انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دن وہ ہے جب اسے اپنے رب کے حضور پیش کیا جائیگا۔ دنیا کی ساری بھاگ دوڑ اسی لیے ہے کہ وہاں کامیابی حاصل ہو۔ مگر افسوس! دنیا کی چمک دمک ہمیں اکثر غفلت میں ڈال دیتی ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث بار بار ہمیں آخرت یاد دلاتے ہیں تاکہ ہم خوابِ غفلت سے جاگ جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:الكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ ترجمہ: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔(جامع ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: 2459)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اصل عقلمند یعنی سمجھدار وہی ہے جو اپنے آپ کو آخرت کے لیے تیار کرے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآنِ حکیم کس طرح قیامت کے مناظر بیان کر کے ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔

قرآن میں قیامت کے مناظر:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) ترجمۂ کنزالعرفان: "جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے، اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔ اور آدمی کہے گا :اسے کیا ہوا(پ30،الزلزال،1تا 3)

تفسیر (صراط الجنان): زمین اس دن اپنے اندر چُھپے مُردوں کو نکال دے گی اور تمام راز ظاہر ہو جائیں گے، انسان گھبراہٹ میں پکار اٹھے گا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

اسی طرح ارشاد فرمایا: فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنزالعرفان: پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ آئے گی، اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(پ30،عبس،33تا 37)

تفسیر (صراط الجنان): قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر ہر شخص کو اپنی ہی جان کی فکر ہو گی، وہ تمام رشتے بُھلا دے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کرے گا کہ ان میں کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کر لے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے لاپرواہ کردے گی۔

مزید فرمایا: یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۴۸) ترجمۂ کنزالعرفان: "یاد کروجس دن زمین کو دوسری زمین سے اور آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور تمام لوگ ایک اللہ کے حضور نکل کھڑے ہوں گے جو سب پر غالب ہے"۔(پ13،ابراہیم،48)

تفسیر (صراط الجنان): اس دن یہ موجودہ زمین و آسمان کے اوصاف بدل جائیں گے (مثلاً زمین ایک سطح ہو جائے گی، نہ اُس پر پہاڑ باقی رہیں گے وغیرہ) اور نئی زمین پر سب جمع ہوں گے تاکہ اللہ کے حضور حساب دیا جائے گا۔

ایمان بالآخرة کی اہمیت:ایمان بالآخرت انسان کو سیدھی راہ پر رکھتا ہے۔ کیونکہ جس کاپختہ یقین ہو کہ حساب دینا ہے، وہ گناہوں سے بچتا ہے اور نیکیوں کی طرف لپکتا ہے۔ یہی یقین انسان کو سنجیدہ بناتا ہے۔

قیامت کی یاد کا اثر:قیامت کو یاد کرنے سے دل نرم ہوتا ہے، توبہ کی رغبت بڑھتی ہے، اور نیک اعمال کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے۔ جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا یقین رکھتا ہے، وہ دنیا کی خواہشات میں اندھا نہیں ہوتا۔

قرآن و حدیث ہمیں بار بار یاد دلاتے ہیں کہ قیامت ایک حقیقت ہے اور ہر عمل کا حساب ہو گا۔ کامیاب وہی ہے جو آج اپنی زندگی کو آخرت کے مطابق سنوار لے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے، قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے، اور اپنے محبوب ﷺ کے صدقے ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین و خاتم النبیین ﷺ