قرآنِ مجید میں قیامت کا ذکر بار بار آیا ہے تاکہ انسان اپنی زندگی کو آخرت کی جواب دہی کے شعور کے ساتھ گزارے۔ قیامت کے دن انسان کے اعمال کا حساب ہوگا، نیکوکار کو جنت اور بدکار کو جہنم ملے گی۔ ذیل میں قرآن مجید کی روشنی میں قیامت کے پانچ اہم احوال پیش کیے جاتے ہیں:

(1)زمین و آسمان کا ہل جانا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان : جب زمین تھرتھرادی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔(پارہ 30 سورت الزلزال آیت 1 )

یعنی جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔

(2) صور پھونکا جانا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمہ کنزالایمان : اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے ۔(سورۃ الزمر، آیت 68، پارہ 24)

(3)قبروں سے اٹھنا: وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) ترجمہ کنزالایمان : اور جب قبریں کریدی جائیں۔ (سورۃ الانفطار، آیت 4، پارہ 30)

( 4)اعمال کا پیش کرنا: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)۔ ترجمہ کنزالایمان : تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا ۔اور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ۔ (سورۃ الزلزال، آیات 7-8، پارہ 30)

(5)جنت و جہنم کا فیصلہ: وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِؕ-فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ(۷) ترجمہ کنزالایمان : اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں ۔(سورۃ الشوریٰ، آیت 7، پارہ 25)