دنیا کی زندگی انسان کو ایک پُر سکون اور قائم نظام دکھائی دیتی ہے۔ زمین اپنے مدار پر قائم ہے، سورج و چاند اپنی گردش میں مصروف ہیں، پہاڑ زمین کے لیے گویا میخوں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور سمندر اپنی حدود میں قید ہیں۔ لیکن قرآن ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ ایک دن آئے گا جب یہ سارا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور کائنات اپنی اصل حقیقت آشکار کر دے گی۔ یہی دن قیامت کہلاتا ہے۔

اس دن زمین اپنی بنیادوں سے ہل اٹھے گی۔ وہ پہاڑ جو انسان کو مضبوطی کی علامت دکھائی دیتے ہیں، ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔ سمندر اپنی گہرائیوں سے ابھر کر کناروں کو توڑ ڈالیں گے اور آسمان اپنی مضبوطی کے باوجود پھٹ جائے گا۔ ستارے بجھ جائیں گے اور سورج اپنی روشنی کھو بیٹھے گا۔ گویا وہ سب کچھ جسے انسان ہمیشہ کے لیے قائم سمجھتا تھا، یکسر بدل جائے گا۔

قیامت کے دن کا سب سے بڑا منظر انسان کی اپنی بے بسی اور حیرانی ہے۔ وہ اپنے پیاروں سے بے نیاز ہو جائے گا، کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ دنیاوی رشتے، محبتیں اور سہارے سب ٹوٹ جائیں گے۔ ہر شخص اپنی نجات اور حساب کی فکر میں ہوگا۔ یہ وہ دن ہوگا جب ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا۔

قیامت کا منظر حقیقی :قیامت کے حوالے سے کچھ آیات کریمہ ملاحظہ فرمائیں جس میں ہمیں اس کی اہمیت کا اندازا ہو جیسے کہ رب العالمین قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)

جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(ترجمہ کنزالایمان سورۃ الانفطار82 آیت1_5 )

اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں  قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں  کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں  سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں  گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں  اور جب سمندروں  میں  قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں  گے اور جب قبریں  کریدی جائیں  گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں  گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں  اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)

قیامت میں زمین کا حال:ایک آیت کریمہ میں ہمیں بتایا جا رہا ہے کی قیامت والے دن زمین کا کیا حال ہوگا جیسے کہ ایک آیت کریمہ میں رب العالمین نے ارشاد فرمایا ہے : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان :جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔( سورۃ الزلزال 99 آیت 1)

اس آیت میں رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۰۰)

فیصلے کا دن :دنیا کے فیصلے کا دن مقرر ہے اس پر ایک آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں جس میں ہمیں قیامت کے دن کا فیصلہ کن ہونے کہ حوالے سے بتایا گیا ہے رب العالمین ارشاد فرماتا ہے : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمہ کنزالایمان :بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ۔( سورۃ النباء 78 آیت 17_18 )

اس آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ بیشک وہ دن جس میں   اللہ  تعالیٰ مخلوق کافیصلہ فرمائے گا وہ ا س کے علم میں ثواب اور عذاب کے لئے ایک مقرر کیا ہوا وقت ہے۔( جلالین مع صاوی، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۷، ۶ / ۲۳۰۰)

اورقیامت کہ دن صور کہ حوالے سے بتایا جا رہا ہے :کہ فیصلے کا دن وہ ہو گا جس دن صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو تم اپنی قبروں سے حساب کیلئے حساب کی جگہ کی طرف فوج در فوج چلے آؤ گے۔( روح البیان، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰ / ۲۹۹، ملخصاً)

ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا ذکر محض ایک علمی موضوع نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جس کا یقین انسان کے دل میں بیداری پیدا کرتا ہے۔ جب آیاتِ قرآنی کی روشنی میں قیامت کی ہولناکیاں، حساب و کتاب کی سختی اور جزا و سزا کی کیفیت سامنے آتی ہے تو دل لرز اُٹھتا ہے اور عمل کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔

انسان کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت کی زندگی ابدی۔ کامیاب وہی ہے جو آج کے دن اپنی اصلاح کر لے، گناہوں سے توبہ کرے اور نیک اعمال کی طرف بڑھ جائے۔ قیامت کی آیات کا پیغام یہی ہے کہ غفلت نہ کرو، وقت کو غنیمت جانو، اور اپنے رب کے حضور کامیاب کھڑے ہونے کی تیاری کرو۔

اے اللہ! قیامت کے دن کی سختیوں اور خوف سے ہمیں اپنی پناہ عطا فرما۔

اے ربّ! حساب و کتاب کو ہمارے لئے آسان بنا، میزان میں ہمارے نیک اعمال کو بھاری فرما، اور ہمارے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف فرما۔اے پروردگار! پل صراط سے سلامتی کے ساتھ گزار دے اور ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت الفردوس میں داخل فرما۔اے اللہ! ہمیں دنیا میں ایمان، آخرت میں نجات اور اپنی رضا و قرب عطا فرما۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ یا رب العالمین