قیامت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید میں بار بار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو ’’یوم الدین‘‘، ’’یوم الفصل‘‘، ’’یوم الحساب‘‘ اور ’’یوم القیامہ‘‘ جیسے مختلف ناموں سے پکارا ہے۔ قرآن مجید قیامت کے احوال کو نہایت مؤثر، دل دہلا دینے والے اور عبرت آموز انداز میں بیان کرتا ہے تاکہ انسان اپنی اصلاح کر لے اور اعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہو ۔

قرآنِ مجید نہ صرف ہدایت کی کتاب ہے بلکہ یہ انسان کو اُس انجام کی خبر بھی دیتا ہے جو اُسے ایک دن ضرور پیش آنا ہے۔ قیامت کا دن، جسے قرآن نے مختلف ناموں سے یاد کیا ہے، ایک ایسا دن ہو گا جو پوری کائنات کو ہلا کر رکھ دے گا۔ اس دن کی ہولناکیاں، انسانوں کے اعمال کا حساب، اور جزا و سزا کا منظر قرآن کریم میں نہایت مؤثر انداز میں بیان ہوا ہے۔ یہ تمہید اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ قیامت صرف ایک تصور نہیں بلکہ یقینی طور پر پیش آنے والا دن ہے، جس کی تیاری ہر ذی شعور پر لازم ہے آیئے ہم اسے قرآن مجید فرقان حمید سے جانتے ہیں ۔

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ (۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)

ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں

کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔ (الانفطار 82 آیت 1-5)

تفسیر صراط الجنان:اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ: جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ۔(النبا 78 آیت 17-18)

یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ: جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی: ارشاد فرمایا کہ فیصلے کا دن وہ ہو گا جس دن صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو تم اپنی قبروں سے حساب کیلئے حساب کی جگہ کی طرف فوج در فوج چلے آؤ گے۔( روح البیان، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰ / ۲۹۹، ملخصاً)

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹)

ترجمۂ کنز الایمان:پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔ (القیامۃ 75 آیت 7-9)

(1)اس دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زدہ ہوجائے گی۔

(2)چاندکی روشنی زائل ہوجائے گی جس سے وہ تاریک ہو جائے گا۔

(3) سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔ یہ ملا دینا طلوع ہونے میں ہوگا کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے یا بے نور ہونے میں ہو گا کہ دونوں کی روشنی ختم ہوجائے گی۔( تفسیرکبیر،القیامۃ،تحت الآیۃ:۷-۹،۱۰ / ۷۲۳-۷۲۴، روح البیان،القیامۃ،تحت الآیۃ:۷-۹،۱۰ / ۲۴۵-۲۴۶،ملتقطاً)

قرآن مجید میں قیامت کے احوال کا ذکر صرف خبر دینے کے لیے نہیں بلکہ انسان کو جگانے کے لیے ہے۔ یہ احوال ہمارے دلوں کو دہلا دینے والے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں، گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔ اللہ ہمیں قیامت کے دن کی ہولناکی سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ