اللہ
پاک نے انسان کو زندگی بخشی اور اسے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اب اللہ پاک
ایک دن قائم کرے گا جس دن انسان سے اس کی زندگی کے متعلق حساب لیا جائے گا اسی دن
کو ’’ یوم الآخرۃ ‘‘ یعنی حساب کتاب کا دن اور قیامت کا دن بھی کہا جاتا ہے ۔
اس
دن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے قیامت
کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا انکار کرنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا کہ یہ
ایسا قطعی معاملہ ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ ایسا
اہم دن ہے کہ جس کے متعلق قرآن کریم اور احادیث طیّبہ میں بار بار یہ یاد دہانی
کروائی گئی (کہ اس دن انسانوں سے ان کی دنیا کی زندگی کے متعلق حساب ہوگا )اور
ساتھ ہی قیامت کے احوال کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ذیل میں چند آیات قرآنیہ سے
احوال قیامت کو واضح کیا جاتا ہے:
قیامت
کے دن لوگوں کے دلوں کی حالت: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲)
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) ترجمہ
کنزالعرفان: وہ دل دہلادینے والی۔وہ دل
دہلادینے والی کیاہےاور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے(پ30،القارعۃ : 1-3)
اس
آیت مبارکہ میں قیامت کے دن لوگوں کے دلوں کے دہلتے ( خوف اور ڈر کی وجہ سے
گھبراتے ہونا) ہونے کو بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ دن قائم ہو گا تو اس کی ہولناکی
اور دہشت کا یہ عالم ہوگا کہ لوگوں کے دل لرز رہے ہوں گے ۔
صور
پھونکے جانے پر لوگوں کی حالت : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ
مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمہ
کنزالعرفان: بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت
ہے۔ جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔(پ 30،النباء :17،18)
ان آیات مبارکہ میں قیامت کے ایک مقرر کردہ
وقت پر واقع ہونے کو بیان کرنے کے ساتھ صور میں پھونک ماری جانے کو بیان کیا گیا
یہ یاد رہے کہ صور میں دو مرتبہ پھونک ماری جائے گی جب پہلی مرتبہ صور میں پھونک
ماری جائے گی تو اللہ پاک کے حکم سے تمام مخلوق موت کا شکار ہوجائے گی پھر اللہ
پاک حضرت اسرافیل علیہ السلام کو
زندہ کرے گا اور پھر اللہ پاک حکم دے گا تو دوبارہ صور میں پھونک ماری جائے گی تو
اس بار تمام انسان اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر میدان محشر کی طرف گروہ در گروہ چلے
آئیں گے ۔
قیامت
کے دن آسمان کی حالت : وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ
فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے بن
جائے گا۔(پ30،النباء:19)
اس
آیت مبارکہ میں قیامت کے دن آسمان کی حالت کو بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن
آسمان کو کھول دیا جائے گا اور آسمان میں کثیر دروازے بن جائیں گے جن سے فرشتے
نازل ہوں گے اس کے علاوہ مزید کئی ایک آیات میں آسمان کے کھولے جانے کا تذکرہ
موجود ہے
قیامت
کے دن پہاڑوں کی حالت : وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح
ہوجائیں گے۔(پ30،القارعۃ : 5)
اس
آیت مبارکہ میں قیامت کے دن پہاڑوں کی حالت کو بیان کیا گیا کہ قیامت کے دن کی
ہولناکی اور دہشت کا عالم یہ ہوگا اس دن پہاڑ بھی روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھر
رہے ہوں گےتواس ہولناک دن میں ہماری کیا حالت ہوگی کیا ہم اس دن کے لیے تیاری کر
رہے ہیں کیا ہمیں اپنی آخرت کو سنوارنے کی
کوئی فکر ہے پس ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور زندگی میں ہی اس
ہولناک دن کے لیے تیاری کریں اور نیک اعمال کریں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اس دن کی خوب خوب
تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بے حساب بخش دے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین
ﷺ
Dawateislami