محمد واصف رضا عطاری (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
قیامت
ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید نے نہایت مؤثر انداز میں اور بار بار
کیا ہے۔ قرآن حکیم میں قیامت کے مختلف نام
موجود ہیں جیسے یوم القیامہ، یوم الدین، یوم
الحساب، یوم الفصل اور یوم الجمع۔ یہ سب نام اس دن کی ہیبت، عظمت اور عدل و انصاف
کو ظاہر کرتے ہیں۔ قرآن کے مطابق جب قیامت برپا ہوگی تو کائنات کی موجودہ ساخت
درہم برہم ہو جائے گی۔ سورج بے نور اور لپیٹ دیا جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے،
پہاڑ روئی کی طرح اڑیں گے، سمندر بھڑک اٹھیں گے اور زمین اپنے اندر کے تمام خزانے
اور مردوں کو باہر نکال دے گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب انسان قبروں سے اٹھائے جائیں گے
اور میدانِ حشر میں جمع کیے جائیں گے۔ اس دن اعمال نامے کھولے جائیں گے، میزانِ
عدل نصب ہوگا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل پوشیدہ نہ رہے گا۔ نیکوکاروں کو جنت کی
لازوال نعمتیں عطا کی جائیں گی جبکہ گناہگاروں کو جہنم کے دردناک عذاب کا سامنا
کرنا پڑے گا۔ قرآنی بیانات کا مقصد صرف قیامت کی خبر دینا نہیں بلکہ انسان کو غفلت
سے بیدار کرنا ہے تاکہ وہ دنیا کو عارضی ٹھکانا سمجھتے ہوئے آخرت کی تیاری کرے اور
اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے نجات پانے والوں میں شامل ہو۔
قیامت
کے دن ہر کوئی کسی کو بھول جائے گا: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ
وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ
بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) ترجمۂ کنز العرفان:جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ
حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل
والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ
نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔ (پارہ 22 سورۃ الحج
آیت 2)
قیامت
کے دن ہر آنکھ دہشت زدہ ہوگی: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷)
وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز العرفان:توجس دن آنکھ دہشت زدہ
ہوجائے گی۔اور چاندتاریک ہوجائے گا۔اور سورج اور چاند کو ملا دیا جائے گا۔ (پارہ
29 سورۃ القیامۃ آیت 7۔9)
احوالِ قیامت کا قرآنی بیان دراصل انسان کو غفلت
سے جگانے اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے،
جبکہ قیامت کے بعد کی زندگی دائمی اور حقیقی ہے۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دہانی
کراتا ہے کہ وہ دن سراسر عدل و انصاف کا دن ہوگا، جہاں کوئی سفارش یا بہانہ فائدہ
نہ دے گا، بلکہ صرف ایمان اور نیک اعمال ہی نجات کا ذریعہ ہوں گے۔ لہٰذا عقلمندی
اسی میں ہے کہ انسان دنیا کی رنگینیوں اور فانی لذتوں میں کھو کر اصل زندگی کو نہ
بھولے، بلکہ تقویٰ، نیک اعمال اور اطاعتِ الٰہی کو اپنا شعار بنائے۔ جو آج آخرت کی
تیاری کرے گا، کل اس کے لیے جنت کا دروازہ کھل جائے گا، اور جو غفلت میں ڈوبا رہا
وہ خسارے میں رہے گا۔ یہی قرآن کا اصل پیغام ہے۔
Dawateislami