توصیف الرحمٰن عطاری( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
قرآنی
آیات میں دیگر چیزوں کے بیان کے ساتھ ساتھ روزِ قیامت، اُس کی ہولناکیوں اور اُس
سے پہلے رونما ہونے والے واقعات، آثار اور علامات کا بیان بھی بڑے واضح انداز سے
موجود ہے۔ جس میں مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے، میدان حشر میں جمع ہوں گے، اور
حساب کتاب کے بعد جنت یا جہنم میں داخل ہوں گے۔ اس کے شروع ہونے سے قبل علامات صغریٰ
اور کبریٰ نشانیاں ظاہر ہوں گی۔
آیئے اب ہم قیامت کے چند احوال ملاحظہ کرتے ہیں :
(1 ) آسمان کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱)
وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ
اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ
اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنز
العرفان: جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں
گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور
جو پیچھے چھوڑا۔ ( پ 30 ، الانفطار : 82 ،
آیت 1۔ 5 )
(2) نامہ اعمال کا پڑھنا:وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ
عُنُقِهٖؕ-وَ نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ
مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴)ترجمہ
کنز العرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگادی ہے اور ہم اس کیلئے
قیامت کے دن ایک نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔۔( فرمایا جائے گا
کہ) اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔ ( پ : 15، بنی اسرائیل: 17 ، آیت 13۔ 14)
(3) زمین کا تھر تھرانا :اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنز العرفان: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی
جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔ ( پ : 30 ، الزلزال: 99 ، آیت 1 )
(4) صور کا پھونکنا : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی
الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمہ کنز العرفان : :بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر
وقت ہے۔جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔ ( پ: 30 ، النبا: 78 ، آیت 17 ۔18 )
(5) پہاڑی چلائے جائیں گے : وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹)
وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمہ کنز العرفان: اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے بن
جائے گا۔اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے باریک چمکتی ہوئی ریت
جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔ ( پ: 30
، النبا: 78 ، آیت 19- 20 )
(6) دل کا خوفزدہ ہونا : قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸) اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ(۹) ترجمہ کنز العرفان: دل اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ان کی
آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ ( پ: 30 ، النازعات: 79، آیت 8-9)
مذکورہ بالا تمام آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کے قیامت
کا دن خوف و ڈر ، مشکلات اور پریشانیوں کا دن ہے ۔
امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ
سَلْبِ ایماں پُرسِشِ قبر و قِیامت سے ڈرو
علم کو کافی نہ سمجھو نیکیاں کرتے رہو
دعا
ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں خوب نیک اعمال کرنے اور دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری
کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
محمد حسنین صدیقی (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابو عطار کراچی ، پاکستان)
انسان
کی زندگی کا سب سے بڑا دن وہ ہے جب اسے اپنے رب کے حضور پیش کیا جائیگا۔ دنیا کی
ساری بھاگ دوڑ اسی لیے ہے کہ وہاں کامیابی حاصل ہو۔ مگر افسوس! دنیا کی چمک دمک ہمیں
اکثر غفلت میں ڈال دیتی ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث بار بار ہمیں آخرت یاد دلاتے ہیں
تاکہ ہم خوابِ غفلت سے جاگ جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:الكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ ترجمہ:
عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔(جامع
ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: 2459)
یہ
حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اصل عقلمند یعنی سمجھدار وہی ہے جو اپنے آپ کو آخرت کے لیے
تیار کرے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآنِ حکیم کس طرح قیامت کے
مناظر بیان کر کے ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔
قرآن میں قیامت کے مناظر:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ
مَا لَهَاۚ(۳) ترجمۂ کنزالعرفان: "جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے
اس کا تھرتھرانا طے ہے، اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔ اور آدمی کہے گا
:اسے کیا ہوا(پ30،الزلزال،1تا 3)
تفسیر
(صراط الجنان): زمین اس دن اپنے اندر چُھپے مُردوں کو نکال دے گی اور تمام راز
ظاہر ہو جائیں گے، انسان گھبراہٹ میں پکار اٹھے گا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
اسی
طرح ارشاد فرمایا: فَاِذَا
جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ
وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ
شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنزالعرفان: پھر جب وہ کان
پھاڑنے والی چنگھاڑ آئے گی، اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا، اور اپنی ماں اور
اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی
فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(پ30،عبس،33تا 37)
تفسیر
(صراط الجنان): قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر ہر شخص کو اپنی ہی جان کی فکر ہو گی،
وہ تمام رشتے بُھلا دے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کرے گا کہ ان میں
کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کر لے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسی فکر
ہوگی جو اسے دوسروں سے لاپرواہ کردے گی۔
مزید
فرمایا: یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ
غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۴۸)
ترجمۂ کنزالعرفان:
"یاد کروجس دن زمین کو دوسری زمین سے اور آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور
تمام لوگ ایک اللہ کے حضور نکل کھڑے ہوں گے جو سب پر غالب ہے"۔(پ13،ابراہیم،48)
تفسیر
(صراط الجنان): اس دن یہ موجودہ زمین و آسمان کے اوصاف بدل جائیں گے (مثلاً زمین ایک
سطح ہو جائے گی، نہ اُس پر پہاڑ باقی رہیں گے وغیرہ) اور نئی زمین پر سب جمع ہوں
گے تاکہ اللہ کے حضور حساب دیا جائے گا۔
ایمان
بالآخرة کی اہمیت:ایمان بالآخرت انسان کو سیدھی راہ پر رکھتا ہے۔ کیونکہ
جس کاپختہ یقین ہو کہ حساب دینا ہے، وہ گناہوں سے بچتا ہے اور نیکیوں کی طرف لپکتا
ہے۔ یہی یقین انسان کو سنجیدہ بناتا ہے۔
قیامت
کی یاد کا اثر:قیامت کو یاد کرنے سے دل نرم ہوتا ہے، توبہ کی رغبت بڑھتی
ہے، اور نیک اعمال کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے۔ جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا یقین
رکھتا ہے، وہ دنیا کی خواہشات میں اندھا نہیں ہوتا۔
قرآن
و حدیث ہمیں بار بار یاد دلاتے ہیں کہ قیامت ایک حقیقت ہے اور ہر عمل کا حساب ہو
گا۔ کامیاب وہی ہے جو آج اپنی زندگی کو آخرت کے مطابق سنوار لے۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے، قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے
محفوظ رکھے، اور اپنے محبوب ﷺ کے صدقے ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید
المرسلین و خاتم النبیین ﷺ
عبدل رحمان عطّاری (درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
قیامت
وہ دن ہے کہ جس کا اللہ تعالی نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے اس دن اللہ تعالی
بندوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا جن کے اعمال اچھے ہوں گے تو انہیں
اللہ عزوجل جزا دے گا اور جن کے اعمال برے ہوں گے تو انہیں اللہ عزوجل سزا دے گا اور
قیامت کے احوال کو قران مجید میں کئی طرح سے بیان کیا گیا ہے قران پاک میں احوالے
قیامت کچھ یوں بیان ہوئے ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(پ30،الزلزلۃ،1)
تفسیر صراط الجنان: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَا: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے
ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر
کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر
چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا
قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔
اور
قران مجید میں ایک مقام پر اور فرمایا گیا قیامت کا زلزلہ کتنا ہولناک ہے اس کے
بارے میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ
زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بیشک
قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔(پ17،الحج،1)
آیت
کی تفسیر : یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا
رَبَّكُمْ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو: اس سورۃٔ مبارکہ کی پہلی آیت
میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ تقویٰ
اور خوفِ خدا ہی ایسی چیزیں ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے اَعمال واَخلاق کی اصلاح
کرتا ہے اور معاشرہ میں ایک اچھا انسان بن کر رہتا ہے۔ اور چونکہ تقویٰ اور خوفِ
خداوندی پر سب سے زیادہ ابھارنے والی چیز قیامت ہے لہٰذا اس کاتذکرہ بھی اسی آیت
میں کردیا کہ قیامت کی ہَولناکیاں ،اس کا حساب وکتاب اور اس کے اَحوال پیش ِنظر
ہوں گے توکوئی بھی انسان کسی دوسرے کی حق تَلفی ،ظلم وستم ، اور کسی قسم کی بھی زیادتی
نہیں کرے گا۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کے عذاب سے ڈرو اور اس کی
اطاعت میں مشغول ہو جاؤ، بیشک قیامت کا زلزلہ جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور قیامت
کے قریب سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے نزدیک واقع ہو گابہت بڑی چیز ہے۔ ( پ17 ،
الحج، آیت: 1)
اور
اسی کی اگلی آیت میں فرمایا گیا: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تم
اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی
اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ
ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔ (پ17، الحج، آیت2)
تفسیر صراط الجنان میں ہیں:یَوْمَ تَرَوْنَهَا:جس
دن تم اسے دیکھو گے: ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو دیکھو گے تو یہ
حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی
اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے
گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں
گے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
چنانچہ
رب تعالی عزوجل قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے : یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُ(۹) فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا
نَاصِرٍ(۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:جس
دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی ۔تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار ۔ (پ30،الطارق،9،10)
تفسیر صراط الجنان: یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُ: جس دن چھپی باتوں کو
جانچا جائے گا:اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جس دن چھپی باتوں
کو ظاہر کر دیا جائے گا تو اس دن مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کاا نکار کرنے
والے آدمی کے پاس نہ کوئی ایسی قوت ہوگی جس سے وہ عذاب کو روک سکے اور نہ اس کا
کوئی ایسا مددگار ہوگا جو اُسے عذاب سے بچا سکے۔ چھپی باتوں سے مراد عقائد ،نیتیں اور
وہ اعمال ہیں جن کو آدمی چھپاتا ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سب کو ظاہر کردے گا( پ30س طارق آیت9)
اللہ
تعالی ارشاد فرماتا ہے : فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ
الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:پھر
جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔
(پ29، القیامہ: 7تا9)
تفسیر صراط الجنان: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ:
توجس دن آنکھ دہشت زدہ ہوجائے گی: اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ کافر نے قیامت
کے واقع ہونے کو بعید سمجھتے ہوئے مذاق اُڑانے کے طور پر اس کے بارے میں سوال کیا
کہ قیامت کب واقع ہو گی اور اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا س کے سوال کا جواب دیتے ہوئے قیامت
کی تین علامات بیان فرمائی ہیں ۔
(1)اس
دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زدہ ہوجائے گی۔
(2)چاندکی
روشنی زائل ہوجائے گی جس سے وہ تاریک ہو جائے گا۔
(3) سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔ یہ ملا دینا
طلوع ہونے میں ہوگا کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے یا بے نور ہونے میں ہو گا کہ دونوں
کی روشنی ختم ہوجائے گی۔( پ29 ، القیامہ آیت7،
8، 9 )
جب
خواہشات نفسانی کا غلبہ ہو تو اس وقت بندہ شیطانی غفلت کی وجہ سے فیصلہ کئے بغیر
ٹھنڈے ذہن سے سوچے بغیر افعال سرانجام دے دیتا ہےاس وقت تحمل کے عادی شخص کا بچنا
آسان ہوتا ہےحالانکہ اس حساب کے دن ہولناکیوں سے کسی بھی شخص کا دل لرز جائےیہ توفیق
ملنا تب ممکن ہے جب اس وقت کا تذکرہ بار بار ہو۔
پہلی
دلیل: قرآن کی رہنمائی:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ
اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا ترجمہ
کنزالایمان: جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے بچے کو بھول جائے گی
اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔(پ17،الحج،2)
مفہوم: یہ آیت بتاتی ہے کہ قیامت کے دن کا خوف
اور ہولناکی اتنی شدید ہوگی کہ فطری محبتیں اور انس بھی بھلا دیے جائیں گے۔
دوسری
دلیل: رسول اللہ ﷺ کی احادیث
(1)
حشر کا منظر:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يُحشَرُ الناسُ يومَ القيامةِ حفاةً عُراةً غُرلاً ترجمہ:
قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے جمع کیے جائیں گے۔(صحیح بخاری،
کتاب الرقاق، حدیث 6527)
مفہوم:
یہ حدیث ہمیں اس دن کی بے بسی اور ہیبت کا احساس دلاتی ہے۔
(2)
سورج کی نزدیکی :نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ،
حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ ترجمہ: قیامت کے دن سورج مخلوق
کے قریب کر دیا جائے گا یہاں تک کہ ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔(صحیح مسلم، کتاب صفۃ
القيامۃ، حدیث 2864)
مفہوم:
یہ منظر بتاتا ہے کہ انسان شدید گرمی اور سخت تکلیف میں مبتلا ہوگا۔
اللہ
پاک ہمیں بھی تمام افعال شریعت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد اویس تبسم ( دورہ حدیث جامعۃُ
المدینہ فیضان مدینہ سیالکوٹ ، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! حساب کتاب ایک ایسا منظر ہے۔ جس کی وجہ سے انسان کئیں طرح کی
خرافات سے بچا رہتا ہے۔ ہمارے یہاں پولیس ہے تو انسان کوئی غلط کام جو قانونا جرم
ہو کرنے سے پہلے لاکھ بار سوچے گا۔ کہ کہیں پکڑا گیا تو سزا ملے گی عدالت میں پیش
ہونا پڑے گا۔ پیارے اسلامی بھائیو! دین اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ جس میں کئیں
کام کرنے اور کئیں کاموں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ دنیا میں بندے کو اختیار دیا کہ
دونوں راستے نیکی کا اور برائی کا بندے کے سامنے ہے۔ اگر نیکی کے راستے پر چلے گا
تو جنت میں جائے گااور اگر برائی کے راستے پر چلے گا تو دوزخ میں جائے گا ۔اس عظیم
فیصلے کے لیے ایک عظیم دن مقرر کیا گیا جسے قیامت کہتے ہیں۔اللہ اکبر قیامت کے
احوال کس قدر حولناک ہوں گے ! قرآن کریم میں بہت زیادہ مقامات پہ اس بات کا ذکر کیا
گیا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا اور وہی دن قیامت ہے۔چنانچہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:
لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ(۱)
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ(۲) اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ
نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ(۳) بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ(۴)
بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ(۵) یَسْــٴَـلُ اَیَّانَ یَوْمُ
الْقِیٰمَةِؕ(۶) فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ
الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍ اَیْنَ
الْمَفَرُّۚ(۱۰) كَلَّا لَا وَزَرَؕ(۱۱) اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمُسْتَقَرُّؕ(۱۲)
یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ(۱۳) بَلِ
الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ(۱۴) وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ(۱۵)
ترجمۂ کنز العرفان:مجھے قیامت کے دن کی قسم
ہے۔اور مجھے اس جان کی قسم ہے جو اپنے اوپر ملامت کرے۔کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم
ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے۔کیوں نہیں ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کے
انگلیوں کے پوروں (تک) کو ٹھیک کردیں ۔بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے کو جھٹلائے۔پوچھتا
ہے :قیامت کا دن کب ہوگاتوجس دن آنکھ دہشت زدہ ہوجائے گی۔اور چاندتاریک ہوجائے
گا۔اور سورج اور چاند کو ملا دیا جائے گا۔اس دن آدمی کہے گا: بھاگنے کی جگہ کہاں
ہے ہرگز نہیں ،کوئی پناہ نہیں ہوگی۔اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے۔اس دن
آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا بتادیا جائے گا۔بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری
نگاہ رکھنے والا ہوگا ۔اگرچہ اپنی سب معذرتیں لا ڈالے ۔(پ29،القیامۃ،1تا 15)
پیارے
اسلامی بھائیو! قیامت کا دن ایک ایسا دہشت ناک دن ہے۔ کہ دنیا میں بہت پیار کرنے
والے رشتہ دار بھی کام نہیں آئیں گے حتی کہ ماں، باب بھی اس دن اولاد سے دور بھاگیں
گے۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ
عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ
تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ
بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز العرفان : اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو
،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)
ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل
ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں
گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
(پ17،الج
،1،2)
پیارے
اسلامی بھائیو! سنا آپ نے کہ قیامت کے دن
ماں اپنے بچے سے دور بھاگے گی کس قدر وحشت کا دن ہو گا مگر اس دن بھی کئیں خوش نصیب
جنہوں نے رب تعالی کو راضی کیا ہو گا وہ اس دن بھی اللہ پاک کے عرش کے سائے میں
ہوں گے اللہ پاک ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے قیامت کی حولناکیوں سے محفوظ رکھے
اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کی شفاعت نصیب فرما کر جنت میں داخلہ عطا فرمائے آمین بجاہ
خاتم النبیین ﷺ۔
محمد
رضا ( درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قرآن
مجید میں انسانی زندگی کے ہر پہلو پر رہنمائی فراہم کی گئی ہے، اور اس کا ایک اہم
حصہ روزِ آخرت کا بیان ہے۔ روزِ قیامت، جس کا ذکر قرآن میں بار بار کیا گیا ہے، وہ
دن ہے جب کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب
دینا ہوگا۔ یہ دن اللہ کی لامحدود قدرت اور عدل کا مظہر ہوگا۔ قرآن نے قیامت کے ان
ہولناک اور حیرت انگیز احوال کو اس قدر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے کہ یہ دلوں کو
دہلا دیتا ہے اور انسانوں کو اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس دلاتے ہیں۔
قیامت
سے قبل کے قرآنی نشانات:قرآن کے مطابق قیامت اچانک نہیں آئے گی، بلکہ اس سے پہلے
کچھ واضح نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ اللہ نے سورۃ الزخرف میں فرمایا ہے: هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ
بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۶۶) ترجمۂ کنز الایمان :کاہے کے انتظار میں ہیں مگر
قیامت کے کہ اُن پر اچانک آجائے اور اُنہیں خبر نہ ہو۔(پ 25،الزخرف،66)
یہ
اچانک آنے والا لمحہ ہوگا لیکن اس سے پہلے دنیا میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی، جن کا
ذکر حدیث میں بھی ملتا ہے۔ قرآن نے قیامت کے قریب ہونے کو ایک ایسی حقیقت کے طور
پر پیش کیا ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
قیامت
کے دن کا آغاز اور کائناتی تبدیلیاں:قیامت کا آغاز ایک سخت آواز یا
صور پھونکنے سے ہوگا، جسے قرآن نے مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ سورۃ الحاقہ میں
فرمایا گیا: فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ
نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً
وَّاحِدَةً(۱۴) فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ(۱۵) ترجمۂ کنز الایمان:پھرجب صُور پھونک دیا جائے ایک
دم اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً چورا کردئیے جائیں وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی۔ (پ29،الحاقۃ،13تا15)
اس صور کے پھونکتے ہی کائنات کا نظام درہم برہم
ہو جائے گا۔ زمین اپنی اندرونی حرارت اور بوجھ باہر نکال دے گی۔
آسمان
اور ستارے: آسمان شگاف پڑ جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور چاند
اور سورج کی روشنی ختم ہو جائے گی۔ سورۃ الانفطار میں ہے : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا
الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ
بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب
تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے
گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(پ30،الانفطار،1تا5)
یہ
مناظر کائنات کی بے بسی اور اللہ کی لامحدود طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔
انسانی
حالت اور نفسا نفسی کا عالم:اس دن ہر انسان اپنی ہی فکر میں
ہوگا، کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ قرآن پاک سورۃ عبس میں ہے: فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳)
یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ
صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب
آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور
باپ۔ اور جورو (بیوی)اور بیٹوں سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی
اسے بس ہے ۔(پ30،عبس،33تا 37)
ہر
انسان اپنے اعمال کی فکر میں ہوگا اور دوسروں کو پہچاننے سے بھی انکار کر دے گا۔ یہ
منظر انسان کی بے بسی اور تنہائی کو ظاہر کرتا ہے جب اسے صرف اپنے اعمال کا سامنا
کرنا ہوگا۔
حساب
اور اعمال نامے کا پیش ہونا:قیامت کا سب سے اہم مرحلہ حساب
کتاب ہے۔ ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ سورۃ الکہف میں ہے:
وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى
الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ
هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ
اَحْصٰىهَاۚ-وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ
اَحَدًا۠(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور
نامۂ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے
اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا
نہ بڑا جسے گھیرنہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی
پر ظلم نہیں کرتا۔(پ15،الکہف،49)
اس دن انسان کے ہاتھ، پاؤں، کان اور زبان اس کے
خلاف گواہی دیں گے۔ یہ گواہیاں چھپائی نہیں جا سکیں گی کیونکہ یہ خود انسان کے
اعضاء ہوں گے۔
جزا
اور سزا:حساب کے بعد لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا:
دائیں ہاتھ والے (جنتی) اور بائیں ہاتھ والے (دوزخی)۔
جنتیوں
کا حال: جنتی وہ ہوں گے جنہیں اللہ کی رضا اور اس کا رحم حاصل ہوگا۔
قرآن ان کی جنت میں داخلے کو سورۃ زمر میں ایسے بیان کرتا ہے: وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ
اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ
فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ
فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ(۷۳) وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا
وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ
نَشَآءُفَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ(۷۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے
اُن کی سواریاں گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے
اور اس کے دروازے کھلے ہوں گے اور اس کے داروغہ اُن سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب
رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے۔ اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ
ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں تو کیا
ہی اچھا ثواب کامیوں کا۔(الزمر،73،74)
انہیں ایسی نعمتیں دی جائیں گی جنہیں نہ کسی
آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔
دوزخیوں
کا حال: دوزخی وہ ہوں گے جنہیں ان کے برے اعمال کی سزا ملے گی۔ قرآن جہنم کے عذاب
کو خوفناک الفاظ میں بیان کرتا ہے، جیسے کھولتا ہوا پانی، آگ کے لباس اور زنجیریں۔
سورۃ الحج میں ہے:هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا
فِیْ رَبِّهِمْ-فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍؕ-یُصَبُّ
مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ(۱۹) یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ
وَ الْجُلُوْدُؕ(۲۰) ترجمۂ کنز الایمان:یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں
جھگڑے تو جو کافر ہوئے ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونتے گئے ہیں اور ان کے سروں پر
کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ جس سے گل جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور ان
کی کھالیں ۔
یہ عذاب ان کے کفر اور نافرمانی کا ہوگا۔
عبدالرحمٰن
عطاری (درجۂ رابعہ جامعۃُ المدینہ
فیضان رضا چوہنگ ،لاہور)
قراٰنِ مجید میں قِیامت کا بیان کئی مقامات پر کیا گیا ہے، جس میں
اس دن کے ہولناک اور عظیم مَناظر کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ دن محض ایک
واقِعہ نہیں بلکہ ایک ایسا دن ہے جب پوری کائنات کا نِظام درہم برہم ہو جائے گا
اور ہر چیز اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔قراٰنِ کریم میں اس دن کو ”یومُ الدین ، یومُ
الحساب اور اَلسّاعۃ “ جیسے ناموں سے موسوم کیا
گیا ہے۔ قراٰنِ کریم کی روشنی میں چند اَحوالِ قِیامت پڑھیے اور لرزیئے!
(1)
کائنات کا بکھر جانا:قِیامت کے آغاز میں ایک شدید صور پھونکا جائے گا، جس سے
آسمان و زمین کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا:
٭آسمان
پھٹ جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے، ان کی چمک ماند پڑ جائے گی۔قراٰنِ پاک میں
ہے: ﴿اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا
الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: جب آسمان
پھٹ جائے گا اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔ (پ30، الانفطار: 1، 2)
٭زمین
شدّت سے ہلے گی اور اس کا سینہ پھٹ جائے گا، پہاڑ جو کہ زمین پر مضبوطی کا نشان ہیں،
وہ روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اُڑ جائیں گے، چنانچہ ارشادِ باری ہوتا ہے : ﴿وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ
الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی (دُھنی
ہوئی)اون۔ (پ30، القارعۃ: 5)
٭سمندروں
میں آگ بھڑک اٹھے گی، جس سے ان کا پانی کھول اُٹھے گا اور وہ بے قابو ہو جائیں گے۔
قراٰنِ کریم میں ہے: ﴿وَ اِذَا
الْبِحَارُ سُجِّرَتْﭪ(۶) ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اور جب
سمندر سلگائے جائیں ۔ (پ30، التکویر: 6)
(2)
مُردوں کا زندہ ہونا اور حساب و کتاب: پہلے صور کے بعد، ایک
اور صور پھونکا جائے گا جس سے تمام مُردے زندہ ہو کر اپنی قبروں سے باہر نکل آئیں
گے اور وہ میدانِ حشر میں جمع ہوں گے۔
٭اس
وقت لوگ قبروں سے اس طرح نکلیں گے جیسے ٹڈّیوں کا گروہ اُڑ رہا ہو۔قراٰنِ پاک میں
ہے: ﴿یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ
جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ(۷)﴾ ترجمۂ کنزالعرفان: قبروں سے یوں
نکلیں گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ (پ27،القمر:7)
٭یہ
وہ دن ہو گا جب ہر شخص سےاس کی زندَگی کا
حساب لیا جائے گا۔ چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی سامنے آئے گا: ﴿ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)
وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)﴾ترجمۂ
کنزالایمان: تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھر
بُرائی کرے اسے دیکھے گا۔ (پ30، الزلزال)
٭ہر
انسان کے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ دائیں ہاتھ میں نیک لوگوں کو اور
بائیں ہاتھ میں بدکاروں کو: ﴿فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ-فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ
اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ(۱۹)﴾ ترجمۂ کنزالایمان: تو وہ جو
اپنا نامۂ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامۂ اعمال پڑھو۔
(پ29، الحاقۃ: 19)
(3)
جَزا و سَزا: حساب کے بعد لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق ان کے انجام
کی طرف بھیجا جائے گا، نیک لوگوں کو جنّت کی ابدی نعمتیں ملیں گی، جبکہ بدکار
لوگوں کو جہنّم کی آگ اور سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے
: ﴿فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۶)
فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ(۷) وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۸)
فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ(۹) ﴾ترجمۂ کنزالایمان: تو جس کی
تولیں بھاری ہوئیں وہ تو من مانتے عیش میں ہیں اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں وہ نیچا
دکھانے والی گود میں ہے ۔ (پ30، القارعۃ: 6تا 9)
قِیامت
کے ان تمام مَناظر کو بیان کرنے کا مقصد انسان کو دنیا کی بے ثباتی اور آخِرت کی
حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔ قراٰنِ کریم کا بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ یہ دنیا ایک
عارضی ٹھکانہ ہے اور اصل کامیابی آخِرت کی ہے۔
Dawateislami