ملک دلبر (درجہ
رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
مجید میں بار بار قیامت کا ذکر آیا ہے تاکہ انسان اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری اور
جواب دہی کے شعور کے ساتھ گزارے۔ قیامت کے دن سب انسان اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔
نیکوکار جنت میں داخل ہوں گے اور بدکار جہنم میں جائیں گے۔ ذیل میں قرآنِ مجید کی
روشنی میں قیامت کے پانچ اہم احوال بیان کیے جاتے ہیں:
(1)
آسمان کا پھٹ جانا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ
پڑے۔(سورۃ الانفطار، آیت 1، پارہ 30)
یعنی
قیامت کے دن آسمان کی حالت بدل دی جائے گی۔
(2)
پہاڑوں کا اڑ جانا: وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمہ کنز الایمان:اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے
چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا (سورۃ النبأ، آیت 20،
پارہ 30)
یعنی
زمین کے مضبوط پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔
(3)
انسانوں کا جمع ہونا: یَوْمَ
یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) ترجمہ کنزالایمان: جس دن آدمی
ہوں گے جیسے پھیلے پت۔(سورۃ القارعۃ، آیت 4، پارہ 30)
یعنی
سب لوگ گھبراہٹ اور پریشانی میں ہوں گے۔
قیامت
کا دن ایک یقینی حقیقت ہے۔ قرآن ہمیں بار بار اس کی یاد دہانی کراتا ہے تاکہ ہم
اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں۔ نیک اعمال کرنے والے کامیاب ہوں گے
اور برے اعمال والے نقصان اٹھائیں گے۔
Dawateislami