قرآنِ مجید میں قیامت کے احوال کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان غفلت کی نیند سے جاگ اٹھے اور اپنی زندگی کو سنوارنے کی فکر کرے۔ قیامت وہ عظیم دن ہے جس میں کائنات کی ہر چیز فنا ہوجائے گی، زمین و آسمان اپنی موجودہ حالت بدل لیں گے اور ہر انسان اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے اللہ کے حضور پیش ہوگا۔ قرآن پاک میں بار بار قیامت کی ہولناکی، اس دن کے مناظر اور اس کے انجام کو ذکر کیا گیا ہے تاکہ دلوں میں خوفِ خدا پیدا ہو اور انسان اپنی دنیاوی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے وقف کرے۔ چند آیت مبارکہ ملاحظہ ہوں:

ترجمہ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(سورۃ الانفطار آیت 1۔5)

ترجمہ کنزالایمان: جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(سورۃ الزلزال آیت 1)

ترجمہ کنز الایمان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔اور آدمی کہے اسے کیا ہوا ۔(سورۃ الزلزل آیت 2۔3)

قرآنِ مجید کے بیان کردہ احوالِ قیامت انسان کو یہ سبق دیتے ہیں کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل حقیقت آخرت کی ہے۔ وہ دن نہایت ہولناک ہوگا جب کوئی دوسروں کی مدد کو نہ پہنچ سکے گا اور ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ اس لیے عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ ہم دنیاوی فانی لذتوں میں غافل نہ ہوں بلکہ اپنے ہر عمل کو آخرت کی کامیابی کے لیے سنواریں۔ جو لوگ ایمان، نیک اعمال اور تقویٰ کے ساتھ زندگی گزاریں گے، ان کے لیے قرآن جنت کی بشارت دیتا ہے، جبکہ منکرین اور ظالموں کے لیے دردناک عذاب کی وعید ہے۔ یہی قیامت کے قرآنی بیان کا اصل مقصد ہے کہ انسان راہِ ہدایت پر گامزن ہو اور اللہ کی رضا حاصل کرے۔