پہاڑ بھی روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھر
رہے ہوں گےتواس ہولناک دن میں ہماری کیا حالت ہوگی کیا ہم اس دن کے لیے تیاری کر
رہے ہیں کیا ہمیں اپنی آخرت کو سنوارنے کی
کوئی فکر ہے پس ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور زندگی میں ہی اس
ہولناک دن کے لیے تیاری کریں اور نیک اعمال کریں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اس دن کی خوب خوب
تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بے حساب بخش دے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین
ﷺ
محمد حسنین رضا عطاری مرکزی جامعۃُ
المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
کریم نے قیامت کو ایک ایسی حقیقت قرار دیا ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں،
اور یہ ایمان بالآخرة کی بنیاد ہے۔ ایمان بالآخرة اسلام کے بنیادی ارکانِ ایمان میں
سے ہے، جس کے بغیر ایمان کا تصور ہی ادھورا رہتا ہے۔ قیامت پر ایمان انسان کو یہ
حقیقت سمجھاتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور اس کی ساری آسائشیں اور مشکلات وقتی ہیں،
جبکہ اصل اور دائمی زندگی آخرت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید بار بار قیامت کے
ہولناک اور عبرت انگیز مناظر کو بیان کرتا ہے، تاکہ انسان غفلت کی نیند سے بیدار
ہو جائے اور یہ یاد رکھے کہ ایک دن اسے اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنے ہر چھوٹے
بڑے عمل کا حساب دینا ہے۔ اس مسلسل یاد دہانی کا مقصد انسان کے دل کو جھنجھوڑنا
اور اس کے کردار کو سنوارنا ہے تاکہ وہ گناہوں سے بچے اور نیک اعمال کی طرف متوجہ
ہو۔
قیامت
کے مناظر قرآن کی روشنی میں:آسمان کا حال:
اللہ
تعالیٰ سورۃ الانفطار آیت ( 1 ) میں قیامت کے ہولناک مناظر بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان
:جب آسمان پھٹ جائے گا۔
اس
دن آسمان کی وہ مضبوط و مستحکم بناوٹ جسے آج انسان بے عیب اور قائم و دائم سمجھتا
ہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ آسمان کا یہ شق ہونا اس بات کی علامت ہوگا کہ
کائنات کا موجودہ نظام درہم برہم ہو رہا ہے اور ایک نیا نظام قائم ہونے والا ہے۔ یہ
منظر انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ کوئی چیز دائمی اور مستقل نہیں،
بلکہ ہر شے فنا پذیر ہے اور سب کچھ ایک دن اللہ کے حکم سے ختم کر دیا جائے گا۔
آسمان کے پھٹنے کی یہ کیفیت قیامت کے دن کی ہیبت اور خوف کو نمایاں کرتی ہے اور
انسان کو جھنجھوڑ کر یاد دلاتی ہے کہ وہ دن معمولی نہیں ہوگا، بلکہ ایسا دن ہوگا
جس کے بعد ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
زمین
کا حال: اللہ
تعالیٰ سورۃ الزلزال آیت ( 1 ) میں قیامت کے آغاز کا ایک نہایت ہولناک منظر بیان
فرماتا ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان "جب زمین
تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔"
اس
دن زمین اس طرح لرزے گی اور تھرتھرائے گی کہ انسان نے اس سے پہلے کبھی ایسی شدت
اور ہولناکی کا تجربہ نہیں کیا ہوگا۔ آج دنیا میں آنے والے زلزلے لوگوں کو خوفزدہ
کر دیتے ہیں، مگر قیامت کے دن کا زلزلہ سب سے شدید اور سب سے مختلف ہوگا، جو زمین
کے اندر چھپی ہر چیز کو باہر نکال دے گا۔ زمین کا یہ ہلنا اس بات کی نشانی ہوگا کہ
دنیا کا نظام اختتام کو پہنچ چکا ہے اور اب انسان کو اپنے اعمال کے حساب کے لیے رب
کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہ منظر انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ کوئی
طاقت زمین کو تھام نہیں سکتی، اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو زمین اپنی بنیادوں سے ہل
جائے گی۔ اس کیفیت کو یاد کرنے سے دل کانپ اٹھتا ہے اور انسان کو توبہ اور نیک
اعمال کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔
ایمان
بالآخرة کی اہمیت:ایمان بالآخرة کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ انسان کو
اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ جب دل میں یہ
یقین بیٹھ جاتا ہے کہ ہر نیک اور بد عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش کیا جائے گا تو
انسان اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو ظلم کرنے، دھوکہ
دینے اور گناہوں میں مبتلا ہونے سے روکتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی سزا یا
انعام وقتی ہے لیکن آخرت کا حساب ہمیشہ کے لیے ہے۔ یہی یقین انسان کو اچھے اخلاق
اپنانے، دوسروں کے ساتھ انصاف کرنے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس
طرح ایمان بالآخرة ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کے کردار کو سنوارتا اور اس کے اعمال
کو بہتر بناتا ہے۔
قیامت
کی یاد کا اثر:قیامت کی یاد انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جب
کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر حساب دینا ہے تو
اس کے دل میں خوف اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساس اسے گناہوں سے
بچاتا اور توبہ و استغفار کی طرف مائل کرتا ہے۔ آخرت پر یقین رکھنے والا شخص جانتا
ہے کہ دنیا کی لذتیں اور خواہشات عارضی ہیں، لیکن آخرت کی جزا یا سزا ہمیشہ کے لیے
ہے، اسی لیے وہ چند لمحوں کی خوشی کے بدلے ابدی عذاب مول نہیں لیتا۔ قیامت کی یاد
اسے پرہیزگاری اختیار کرنے، نیک اعمال کرنے اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے پر
آمادہ کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارتا ہے، وہی
حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔لہذا اصل عقل مندی یہی ہے کہ قیامت کی تیاری کی جائے،
توبہ میں دیر نہ کی جائے اور نیک اعمال کو زادِ راہ بنایا جائے، تاکہ کل آخرت میں
کامیابی نصیب ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ کی توفیق دے اور قیامت کے دن اپنے نور سے
نوازے۔ آمین۔
قیامت
کا دن وہ دن ہے جس کے بارے میں ہر نبی نے اپنی امت کو خبردار کیا، اور قرآن مجید
نے بار بار اسے یاد دلایا۔ یہ ایسا دن ہے جب زمین اپنی سخت ہلچل سے کانپ اٹھے گی،
آسمان پھٹ جائے گا، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، اور ہر انسان کو اپنے اعمال کے
بارے میں اللہ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔آج ہم قیامت کے احوال کے بارے میں قرآنی
بیان پڑھتے ہیں ۔
قیامت
کا منظر : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا
الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا
الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب
تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے
گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(سورۃ الانفطار،ایت 1تا 5)
زمین
تھرتھرانے لگے گی: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔ (سورۃزلزال ایت:1)
وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا
لَهَاۚ(۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک
دے ۔اور آدمی کہے اسے کیا ہوا ۔(سورۃ الزلزال ایت :2،3)
مذکورہ
آیات میں ہم نے قیامت کے احوال پڑھے ہیں ہمیں قیامت کی تیاری کرنی چاہیے اور ان
کاموں سے بچنا چاہیے جن سے منع کیا گیا ہے ۔
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین۔
محمد واصف رضا عطاری (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
قیامت
ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید نے نہایت مؤثر انداز میں اور بار بار
کیا ہے۔ قرآن حکیم میں قیامت کے مختلف نام
موجود ہیں جیسے یوم القیامہ، یوم الدین، یوم
الحساب، یوم الفصل اور یوم الجمع۔ یہ سب نام اس دن کی ہیبت، عظمت اور عدل و انصاف
کو ظاہر کرتے ہیں۔ قرآن کے مطابق جب قیامت برپا ہوگی تو کائنات کی موجودہ ساخت
درہم برہم ہو جائے گی۔ سورج بے نور اور لپیٹ دیا جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے،
پہاڑ روئی کی طرح اڑیں گے، سمندر بھڑک اٹھیں گے اور زمین اپنے اندر کے تمام خزانے
اور مردوں کو باہر نکال دے گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب انسان قبروں سے اٹھائے جائیں گے
اور میدانِ حشر میں جمع کیے جائیں گے۔ اس دن اعمال نامے کھولے جائیں گے، میزانِ
عدل نصب ہوگا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل پوشیدہ نہ رہے گا۔ نیکوکاروں کو جنت کی
لازوال نعمتیں عطا کی جائیں گی جبکہ گناہگاروں کو جہنم کے دردناک عذاب کا سامنا
کرنا پڑے گا۔ قرآنی بیانات کا مقصد صرف قیامت کی خبر دینا نہیں بلکہ انسان کو غفلت
سے بیدار کرنا ہے تاکہ وہ دنیا کو عارضی ٹھکانا سمجھتے ہوئے آخرت کی تیاری کرے اور
اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے نجات پانے والوں میں شامل ہو۔
قیامت
کے دن ہر کوئی کسی کو بھول جائے گا: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ
وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ
بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) ترجمۂ کنز العرفان:جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ
حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل
والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ
نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔ (پارہ 22 سورۃ الحج
آیت 2)
قیامت
کے دن ہر آنکھ دہشت زدہ ہوگی: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷)
وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز العرفان:توجس دن آنکھ دہشت زدہ
ہوجائے گی۔اور چاندتاریک ہوجائے گا۔اور سورج اور چاند کو ملا دیا جائے گا۔ (پارہ
29 سورۃ القیامۃ آیت 7۔9)
احوالِ قیامت کا قرآنی بیان دراصل انسان کو غفلت
سے جگانے اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے،
جبکہ قیامت کے بعد کی زندگی دائمی اور حقیقی ہے۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دہانی
کراتا ہے کہ وہ دن سراسر عدل و انصاف کا دن ہوگا، جہاں کوئی سفارش یا بہانہ فائدہ
نہ دے گا، بلکہ صرف ایمان اور نیک اعمال ہی نجات کا ذریعہ ہوں گے۔ لہٰذا عقلمندی
اسی میں ہے کہ انسان دنیا کی رنگینیوں اور فانی لذتوں میں کھو کر اصل زندگی کو نہ
بھولے، بلکہ تقویٰ، نیک اعمال اور اطاعتِ الٰہی کو اپنا شعار بنائے۔ جو آج آخرت کی
تیاری کرے گا، کل اس کے لیے جنت کا دروازہ کھل جائے گا، اور جو غفلت میں ڈوبا رہا
وہ خسارے میں رہے گا۔ یہی قرآن کا اصل پیغام ہے۔
قیامت
ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید میں بار بار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ
نے قیامت کے دن کو ’’یوم الدین‘‘، ’’یوم الفصل‘‘، ’’یوم الحساب‘‘ اور ’’یوم القیامہ‘‘
جیسے مختلف ناموں سے پکارا ہے۔ قرآن مجید قیامت کے احوال کو نہایت مؤثر، دل دہلا دینے
والے اور عبرت آموز انداز میں بیان کرتا ہے تاکہ انسان اپنی اصلاح کر لے اور
اعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہو ۔
قرآنِ
مجید نہ صرف ہدایت کی کتاب ہے بلکہ یہ انسان کو اُس انجام کی خبر بھی دیتا ہے جو
اُسے ایک دن ضرور پیش آنا ہے۔ قیامت کا دن، جسے قرآن نے مختلف ناموں سے یاد کیا
ہے، ایک ایسا دن ہو گا جو پوری کائنات کو ہلا کر رکھ دے گا۔ اس دن کی ہولناکیاں،
انسانوں کے اعمال کا حساب، اور جزا و سزا کا منظر قرآن کریم میں نہایت مؤثر انداز
میں بیان ہوا ہے۔ یہ تمہید اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ قیامت صرف ایک تصور
نہیں بلکہ یقینی طور پر پیش آنے والا دن ہے، جس کی تیاری ہر ذی شعور پر لازم ہے آیئے
ہم اسے قرآن مجید فرقان حمید سے جانتے ہیں ۔
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ
اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ (۴) عَلِمَتْ
نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)
ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب
تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں
کریدی
جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔ (الانفطار 82 آیت 1-5)
تفسیر صراط الجنان:اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ: جب
آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان
کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور
جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے
گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے
اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے
زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا
برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس
سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان،
الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)
اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ
فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا
وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ۔(النبا 78 آیت
17-18)
یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ:
جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی: ارشاد فرمایا کہ فیصلے کا دن وہ ہو گا جس دن
صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو تم اپنی قبروں سے حساب کیلئے حساب کی جگہ
کی طرف فوج در فوج چلے آؤ گے۔( روح البیان، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰ / ۲۹۹، ملخصاً)
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ
الْقَمَرُۙ(۹)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور
چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔ (القیامۃ 75 آیت 7-9)
(1)اس
دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زدہ ہوجائے گی۔
(2)چاندکی
روشنی زائل ہوجائے گی جس سے وہ تاریک ہو جائے گا۔
(3) سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔ یہ ملا دینا
طلوع ہونے میں ہوگا کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے یا بے نور ہونے میں ہو گا کہ
دونوں کی روشنی ختم ہوجائے گی۔( تفسیرکبیر،القیامۃ،تحت الآیۃ:۷-۹،۱۰ / ۷۲۳-۷۲۴، روح البیان،القیامۃ،تحت
الآیۃ:۷-۹،۱۰ / ۲۴۵-۲۴۶،ملتقطاً)
قرآن
مجید میں قیامت کے احوال کا ذکر صرف خبر دینے کے لیے نہیں بلکہ انسان کو جگانے کے
لیے ہے۔ یہ احوال ہمارے دلوں کو دہلا دینے والے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگیوں کا
محاسبہ کریں، گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔
اللہ ہمیں قیامت کے دن کی ہولناکی سے
محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی
الامین ﷺ
قرآنِ
مجید میں قیامت کے احوال کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان غفلت
کی نیند سے جاگ اٹھے اور اپنی زندگی کو سنوارنے کی فکر کرے۔ قیامت وہ عظیم دن ہے
جس میں کائنات کی ہر چیز فنا ہوجائے گی، زمین و آسمان اپنی موجودہ حالت بدل لیں گے
اور ہر انسان اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے اللہ کے حضور پیش ہوگا۔ قرآن پاک میں
بار بار قیامت کی ہولناکی، اس دن کے مناظر اور اس کے انجام کو ذکر کیا گیا ہے تاکہ
دلوں میں خوفِ خدا پیدا ہو اور انسان اپنی دنیاوی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے
وقف کرے۔ چند آیت مبارکہ ملاحظہ ہوں:
ترجمہ
کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں
اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(سورۃ
الانفطار آیت 1۔5)
ترجمہ
کنزالایمان: جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(سورۃ
الزلزال آیت 1)
ترجمہ
کنز الایمان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔اور آدمی کہے اسے کیا ہوا ۔(سورۃ
الزلزل آیت 2۔3)
قرآنِ
مجید کے بیان کردہ احوالِ قیامت انسان کو یہ سبق دیتے ہیں کہ دنیا کی زندگی عارضی
ہے اور اصل حقیقت آخرت کی ہے۔ وہ دن نہایت ہولناک ہوگا جب کوئی دوسروں کی مدد کو
نہ پہنچ سکے گا اور ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ اس لیے عقل و
دانش کا تقاضا ہے کہ ہم دنیاوی فانی لذتوں میں غافل نہ ہوں بلکہ اپنے ہر عمل کو
آخرت کی کامیابی کے لیے سنواریں۔ جو لوگ ایمان، نیک اعمال اور تقویٰ کے ساتھ زندگی
گزاریں گے، ان کے لیے قرآن جنت کی بشارت دیتا ہے، جبکہ منکرین اور ظالموں کے لیے
دردناک عذاب کی وعید ہے۔ یہی قیامت کے قرآنی بیان کا اصل مقصد ہے کہ انسان راہِ
ہدایت پر گامزن ہو اور اللہ کی رضا حاصل کرے۔
قرآن
مجید میں قیامت کے دن کا ذکر بار بار کیا گیا ہے تاکہ انسان کو اس کی حقیقت سے
اگاہ کیا جائے اور اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے قیامت کا دن وہ عظیم
دن ہے جب تمام مخلوقات کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہر انسان کو اس کے اعمال کے
مطابق جزا و سزا ملے گی قرآن نے اس دن کو کبھی یوم الدین جزا کا دن کبھی یوم القیامہ
کھڑا ہونے کا دن کہہ کر بیان کیا ہے قرآن مجید میں قیامت کا بیان نہ صرف عبرت اور
نصیحت کے لیے ہے بلکہ یہ عقیدے کا احساس ہے جو انسان کو دنیاوی زندگی کے دھوکے سے
نکال کر آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے قران پاک سے متعلقہ چند آیت مبارکہ
درج ذیل ہیں:
ترجمہ کنزالعرفان :جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب
ستارے جھڑ پڑیں گے اور جب سمندر بہا دیے جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی ہر
جان کو معلوم ہو جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا ۔(پ30
،الانفطار،1تا5)
ترجمہ کنز العرفان : جب زمین تھرتھرا دی جائے گی
جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی اور آدمی کہے گا
اسے کیا ہوا (پ30،الزلزال،1تا3)
ترجمہ کنز العرفان : بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر
وقت ہے جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے ۔(پ30،النباء،17،18)
ترجمہ کنز العرفان:اور آسمان کھول دیا جائے گا
تو وہ دروازے بن جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہو جائیں گے جیسے باریک
چمکتی ہوئی ریٹ جو دور سے پانی کا دھوکہ دیتی ہے ۔(پ30،النباء،19،20)
قران حکیم کے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قیامت کا دن ایک یقینی اور حتمی
حقیقت ہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا یہ دنیا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کی زندگی
عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے قرآن نے قیامت کو بیان کر کے انسان کو یہ پیغام
دیا ہے کہ ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اللہ پاک ہمیں جو کچھ بات سنی اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور قیامت
سے پہلے قیامت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین !!
قیامت
کے دن حتمی ہے اور یقینی ہے ایک نہ ایک دن قیامت کا دن آنا ہی ہے اور وہ ایسا دن
ہوگا کہ جس دن باپ بیٹے سے بھاگے گا ماں بچوں سے بھاگے گی شوہر بیوی سے اور بچوں
سے بھاگے گا اور قیامت کا دن ایک ہولناک دن ہوگا جس دن نہ کوئی مددگار ہوگا نہ کوئی
ساتھی ہوگا ، بندے کو اپنے اعمال ہی کام آئیں گے ۔ اس دن کے احوال کہ زمین پھٹ جائے گی پہاڑ ریزہ ریزہ
ہو کر روئی کی طرح اڑ جائیں گے ستارے پھٹ جائیں گے چاند کی روشنی غائب ہو جائے گی
وہ دن کیسا ہولناک دن ہوگا اور اس دن کے احوال کے بارے میں اللہ تبارک و تعالی نے
قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر فرمایا آئیے ان میں سے پانچ کو ملاحظہ
کرتے ہیں :
(1)
جب زمین تھرتھرائے گی:قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ زمین تھرتھرا اٹھے گی اور پھٹ
جائے گی جیسا کہ قران پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(پارہ 30سورۃ الزلزال آیت نمبر 1)
(2)
جب آسمان پھٹ جائے گا:قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ آسمان پھٹ جائے گا ستارے جھڑ
جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اس وقت نفسا نفسی کا عالم ہوگا اسی طرح کے
احوال کو قران پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ
بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب
تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے
گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے( پارہ: 30الانفطارایت نمبر 1-5)
(3)
دل خوف زدہ ہوں گے:قیامت
کا دن ایسا ہوگا کہ جس دن دل ڈرے ہوئے ہوں گے آنکھیں شرم سے جھکی ہوئی ہوں گی اور جسم کا ہر جوڑ گواہی دے گا اللہ
تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸) اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ(۹) ترجمۂ کنز الایمان : کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں
گے۔ آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے ۔(پارہ: 30سورۃ :النازعات آیت نمبر: 8-9)
(4)
جب آسمان کھول دیا جائے گا:قیامت والے دن آسمان کو کھول دیا
جائے گا اور اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور چمکتی ریت کی طرح ہوں گے اللہ
تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ
الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان کھولا جائے گا کہ
دروازے ہوجائے گا۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے
پانی کا دھوکا دیتا۔(پارہ :30سورۃ :النبا آیت نمبر: 19-20)
(5)
فیصلے کا دن مقرر ہے:قیامت کا دن یعنی یوم جزا یہ مقرر ہے اور اس دن صور بھی
پھونکا جائے گا جیسے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی
الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا
وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ۔(پارہ: 30سورۃ:النبا
آیت نمبر: 17-18)
اللہ
تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ بیان کیا اور قیامت کے احوال کو جانتے ہوئے اللہ
تعالی ہمیں قیامت کے دن کا خوف عطا فرمائے اور دنیا میں رہتے ہوئے ہمیں نیک اعمال
کرنے اور لوگوں کو نیک اعمال سکھانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ قیامت والے دن ہم قیامت
کی سختیوں سے بچ سکیں ۔آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ
محمد حسنین امداد عطاری (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
دنیا
کی زندگی انسان کو ایک پُر سکون اور قائم نظام دکھائی دیتی ہے۔ زمین اپنے مدار پر
قائم ہے، سورج و چاند اپنی گردش میں مصروف ہیں، پہاڑ زمین کے لیے گویا میخوں کا
کردار ادا کر رہے ہیں اور سمندر اپنی حدود میں قید ہیں۔ لیکن قرآن ہمیں یہ حقیقت یاد
دلاتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ ایک دن آئے گا جب یہ سارا نظام ٹوٹ پھوٹ
کا شکار ہو جائے گا اور کائنات اپنی اصل حقیقت آشکار کر دے گی۔ یہی دن قیامت
کہلاتا ہے۔
اس
دن زمین اپنی بنیادوں سے ہل اٹھے گی۔ وہ پہاڑ جو انسان کو مضبوطی کی علامت دکھائی دیتے
ہیں، ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔ سمندر اپنی گہرائیوں سے ابھر کر کناروں کو
توڑ ڈالیں گے اور آسمان اپنی مضبوطی کے باوجود پھٹ جائے گا۔ ستارے بجھ جائیں گے
اور سورج اپنی روشنی کھو بیٹھے گا۔ گویا وہ سب کچھ جسے انسان ہمیشہ کے لیے قائم
سمجھتا تھا، یکسر بدل جائے گا۔
قیامت
کے دن کا سب سے بڑا منظر انسان کی اپنی بے بسی اور حیرانی ہے۔ وہ اپنے پیاروں سے
بے نیاز ہو جائے گا، کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ دنیاوی رشتے، محبتیں اور سہارے سب
ٹوٹ جائیں گے۔ ہر شخص اپنی نجات اور حساب کی فکر میں ہوگا۔ یہ وہ دن ہوگا جب ہر ایک
کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا۔
قیامت
کا منظر حقیقی :قیامت کے حوالے سے کچھ آیات کریمہ ملاحظہ فرمائیں جس میں
ہمیں اس کی اہمیت کا اندازا ہو جیسے کہ رب العالمین قرآن مجید میں ارشاد فرماتا
ہے :
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ
اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ
نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)
جب
آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی
جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(ترجمہ کنزالایمان سورۃ
الانفطار82 آیت1_5 )
اس
آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان
کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ
جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے
جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم
آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے
اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے
نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا
برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس
سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح
البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶،
خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)
قیامت
میں زمین کا حال:ایک آیت کریمہ میں ہمیں بتایا جا رہا ہے کی قیامت والے
دن زمین کا کیا حال ہوگا جیسے کہ ایک آیت کریمہ میں رب العالمین نے ارشاد فرمایا
ہے : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ
کنزالایمان :جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔( سورۃ
الزلزال 99 آیت 1)
اس
آیت میں رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی
جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ
زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت
نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۰۰)
فیصلے کا دن :دنیا
کے فیصلے کا دن مقرر ہے اس پر ایک آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں جس میں ہمیں قیامت کے
دن کا فیصلہ کن ہونے کہ حوالے سے بتایا گیا ہے رب العالمین ارشاد فرماتا ہے : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ
مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمہ
کنزالایمان :بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم
چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ۔( سورۃ النباء 78 آیت 17_18 )
اس
آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ بیشک وہ دن جس میں اللہ تعالیٰ
مخلوق کافیصلہ فرمائے گا وہ ا س کے علم میں ثواب اور عذاب کے لئے ایک مقرر کیا ہوا
وقت ہے۔( جلالین مع صاوی، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۷، ۶ / ۲۳۰۰)
اورقیامت
کہ دن صور کہ حوالے سے بتایا جا رہا ہے :کہ فیصلے کا دن وہ ہو گا جس دن صور میں
دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو تم اپنی قبروں سے حساب کیلئے حساب کی جگہ کی طرف
فوج در فوج چلے آؤ گے۔( روح البیان، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰ / ۲۹۹، ملخصاً)
ان
آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا ذکر محض ایک علمی موضوع نہیں بلکہ ایک
زندہ حقیقت ہے جس کا یقین انسان کے دل میں بیداری پیدا کرتا ہے۔ جب آیاتِ قرآنی کی
روشنی میں قیامت کی ہولناکیاں، حساب و کتاب کی سختی اور جزا و سزا کی کیفیت سامنے
آتی ہے تو دل لرز اُٹھتا ہے اور عمل کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
انسان
کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت کی زندگی ابدی۔
کامیاب وہی ہے جو آج کے دن اپنی اصلاح کر لے، گناہوں سے توبہ کرے اور نیک اعمال کی
طرف بڑھ جائے۔ قیامت کی آیات کا پیغام یہی ہے کہ غفلت نہ کرو، وقت کو غنیمت جانو،
اور اپنے رب کے حضور کامیاب کھڑے ہونے کی تیاری کرو۔
اے
اللہ! قیامت کے دن کی سختیوں اور خوف سے ہمیں اپنی پناہ عطا فرما۔
اے
ربّ! حساب و کتاب کو ہمارے لئے آسان بنا، میزان میں ہمارے نیک اعمال کو بھاری
فرما، اور ہمارے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف فرما۔اے پروردگار! پل صراط سے سلامتی
کے ساتھ گزار دے اور ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت الفردوس میں داخل فرما۔اے
اللہ! ہمیں دنیا میں ایمان، آخرت میں نجات اور اپنی رضا و قرب عطا فرما۔ آمین ثم
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ یا رب العالمین
Dawateislami