محمد حسنین رضا عطاری مرکزی جامعۃُ
المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
کریم نے قیامت کو ایک ایسی حقیقت قرار دیا ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں،
اور یہ ایمان بالآخرة کی بنیاد ہے۔ ایمان بالآخرة اسلام کے بنیادی ارکانِ ایمان میں
سے ہے، جس کے بغیر ایمان کا تصور ہی ادھورا رہتا ہے۔ قیامت پر ایمان انسان کو یہ
حقیقت سمجھاتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور اس کی ساری آسائشیں اور مشکلات وقتی ہیں،
جبکہ اصل اور دائمی زندگی آخرت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید بار بار قیامت کے
ہولناک اور عبرت انگیز مناظر کو بیان کرتا ہے، تاکہ انسان غفلت کی نیند سے بیدار
ہو جائے اور یہ یاد رکھے کہ ایک دن اسے اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنے ہر چھوٹے
بڑے عمل کا حساب دینا ہے۔ اس مسلسل یاد دہانی کا مقصد انسان کے دل کو جھنجھوڑنا
اور اس کے کردار کو سنوارنا ہے تاکہ وہ گناہوں سے بچے اور نیک اعمال کی طرف متوجہ
ہو۔
قیامت
کے مناظر قرآن کی روشنی میں:آسمان کا حال:
اللہ
تعالیٰ سورۃ الانفطار آیت ( 1 ) میں قیامت کے ہولناک مناظر بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان
:جب آسمان پھٹ جائے گا۔
اس
دن آسمان کی وہ مضبوط و مستحکم بناوٹ جسے آج انسان بے عیب اور قائم و دائم سمجھتا
ہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ آسمان کا یہ شق ہونا اس بات کی علامت ہوگا کہ
کائنات کا موجودہ نظام درہم برہم ہو رہا ہے اور ایک نیا نظام قائم ہونے والا ہے۔ یہ
منظر انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ کوئی چیز دائمی اور مستقل نہیں،
بلکہ ہر شے فنا پذیر ہے اور سب کچھ ایک دن اللہ کے حکم سے ختم کر دیا جائے گا۔
آسمان کے پھٹنے کی یہ کیفیت قیامت کے دن کی ہیبت اور خوف کو نمایاں کرتی ہے اور
انسان کو جھنجھوڑ کر یاد دلاتی ہے کہ وہ دن معمولی نہیں ہوگا، بلکہ ایسا دن ہوگا
جس کے بعد ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
زمین
کا حال: اللہ
تعالیٰ سورۃ الزلزال آیت ( 1 ) میں قیامت کے آغاز کا ایک نہایت ہولناک منظر بیان
فرماتا ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان "جب زمین
تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔"
اس
دن زمین اس طرح لرزے گی اور تھرتھرائے گی کہ انسان نے اس سے پہلے کبھی ایسی شدت
اور ہولناکی کا تجربہ نہیں کیا ہوگا۔ آج دنیا میں آنے والے زلزلے لوگوں کو خوفزدہ
کر دیتے ہیں، مگر قیامت کے دن کا زلزلہ سب سے شدید اور سب سے مختلف ہوگا، جو زمین
کے اندر چھپی ہر چیز کو باہر نکال دے گا۔ زمین کا یہ ہلنا اس بات کی نشانی ہوگا کہ
دنیا کا نظام اختتام کو پہنچ چکا ہے اور اب انسان کو اپنے اعمال کے حساب کے لیے رب
کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہ منظر انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ کوئی
طاقت زمین کو تھام نہیں سکتی، اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو زمین اپنی بنیادوں سے ہل
جائے گی۔ اس کیفیت کو یاد کرنے سے دل کانپ اٹھتا ہے اور انسان کو توبہ اور نیک
اعمال کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔
ایمان
بالآخرة کی اہمیت:ایمان بالآخرة کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ انسان کو
اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ جب دل میں یہ
یقین بیٹھ جاتا ہے کہ ہر نیک اور بد عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش کیا جائے گا تو
انسان اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو ظلم کرنے، دھوکہ
دینے اور گناہوں میں مبتلا ہونے سے روکتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی سزا یا
انعام وقتی ہے لیکن آخرت کا حساب ہمیشہ کے لیے ہے۔ یہی یقین انسان کو اچھے اخلاق
اپنانے، دوسروں کے ساتھ انصاف کرنے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس
طرح ایمان بالآخرة ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کے کردار کو سنوارتا اور اس کے اعمال
کو بہتر بناتا ہے۔
قیامت
کی یاد کا اثر:قیامت کی یاد انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جب
کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر حساب دینا ہے تو
اس کے دل میں خوف اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساس اسے گناہوں سے
بچاتا اور توبہ و استغفار کی طرف مائل کرتا ہے۔ آخرت پر یقین رکھنے والا شخص جانتا
ہے کہ دنیا کی لذتیں اور خواہشات عارضی ہیں، لیکن آخرت کی جزا یا سزا ہمیشہ کے لیے
ہے، اسی لیے وہ چند لمحوں کی خوشی کے بدلے ابدی عذاب مول نہیں لیتا۔ قیامت کی یاد
اسے پرہیزگاری اختیار کرنے، نیک اعمال کرنے اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے پر
آمادہ کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارتا ہے، وہی
حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔لہذا اصل عقل مندی یہی ہے کہ قیامت کی تیاری کی جائے،
توبہ میں دیر نہ کی جائے اور نیک اعمال کو زادِ راہ بنایا جائے، تاکہ کل آخرت میں
کامیابی نصیب ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ کی توفیق دے اور قیامت کے دن اپنے نور سے
نوازے۔ آمین۔
Dawateislami