انسان
کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت وہ دن ہے جسے قرآن نے کبھی" یوم القیامہ"
کہا، کبھی "یوم الحسرة" اور کبھی" یوم الفصل"۔ یہ دن محض ایک
عقیدہ نہیں بلکہ وہ کائناتی انقلاب ہے جس کے بعد انسان کی اصل زندگی کا آغاز ہوگا۔
قرآن نے اسے اس قدر مؤثر اور جاذب انداز میں بیان کیا ہے کہ سننے والے کے دل میں
لرزہ اور امید دونوں پیدا ہو جاتی ہیں۔
یہی
وجہ ہے کہ ایمان بالآخرت کو ایمان کی تکمیل قرار دیا گیا ہے۔ دراصل قیامت کا تصور
محض ایک آنے والا واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو انسان کی پوری زندگی کا
زاویہ بدل دیتا ہے۔ یہ عقیدہ اسے اس دنیا کی عارضی چمک دمک سے اوپر اٹھا کر اصل
منزل کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اگر آخرت کا یقین نہ ہو تو انسان کی زندگی محض کھیل
تماشہ بن جائے، مگر جب دل میں یہ ایمان راسخ ہو کہ ایک دن سب کچھ اللہ کے حضور پیش
ہوگا تو کردار میں سنجیدگی، عمل میں اخلاص اور رویّے میں جواب دہی کا احساس پیدا
ہوتا ہے۔
اچانک
آنے والی گھڑی:قیامت کی ہولناک حقیقت یہ ہے کہ وہ اچانک برپا ہوگی۔ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا
بَغْتَةًؕ ترجمہ کنز العرفان:تم پر وہ اچانک ہی آجائے گی۔(الاعراف،07:
187)
انسان
اپنی دنیاوی مصروفیات میں مگن ہوگا، منصوبے بنا رہا ہوگا، کہ دفعتاً کائنات کا
پردہ چاک ہوگا اور ہر شے فنا کے دہانے پر جا کھڑی ہوگی۔
کائنات
کا درہم برہم ہونا:اس دن کائناتی نظام اپنی بنیادوں سے ہل جائے گا۔ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) ترجمہ کنز العرفان:جب سورج کولپیٹ
دیا جائے گا۔(التکویر،81: 01)
وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) ترجمہ کنز العرفان: جب
تارے جھڑ پڑیں گے۔ (التکویر،81: 02)
وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْﭪ(۶) ترجمہ کنز العرفان:جب
سمندر سلگائے جائیں گے۔(التکویر،81: 06)
پہاڑ
جو انسان کو ٹھوس اور ابدی دکھائی دیتے تھے، روئی کے گالوں کی طرح بکھر جائیں گے۔
یہ وہ مناظر ہیں جنہیں قرآن بار بار دوہرا کر انسان کو جھنجھوڑتا ہے۔
حشر
و آخرت کا نقشہ:انسان کی زندگی کا سب سے ہولناک مگر بیدار کُن لمحہ وہ
دن ہوگا جب صور پھونکا جائے گا:
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمہ
کنز العرفان:جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔(النباء،78:
18)
زمین
اپنی آغوش چاک کر دے گی اور تمام مخلوق لشکروں کی صورت میں میدانِ حشر میں جمع ہوگی۔
وہاں نہ بادشاہ کی شان باقی رہے گی نہ فقیر کی محتاجی؛ سب برابر، سب اپنے رب کے
حضور کھڑے۔
قیامت
کا قرآنی بیان انسان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔ لہٰذا ہم دنیا
کو عارضی سمجھ کر تقویٰ، نیک اعمال، توبہ و استغفار اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار
بنائیں تاکہ حشر کے دن کامیابی اور جنت کی ابدی راحت نصیب ہو۔
Dawateislami