اسلام کا ایک بنیادی تصور، یومِ حساب ہے جب ہر فرد سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ قرآن اس دن کو واضح طور پر بیان کرتا ہے، اس کی ہولناکی اور اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآنی آیات کا جائزہ لیں گے جو قیامت کے دن، اس کی تفصیل اور اس کے لیے تیاری کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں۔

قیامت کے دن کی ہولناکی:قرآن نے قیامت کے دن کو بڑی دہشت اور ہولناکی کے دن کے طور پر بیان کیا ہے۔ اس دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا اور ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ قرآن فرماتا ہے:

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔ (سورۃ عبس آیت33تا37)

ترجمۂ کنزالایمان: کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے ہنستے خوشیاں مناتے اور کتنے مونھوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے یہ وہی ہیں کافر بدکار ۔ (قرآن سورۃ عبس آیت38تا42)

قرآن مجید میں قیامت کے دن کی تفصیل

قرآن مجید کی کئی سورتوں میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ کچھ مشہور سورتیں جن میں قیامت کی منظر کشی اور تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان میں سورۃ التکویر، سورۃ الانفطار، سورۃ الواقعہ، اور سورۃ الحاقہ شامل ہیں۔ قیامت کو قرآن میں مختلف ناموں سے بھی پکارا گیا ہے، جیسے یوم الدین اور الیوم الآخر

قیامت کا ذکر کرنے والی چند سورتیں:

سورۃ التکویر:اس سورۃ میں سورج کے تاریک ہونے اور قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہے

سورۃ الانفطار:اس سورۃ میں بھی قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے، جس میں آسمان پھٹ جانے اور ستاروں کے منتشر ہونے کا ذکر ہے.

سورۃ الواقعہ:اس سورت میں قیامت کے دن کے مختلف مناظر اور لوگوں کے جمع ہونے کا ذکر ہے

سورۃ الحاقہ:اس سورۃ میں قیامت کی شدت اور ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے

سورۃ الزمر:اس سور میں صور پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھنے کا ذکر ہے.

سورۃ ص:اس سورۃ میں صور کی ہولناک آواز اور اس سے پیدا ہونے والی دہشت کا ذکر کیا گیا ہے

قیامت کے دیگر نام:قرآن مجید میں قیامت کو ان ناموں سے بھی موسوم کیا گیا ہے:

یوم الدین: یعنی جزا کا دن

الیوم الآخر: یعنی آخرت کا دن

قیامت کی نشانیاں:قرآن و حدیث میں کئی نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو قیامت کے قریب آنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

معمولی نشانیاں: علم کا چھین لینا، جہالت کا پھیل جانا، سود کا پھیل جانا اور شراب کا وسیع استعمال۔

بڑی نشانیاں: دجال کا ظہور، عیسیٰ ابن مریم کا نزول، یاجوج ماجوج اور تین تودے گرنا۔

یومِ جزا اسلام میں ایک بنیادی تصور ہے، جو احتساب اور تیاری کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ قرآن اس دن کی واضح وضاحت کرتا ہے، اس کی ہولناکی اور اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ بحیثیت مومن، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے اعمال پر غور کریں اور اسلام کی موجودہ تعلیمات کے مطابق زندگی گزار کر اس دن کے لیے تیاری کریں۔ ایسا کرنے سے، ہم قیامت کے دن ایک سازگار حاصل کرنے اور جنت میں جگہ حاصل کرنے کی امید کر سکتے ہیں۔


قرآن کریم میں قیامت کے احوال کو باربار بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان کو تنبیہ ہو ایمان مضبوط ہو اور اعمالِ صالحہ کی طرف رغبت ہو قیامت کے دن کی ہولناکیاں حساب و کتاب جزا و سزا کے مناظر دلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے :

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالعرفان :جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔ اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔(پ30،سورۃ القارعہ آیت 4/5)

وضاحت:قیامت کی دہشت سے انسان بے بس اورپہاڑ غبار کی طرح بکھر جائیں گے ۔

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲)

ترجمہ کنزالعرفان جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔ اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔(پ30،سورۃ الزلزال آیت 1/2)

وضاحت :یہ منظر قیامت کےآغاز کا بیان ہے جب زمین اپنی تمام پوشیدہ چیزیں ظاہر کردے گی ۔

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵) وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ(۲۶) ترجمہ کنزالعرفان: اوررہا وہ جسے اس کانامہ اعمال ا س کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔(پ29،سورۃ الحاقہ آیت 25/26)

وضاحت: گناہگار اپنے انجام پر نادم ہونگے اور فریاد کریں گے ۔

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ(۸) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ(۹) ترجمہ کنزالعرفان :جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی جیساہوجائے گا۔اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہوجائیں گے۔ (پ29،سورۃ المعارج آیت 8/9)

وضاحت :قیامت کے وقت آسمان اور زمین کی ساری ہئیت بگڑ جائے گی دنیا کی مضبوط چیزیں بے وقعت ہو جائیں گی

ان آیات سے پتہ چلا کہ قیامت کا دن سخت ہوگا اعمال کا حساب دینا ہو گا نیک کامیاب اور بدکار رسوا ہوں گے یہ آیات ہمیں متنبہ کرتی ہیں آج ہی اپنی زندگی کو آخرت کے مطابق ڈھالیں تاکہ اس دن کے خوفناک مناظر سے امن نصیب ہو اللہ پاک ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے آمین۔


قرآنِ پاک ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف دنیا کی کامیابی بلکہ آخرت کی فلاح کے اصول بھی بتاتا ہے۔ قیامت کے دن کا تصور قرآن مجید کا نہایت اہم اور پراثر موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بارہا اس دن کی ہولناکیوں، حساب و کتاب اور انسان کی حالت کا ذکر فرما کر بندوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ دنیا کی فانی زندگی میں غفلت نہ برتیں۔

اللہ تعالیٰ سورۃ الانفطار میں ارشاد فرماتا ہے: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان :جب آسمان پھٹ پڑے ۔ (پ30،الانفطار،1)

اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔

(تفسیر صراط الجنان)

احوالِ قیامت:قیامت کا دن نہایت سخت اور ہولناک دن ہوگا۔ سورۃ الحج میں ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) ترجمہ کنزالایمان: ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔‘‘(پ17،الحج،1)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کے عذاب سے ڈرو اور اس کی اطاعت میں مشغول ہو جاؤ، بیشک قیامت کا زلزلہ جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور قیامت کے قریب سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے نزدیک واقع ہو گابہت بڑی چیز ہے۔(تفسیر صراط الجنان)

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) ترجمہ کنزالایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں سے۔(پ30،عبس،33تا 35)

اب یہاں سے قیامت کی ہَولْناکیاں بیان کی جا رہی ہیں کیونکہ انسان جب ان ہولْناکیوں کے بارے میں سنے گا تو اس کے دل میں خوف پیدا ہو گا اور اسی خوف کی وجہ سے وہ دلائل میں غورو فکر کرنے ،کفر سے منہ موڑ کر ایمان قبول کرنے، لوگوں پر تکبر کرنا چھوڑ دینے اور ہر ایک کے ساتھ عاجزی واِنکساری کے ساتھ پیش آنے کی طرف مائل ہو گا۔(تفسیر صراط الجنان)

نامۂ اعمال:قیامت کے دن انسان کو اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ جنہیں دائیں ہاتھ میں ملے گا، وہ کامیاب، اور جنہیں بائیں ہاتھ میں ملے گا، وہ ناکام ہوں گے۔

میزان و حساب:قیامت کے دن اعمال کو تولا جائے گا: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ترجمہ کنزالایمان:تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں ۔وہ تو من مانتے عیش میں ہیں ۔اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں ۔وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے ۔(پ30،الزلزال،7،8)

قیامت کا دن ایک حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے انتہائی واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کی تیاری کریں، گناہوں سے بچیں، نیکیوں کو اپنائیں، اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتے رہیں۔

اللہ پاک ہمیں قرآن پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


قیامت کا دن سخت ہو لناک دن ہوگا اس کی دہشت سے دل دہل جائیں گے زمین و آسمان جمادات و نباتات ،جن، فرشتے، ہر چیز فنا ہو جائے گی کائنات میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی آسمان کے ستارے بارش کے قطروں کی طرح زمین پر گر پڑیں گے اور ایک دوسرے سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ سوائے پروردگار عالم کی ذات کے ہر چیز فنا ہو جائے گی قیامت کی ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا اس قدر مضبوط اور مستحکم ہونے کے باوجود اس دن آسمان انتہائی ضعیف اور کمزور ہو جائے گا۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں احوال قیامت کو تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اسی کے متعلق چند آیات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ (۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)

ترجمہ: کنزالعرفان:پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(سورت عبس پارہ نمبر 30،آیت 33 تا 37)

ان آیات میں قیامت کے احوال کو بیان کیا جا رہا ہے جب دوسری بار صور پھونکنے کی کان پھاڑ دینے والی آواز آئے گی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے اپنی ماں اپنے باپ اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ نہیں کرے گا تاکہ ان میں سے کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کرے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے لاپرواہ کر دے گی( تفسیر کبیر سورۃ عبس آیت نمبر 33 تا 37 جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 61 62 دار احیاء التراث بیروت)

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)

ترجمہ: کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔ (سورت الانفطار پارہ نمبر 30،آیت 1 تا 5)

ان آیات میں قیامت کا احوال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لیے ہٹ جائے گا اور ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کر گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کر کے انہیں بہا دیا جائے گا اور میٹھے کھاری سمندر مل کر ایک ہو جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہو جائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی ۔(تفسیر روح البیان سورۃ الانفطار آیت نمبر 1 تا 5 جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 356. 355 دار احیاء التراث بیروت)

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ(۶) تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ(۷) قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸)

ترجمہ: کنزالایمان:کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھرتھرائے گی تھرتھرانے والی اُس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گےآنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے۔(پ30،النازعات،6تا8)

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! تم اس دن ضرور زندہ کیے جاؤ گے جس دن پہلی پھونک ماری جائے گی تو اس دن کی ہولناکی کی وجہ سے زمین اور پہاڑ شدید حرکت کرنے لگیں گے اور انتہائی سخت زلزلہ آ جائے گا اور تمام مخلوق مر جائے گی پھر اس پہلی پھونک کے بعد دوسری پھونک ماری جائے گی جس سے ہر چیز اللہ کے حکم سے زندہ کر دی جائے گی مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کفار کا حال یہ ہوگا کہ برے اعمال اور قبیح افعال کی وجہ سے ان کے دل خوفزدہ ہوں گے اور اس دن کی دہشت اور ہولناکی کی وجہ سے ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔

( تفسیر روح البیان سورۃ النازعات آیت نمبر 6 تا 9 جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 316. 317)

قیامت کا منظر بہت پر خطر ہوگا لیکن جو اللہ اور اس کے رسول کا مطیع ہوگا وہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ ہوگا اللہ تعالی ہمیں بھی ان خطرات سے محفوظ فرمائے۔ آمین


قیامت کا دن وہ دن ہے کہ جس کو قرآن و حدیث میں "یوم الآخر" اور "یوم الحساب" سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ دن دنیا میں کیے گئے اعمال و افعال کا حساب کتاب دینے کا دن ہے۔ اس دن نیکوکار اپنا انعام جنت کی صورت میں پائیں گے اور بدکار اپنی سزا جہنم کی صورت میں پائیں گے۔ یہ دن بہت لرزہ خیز اور وحشت ناک ہوگا۔ نفسی  نفسی کا عالم ہوگا ، سب کو اپنی ہی پڑی ہوگی ۔ نہ ماں بیٹے کی اور نہ بیٹا ماں کا ہوگا۔ صرف ایک داد رسی کرنے والا محبوب خدا ﷺ ہوگا جو کبیرہ گناہ کرنے والوں کی شفاعت فرمائے گا۔ اعلی حضرت ایک شعر میں فرماتے ہیں :

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ قرض لیتی ہے گناہ پرہیز گاری واہ واہ

اب قیامت کے درد ناک احوال کا قرآن کی روشنی میں مطالعہ کرتے ہیں:

(1) بے ہوشی کا صور: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ ترجمہ کنز العرفان: اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں سب بیہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے ۔ (پ24،سورۃ زمر، آیت نمبر 68)

اس سے جو بے ہوشی طاری ہوگی اس کا یہ اثر ہوگا کہ فرشتوں اور زمین والوں میں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے اوران پر موت نہ آئی ہوگی تو وہ اس سے مرجائیں گے اور وہ بزرگ ہستیاں جنہیں ان کی دُنْیَوی موت کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی عنایت کی ہوئی ہے اوروہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں جیسے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور شہداء، ان پر اُس نَفخہ سے بے ہوشی کی سی کیفِیَّت طاری ہوگی۔(جمل، الزّمر، تحت الآیۃ: ۶۸، ۶ / ۴۴۷)

(2) دوبارہ اٹھنے کا صور: ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمہ کنز العرفان: پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔ (پ24،سورۃ زمر، آیت نمبر 68)

دیکھتے ہوئے کھڑے ہونے سے یا تو یہ مراد ہے کہ وہ حیرت میں آکر مَبہوت (حیران) شخص کی طرح ہر طرف نگاہیں اُٹھا اُٹھا کر دیکھیں گے یا یہ معنی ہیں کہ وہ یہ دیکھتے ہوں گے کہ اب انہیں کیا معاملہ پیش آئے گا ۔

(3) حشر و نشر: وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْؕ-اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠(۲۵) ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک تمہارا رب ہی انہیں اٹھائے گا بیشک وہی علم والا، حکمت والا ہے۔ (پ14،سورۃ حجر ، آیت نمبر 25)

حدیث پاک مں ہے چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ہر بندہ اسی حال پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی ہو گی۔(مسلم، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الامر بحسن الظنّ ب اللہ تعالی عند الموت: ص۱۵۳۸، الحدیث: ۸۳ (۲۸۷۸)

(4) سوال و جواب: ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸) ترجمہ کنز العرفان: پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ (پ30،سورۃ تکاثر، آیت نمبر 8)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتّٰی کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (1) اس کی عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں خرچ کی۔ (2) اس کی جوانی کے بارے میں کہ کس کام میں گزری ۔ (3،4) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ (5) اس کے علم کے بارے میں کہ ا س پر کتنا عمل کیا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق و الورع، باب فی القیامۃ، ۴ / ۱۸۸، الحدیث: ۲۴۲۴)

(5) میزان: وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اس دن وزن کرنا ضرور برحق ہے تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔(پ8،سورۃ اعراف آیت نمبر 8)

جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ’’وزن‘‘ سے’’ میزان کے ذریعے اعمال کا وزن کرنا‘‘ مراد ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸، ۲ / ۷۸)

قیامت کے دن اعمال کے وزن کی صورت کیا ہوگی اس بارے میں مفسرین نے تین ممکنہ صورتیں بیان فرمائی ہیں ، ایک یہ ہے کہ اعمال اعراض کی قسم ہیں ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان اعراض کے مقابلے میں اجسام پیدا فرما دے اور ان اجسام کا وزن کیا جائے ۔ دوسری صورت یہ کہ نیک اعمال حسین جسموں کی صورت میں کر دئیے جائیں گے اور برے اعمال قبیح جسموں میں بدل دئیے جائیں گے اور ان کا وزن کیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ نفسِ اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گابلکہ اعمال کے صحائف کا وزن کیا جائے گا۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸، ۵ / ۲۰۲، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸، ۲ / ۷۸، ملتقطاً)۔

(6) اعمال کے صحیفے دائیں یا بائیں ہاتھ سے لینا: اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ-فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: تو بہر حال جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: لو میرا نامۂ اعمال پڑھ لو۔(پ29،سورۃ حاقۃ آیت نمبر 19)

جسے اس کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ یہ سمجھ لے گا کہ وہ نجات پانے والوں میں سے ہے اور وہ انتہائی فرحت و سُرور کے ساتھ اپنی جماعت ، اپنے اہلِ خانہ اور قرابت داروں سے کہے گاکہ لو میرے نامۂ اعمال کو پڑھ لو۔

ایک اور جگہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵) ترجمہ کنز العرفان: اور رہا وہ جسے اس کانامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔(پ29،سورۃ حاقۃ آیت نمبر 25)

(7) مومنوں کا جنت میں داخل ہونا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ(۷) جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠(۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ۔ ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے ،یہ صلہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ (سورۃ بینۃ، آیت نمبر 7،8)

(8) کافروں کا جہنم میں داخل ہونا: اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَااُولٰٓىٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ(۶) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اہلِ کتاب میں سے جو کافر ہوئے وہ اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں سب سے بدتر ہیں۔(سورۃ بینۃ، آیت نمبر 6)


ایک چیز میرے سامنے ہے۔ میں اُسے دیکھ سکتا ہوں، محسوس کرسکتا ہوں تو مجھے اُس چیز کو ماننے اور اس پر یقین کرنے میں کوئی تامّل(شک، تذبذب) نہیں ہوگا۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو یہی وجہ ہے کہ مادہ پرستوں نے جس چیز کا سب سے زیادہ مذاق اُڑایا وہ قیامت ہے، وہ اِس پر نا صرف حیرانی اور تعجب کا اظہار کرتے بلکہ اسے بعید از عقل و امکان سمجھ کر ناقابلِ تصوّر گردانتے(سمجھتے) تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح توحید و رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے بلکل ایسے ہی کوئی شخص اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک قیامت کے حق ہونے کا اعتقاد نہ رکھے۔

اللہ تعالى نے قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر قیامت کے حق ہونے کا بیان فرمایا اور اِسی وجہ سے احوالِ قیامت کا بیان بھی قرآن میں بکثرت موجود ہے۔ اِن قرآنی بیانات میں دو باتیں خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔(1) احوالِ قیامت کے بیان کے وقت عام طور پر ماضی کے صیغے( وہ کلمات جو اِس بات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں کہ یہ کام زمانۃ ماضی میں ہوچکا ہے) استعمال کیے گئے ہیں جو کہ قیامت کے احوال اِس قطعیت(یقین) کے ساتھ بیان کررہے ہیں گویا کہ وہ واقع ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا وقوع ابھی ہونا ہے۔(2) قیامت کے احوال کی اِس انداز میں منظر کشی کی گئی ہے کہ گویا قاری اور سامع اُس منظر کا اپنے آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہے۔ اللہ تعالى نے یہ اہتمام اِس لیے فرمایا کہ کسی کے لیے قیامت کے انکار کی گنجائش نہ رہے۔ اِس کے بعد بھی جو نہ مانے وہ پرلے درجے کا ہٹ دھرم اور چڑھتے سورج کا انکار کرنے والا نادان ہے۔

ویسے تو قیامت کے احوال سے متعلق کئی چیزوں کا بیان قرآن کریم میں موجود ہے لیکن اللہ تعالى نے اپنی تخلیق میں سے بطورِ خاص تین شہکاروں کا ذکر کئی مقامات پہ فرمایا ہے بعد اِس کے کہ "اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ(تو کیا نہیں دیکھتے)" سے اِن تینوں میں غور کرنے کا حکم ارشاد فرمایا کہ آسمان کو کیسے اونچا کیا گیا اور پہاڑوں کو کیسے قائم کیا گیا اور زمین کو کیسے بچھایا گیا(پارہ:30، سورة الغاشية، آیت:17ـ20) کیونکہ ان میں تخلیق کی عظمت اور عجائبِ صنعت کے وہ راز ہیں جو اللہ تعالی کی قدرت و عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔

(1) زمین: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔(پارہ:30، سورة الزلزال، آیت:1)

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنزالایمان: اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے۔(پارہ:30، سورة الزلزال،آیت:2)

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ(۲۱) ترجمہ کنزالایمان:ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے۔ (پارہ:30،سورة الفجر،آیت:21)

(2)آسمان:یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ(۸) ترجمہ کنزالایمان: جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی۔ (پارہ:29،سورة المعارج، آیت:8)

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ(۹) ترجمہ کنزالایمان: اور جب آسمان میں رخنے پڑیں۔(پارہ:29، سورة المرسلٰت, آیت:9)

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے۔(پارہ:30،سورة الانفطار،آیت:01)

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ترجمہ کنزالایمان: جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سِجِل فرشتہ نامہ اعمال کو لپیٹتا ہے۔(پارہ:17،سورة الأنبياء، آیت:104)

(3) پہاڑ: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون۔ (پارہ:30، سورة القارعۃ، آیت:5)

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ(۱۰۵) ترجمہ کنزالایمان: اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ (پارہ:16،سورة طہ، آیت:105)

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ(۱۰) ترجمہ کنزالایمان: اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے۔(پارہ:27، سورة الطور، آیت:10)

اِن قرآنی بیانات میں موجود احوال میں اگر غور کیا جائے تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور اُس پر واضح ہوجائے کہ اتنی عظیم تخلیقات کا یہ حال یقیناً ایک عظیم دن کی خبر دے رہا ہے۔


ایک چیز میرے سامنے ہے۔ میں اُسے دیکھ سکتا ہوں، محسوس کرسکتا ہوں تو مجھے اُس چیز کو ماننے اور اس پر یقین کرنے میں کوئی تامّل(شک، تذبذب) نہیں ہوگا۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو یہی وجہ ہے کہ مادہ پرستوں نے جس چیز کا سب سے زیادہ مذاق اُڑایا وہ قیامت ہے، وہ اِس پر نا صرف حیرانی اور تعجب کا اظہار کرتے بلکہ اسے بعید از عقل و امکان سمجھ کر ناقابلِ تصوّر گردانتے(سمجھتے) تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح توحید و رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے بلکل ایسے ہی کوئی شخص اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک قیامت کے حق ہونے کا اعتقاد نہ رکھے۔

اللہ تعالى نے قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر قیامت کے حق ہونے کا بیان فرمایا اور اِسی وجہ سے احوالِ قیامت کا بیان بھی قرآن میں بکثرت موجود ہے۔ اِن قرآنی بیانات میں دو باتیں خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔(1) احوالِ قیامت کے بیان کے وقت عام طور پر ماضی کے صیغے( وہ کلمات جو اِس بات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں کہ یہ کام زمانۃ ماضی میں ہوچکا ہے) استعمال کیے گئے ہیں جو کہ قیامت کے احوال اِس قطعیت(یقین) کے ساتھ بیان کررہے ہیں گویا کہ وہ واقع ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا وقوع ابھی ہونا ہے۔(2) قیامت کے احوال کی اِس انداز میں منظر کشی کی گئی ہے کہ گویا قاری اور سامع اُس منظر کا اپنے آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہے۔ اللہ تعالى نے یہ اہتمام اِس لیے فرمایا کہ کسی کے لیے قیامت کے انکار کی گنجائش نہ رہے۔ اِس کے بعد بھی جو نہ مانے وہ پرلے درجے کا ہٹ دھرم اور چڑھتے سورج کا انکار کرنے والا نادان ہے۔

ویسے تو قیامت کے احوال سے متعلق کئی چیزوں کا بیان قرآن کریم میں موجود ہے لیکن اللہ تعالى نے اپنی تخلیق میں سے بطورِ خاص تین شہکاروں کا ذکر کئی مقامات پہ فرمایا ہے بعد اِس کے کہ "اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ(تو کیا نہیں دیکھتے)" سے اِن تینوں میں غور کرنے کا حکم ارشاد فرمایا کہ آسمان کو کیسے اونچا کیا گیا اور پہاڑوں کو کیسے قائم کیا گیا اور زمین کو کیسے بچھایا گیا(پارہ:30، سورة الغاشية، آیت:17ـ20) کیونکہ ان میں تخلیق کی عظمت اور عجائبِ صنعت کے وہ راز ہیں جو اللہ تعالی کی قدرت و عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔

(1) زمین: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔(پارہ:30، سورة الزلزال، آیت:1)

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنزالایمان: اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے۔(پارہ:30، سورة الزلزال،آیت:2)

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ(۲۱) ترجمہ کنزالایمان:ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے۔ (پارہ:30،سورة الفجر،آیت:21)

(2)آسمان:یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ(۸) ترجمہ کنزالایمان: جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی۔ (پارہ:29،سورة المعارج، آیت:8)

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ(۹) ترجمہ کنزالایمان: اور جب آسمان میں رخنے پڑیں۔(پارہ:29، سورة المرسلٰت, آیت:9)

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے۔(پارہ:30،سورة الانفطار،آیت:01)

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ترجمہ کنزالایمان: جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سِجِل فرشتہ نامہ اعمال کو لپیٹتا ہے۔(پارہ:17،سورة الأنبياء، آیت:104)

(3) پہاڑ: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون۔ (پارہ:30، سورة القارعۃ، آیت:5)

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ(۱۰۵) ترجمہ کنزالایمان: اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ (پارہ:16،سورة طہ، آیت:105)

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ(۱۰) ترجمہ کنزالایمان: اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے۔(پارہ:27، سورة الطور، آیت:10)

اِن قرآنی بیانات میں موجود احوال میں اگر غور کیا جائے تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور اُس پر واضح ہوجائے کہ اتنی عظیم تخلیقات کا یہ حال یقیناً ایک عظیم دن کی خبر دے رہا ہے۔


قیامت کا دن وہ عظیم دن ہے جس پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے عقیدہ کا حصہ ہے۔ قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر اس دن کی ہولناکی، اس کی نشانیاں، اور اُس وقت کے حالات کو انتہائی مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ انسان عبرت حاصل کرے اور اپنی زندگی کو سنوارے۔ آپ کے سامنے مختصر سا قیامت کے احوال کا قرآنی بیان ذکر کیا جاتا ہے :

قیامت کے زلزلے کا ہولناک منظر: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالعرفان:جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے ۔(پ30، الزلزال 1)

یہ زمین کا تھرتھرانا یا تو قیامت سے پہلے ہوگا یا قیامت کے دن ، اس کا زلزلہ کے ساتھ تھرتھرانہ اس طرح ہوگا کہ سب چیزیں ٹوٹ پھوٹ جائیں گی ، کوئی درخت ، عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہیں رہے گا ۔

زلزلے کی کیفیت: ایک مقام پر رب تعالیٰ نے زلزلہ کی کیفیت کی منظر کشی قرآن کریم میں اس طرح کی ارشادِ باری تعالیٰ: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) ترجمہ:اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔ (پ17، الحج: 1-2)

صراط الجنان میں ہے کہ" نبی کریم ﷺ  نے صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ  کے سامنے ان (آیات1-2)کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے، نہ ہی ہانڈیاں پکائیں  اور وہ غمزدہ، پُر نم اور فکر مند تھے"۔(صراط الجنان، الحج، تحت الآیۃ: 1,2،تلخیصاً)

ان ہستیوں سے تو اللہ پاک بھلائی کا وعدہ فرما چکا اور بعض کو تو دنیا میں ہی زبانِ رسالت سے جنت کی بشارت مل چکی ہے تب ان کا یہ حال ہے تو ہمیں قیامت کی شدت،ہیبت،ہولناکی اور سختی سے بہت زیادہ ڈرنا چاہئے کیونکہ ہمارے ساتھ تو کوئی ایسا وعدہ بھی نہیں ہوا ۔

آسمان، ستاروں اور زمین کا حال: احوالِ قیامت میں رب تعالیٰ نے ایک مقام پر آسمان و ستاروں کا حال اس طرح بیان فرمایا : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) ترجمہ کنزالعرفان : جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔(پ30 ، الانفطار: 1-2)

دوسرے مقام پر زمین کا حال اس طرح بیان فرمایا : وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنز العرفان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔(پ30، الزلزال 2)

انسانوں کا حال: اللہ اکبر وہ ایک ایسا منظر ہوگا کہ جس میں سب جمع ہونگے اور ننگے بدن ہونگے پھر بھی کسی کو ننگے بدن کی پرواہ نہیں ہوگی وہ اپنی ہی فکر میں ڈوبے ہونگے اس کو اللہ پاک اس طرح بیان فرماتا ہے : یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمہ کنزالعرفان: اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔ (پ 30، عبس 34-36 )

پھر اس کے بعد نامہ اعمال پیش کیا جائے گا اس کا ذکر رب تعالیٰ نے سورۃ الحاقہ میں فرمایا اور سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا کہ بندے سے کہا جاۓ گا اپنا نامہ اعمال خود پڑھے۔ ہم سوچیں اگر ہم دنیا میں صرف رب تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں تو ہم کیسے پڑھ پائیں گے سب کے سامنے اپنا نامہ اعمال سورۃ الانبیاء میں میزان کے قائم ہونے کا بیان ہوا، سب کا حساب و کتاب ہوگا ، زیادتی کسی پر نہ ہوگی اور پھر سورۃ النازعات میں بیان ہوا کہ : وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى(۳۶) ترجمہ کنزالعرفان:جہنم سب دیکھنے والوں کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی۔(پ:30 ، النازعات:36)

انسان کے اعمال کے مطابق اس کے سامنے جنت یا جہنم پیش کی جائے گی، اور پھر وہی اس کا دائمی ٹھکانہ ہوگا۔

قرآنِ مجید کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن نہایت ہی سخت، ہولناک، اور فیصلہ کن دن ہوگا۔ ہمیں قیامت کے حساب و کتاب کی دنیا میں ہی تیاری کرنی چاہیے ، یہ آیات اور ان کے علاؤہ دیگر آیات دنیا کی عیش و عشرت اور غفلت میں ڈوبے انسان کے لیے بیداری کا ذریعہ ہیں ۔ جو دنیا میں اللہ کے احکام کے مطابق چلے، اس کے لیے نجات ہے، اور جو غافل رہا، اس کے لیے حسرت، ندامت اور عذاب ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


قیامت وہ دن ہے جس دن مخلوقات کو حسابِ اعمال کے لئے زندہ کیا جائے  گا ، قیامت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا محض تصور جسم پر کپکپاہٹ پیدا کر دیتا ہے قرآنِ پاک میں قیامت کے ہولناک اور عظیم احوال کو بار بار بیان فرمایا گیا ہے تاکہ انسان بیدار ہو کر ایمان اور عملِ صالح کی طرف متوجہ ہو۔

قیامت کے منکر کا حکم :قیامت حق ہے بے شک قیامت قائم ہو گی، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ (بہار شریعت، حصہ: 1 ، 1/129)

کیونکہ قیامت کے متعلق اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا ترجمۂ کنز العرفان:یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ (پ17،سورۃ الحج آیت:7)

ایک مقام پر ہے: لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ ترجمہ کنز العرفان: وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (سورۃالنساءآیت :87)

ذیل میں قرآن پاک سے قیامت کے احوال کے متعلق چند آیات پیش ہیں:

(1) پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ صور پھونکنا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمۂ کنز العرفان:اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں سب بیہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔(پ24، سورۃ الزمر، آیۃ نمبر: 68)

(2) آسمان میں دروازے بننا: وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمۂ کنز العرفان:اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے بن جائے گا۔اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے باریک چمکتی ہوئی ریت جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔(پ30،سورۃ النباء آیت: 19، 20)

اسی بات کو صراحت کے ساتھ ایک اور مقام پر بیان کیا گیا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا :

(3) آسمان کا پھٹ جانا : وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىٕكَةُ تَنْزِیْلًا(۲۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس دن آسمان بادلوں سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے پوری طرح اتارے جائیں گے۔(پ19،سورۃ فرقان ، آیت:25)

(4) زمین و آسمان کی تبدیلی: یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۴۸) ترجمۂ کنز الایمان:جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے ایک اللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے۔(پ13، سُورۃ ابراہیم آیت: 48)

(5) آسمان کا پھٹنا اور ستاروں کا بکھرنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(پ30،سورۃ الانفطار: 1-5)

(6) زمین کے زلزلے اور بوجھ نکالنا: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔اور آدمی کہے اسے کیا ہوا ۔( پ30،سورۃ الزلزال آیت : 1-3)

(7) سورج لپیٹا جانا اور جانوروں کا جمع ہونا: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ(۴) وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْﭪ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گااور جب تارے جھڑ پڑیں۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوٹی پھریں۔اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں۔(پ30،سورۃ التکویر آیت: 1-5)

(8) پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہونا: وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ(۱۰۵) فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ(۱۰۶) لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ(۱۰۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ تو زمین کو پٹ پر ہموار کر چھوڑے گا۔ کہ تو اس میں نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے۔(پ16، سورۃ طٰہٰ آیت: 105تا107)

(9) ایک دن کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر: تَعْرُجُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ(۴) ترجمۂ کنز الایمان:فرشتے اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف چڑھتے ہیں ، (وہ عذاب) اس دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔(پ29،سورۃ المعارج, آیۃ: 4) اور دوسری آیت میں فرمایا:

(10) ایک دن کی مدت ایک ہزار سال کے برابر: یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں ۔(پ21،سورۃ السجدہ 5)

اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: یاد رہے کہ اس آیت اور سورۃ سجدہ کی آیت نمبر 5میں یہ بیان ہو اکہ قیامت کا دن لوگوں کی گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہو گا اور سورۃ معارج کی آیت نمبر4میں یہ بیان ہو اہے کہ قیامت کے دن کی مقدارپچاس ہزار سال ہے۔ان میں مطابقت یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار کو جن سختیوں اور ہولناکیوں کا سامنا ہو گا ان کی وجہ سے بعض کفار کو وہ دن ایک ہزار سال کے برابر لگے گا اور بعض کفار کو پچاس ہزار سال کے برابر لگے گا۔(تفسیرِ صراط الجنان، تحت سورۃ سجدۃ آیت نمبر 5 )

(11) صرف ایک ذات کی بادشاہت و ملکیت ! اَلْمُلْكُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِؕ-وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا(۲۶) ترجمۂ کنز العرفان:اس دن سچی بادشاہی رحمٰن کی ہوگی اور کافروں پر وہ بڑا سخت دن ہوگا۔ (پ19، سورۃ الفرقان،26 )

اس حوالے سے ایک اور مقام میں فرمایا: لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۱۶) ترجمۂ کنز العرفان:آج کس کی بادشاہی ہے ایک اللہ کی جو سب پر غا لب ہے۔(پ24،المؤمن ، آیت نمبر 16)

ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہے کہ قیامت کا دن نہایت سخت، ہولناک اور فیصلہ کن دن ہوگا، جس میں ہر انسان اپنے اعمال کا دیکھے گا۔

الله پاک ہم اپنی زندگی نیک کاموں میں گزارنے اور قبر و آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰه علیہ وسلم


انسان کی زندگی صرف دنیا کی چند روزہ زندگی تک محدود نہیں بلکہ موت کے بعد ایک دائمی زندگی ہے، جسے "آخرت" کہا جاتا ہے۔ وہاں قیامت کے دن انسان اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں قیامت کے ہولناک احوال بیان ہوئے ہیں تاکہ انسان غفلت نہ کرے اور اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری کے لیے وقف کردے۔اپنی زندگی میں ایسے اعمال کرے جن کے سبب اس کے لیے قیامت کے مراحل کو پار کرنا آسان ہو جائے اور ایسے اعمال سے بچے کہ جو اس کے لیے دنیاو اخروی نقصان کا باعث بنیں ۔قران کریم کی بعض آیات میں قیامت کے احوال کو طوالت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جن میں سے چند آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیے :

(1) وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَاۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ(۷) ترجمہ (کنز الایمان):اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں، اور اللہ ان کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔(پ17،الحج،7)

تفسیر (صراط الجنان):وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ:اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے:ارشاد فرمایا کہ یہ دلائل ا س لئے ذکر کئے گئے تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کے آنے میں کچھ شک نہیں اور یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان مردوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں اور مرنے کے بعد اٹھایا جانا حق ہے۔( خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۳۰۰)

(2) اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ (کنز الایمان):جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی۔ اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی۔(پ30،الزلزال ،1-2)

تفسیر (صراط الجنان):اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے:ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۰۰)

(3) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ (کنز الایمان):جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوں گے۔ اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے۔(پ30، القارعہ،4-5)

تفسیر (صراط الجنان):قیامت کے دن انسان بے سہارا بکھر جائیں گے اور مضبوط پہاڑ بھی غبار کی طرح اُڑ جائیں گے۔

احوال قیامت کا احادیث مبارکہ سے ثبوت

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے نماز کے بارے میں سوال ہوگا۔"

(ابوداؤد، حدیث: 864)

خاتم الانبیاء تاجدار مدینہ صاحب قلب و سینہ صاحب معطر پسینہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا"قیامت کے دن سورج قریب کر دیا جائے گا، حتی کہ پسینہ انسانوں کے کانوں تک پہنچ جائے گا۔" (صحیح بخاری، حدیث: 6532)

مدینے والے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا:"عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے۔"(ترمذی، حدیث: 2459)

ان احادیث مبارکہ اور آیات مبارکہ کو ملاحظہ فرما کر ثابت ہوا کہ قیامت کا واقع ہونا حق اور سچ ہے اور جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے۔

اس کے متعلق مزید معلومات کے لیے صحابہ کرام سے منقول اقوال حکایات اور اقوال بزرگان دین ملاحظہ فرمائیے۔

(1)حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جب رات کو اکیلے ہوتے تو قیامت کو یاد کر کے روتے اور فرماتے: "کاش میرا کوئی حصہ نہ ہوتا، قیامت کا دن کتنا سخت ہے۔"(حلیۃ الاولیاء، ج5، ص292)

(2)حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ:قیامت کا ذکر سنتے ہی بے ہوش ہو جایا کرتے اور فرماتے: "یہ دن کس قدر سخت ہوگا۔"(کتاب الزہد لابن المبارک، ص112)

3)ایک بزرگ رحمہ اللہ جب ایک قبرستان سے گزرے تو فرمایا: "کل یہ سب زندہ کیے جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوں گے، ہم کیا جواب دیں گے"(احیاء علوم الدین، ج4، ص559)

قیامت کا دن برحق ہے۔ قرآن و سنت میں اس دن کے ہولناک حالات بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان عبرت حاصل کرے۔ عقلمند وہ ہے جو اپنی زندگی کو آخرت کے لیے سنوارے، نیک اعمال کرے اور برائیوں سے بچے۔ دنیا کی اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔


قیامت و آخرت کے احوال کے بیان کی اہمیت ایسی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک وصف ، خوبی جو بتائی گئی کہ انہیں بھیجا گیا کہ یہ لوگوں کو ڈرائیں انہیں آخرت کے متعلق بتائیں۔ اس سے فوائد یہ ہیں کہ کچھ لوگ نعمتوں کے ذکر سے رب تعالیٰ کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد خوف خدا ، ڈر کی وجہ سے راہے راست پر آتی ہے۔ خوف خدا ہی ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے شریر سے شریر نفس راہے راست پر آتے ہیں انکار اور فساد فی الارض کے ناپاک عزائم سے دور ہوتے ہیں ۔ قرآن مجید میں خوف خدا کو پیدا کرنے کے لیے لوگوں کو اپنے اعمال سنوارنے کے لیے ، تزکیہ نفس کے لیے آخرت کی تیاری کرنے کے لیے ایک انداز جو اپنایا ہے وہ قیامت کا ذکر ہے۔ آئیے قرآن مجید میں جو قیامت کے احوال ہیں ان کا مطالعہ کرتے ہیں :

زمین و آسمان کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَت ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔ ( پارہ 30، سورۃ انفطار ، آیت نمبر 1 تا 5 )

قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی ۔( تحتِ آیات سورۃ انفطار ، تفسیر صراط الجنان )

زلزلے کا آنا اور اس کا سب کچھ باہر نگل دینا: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔ ( پارہ 30 سورۃ الزلزال ، آیت نمبر 1 ،2)

جس دن صور پھونکا جائے گا: اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ( پارہ30 ، سورۃ النباء ، آیت نمبر 7،8)

آسمان اور پہاڑ کا بدل جانا:وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا۔ ( پارہ30 ، سورۃ النباء ، آیت نمبر 19, 20)

سورج اور چاند کا بدل جانا: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔ (سورۃ القیامۃ،7تا9)

اسی آیت کریمہ کی تفسیر میں تفسیر صراط الجنان میں آتا ہے کہ قیامت کے احوال درج ہیں:

1: اس دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زدہ ہوجائے گی۔

2: چاندکی روشنی زائل ہوجائے گی جس سے وہ تاریک ہو جائے گا۔

3: سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔ یہ ملا دینا طلوع ہونے میں ہوگا کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے یا بے نور ہونے میں ہو گا کہ دونوں کی روشنی ختم ہوجائے گی۔( پارہ 29 سورۃ القیامہ ، آیت نمبر 7 تا 9)

دل اور آنکھ کا خوف زدہ ہو جانا : قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸) اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔ آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے ۔ ( پارہ 30 ، سورۃ النازعات ، آیت نمبر 8 تا 9)

ان آیات کے علاوہ سورۃ النازعات ، سورۃ الزلزال ، سورۃ النباء ، سورۃ انفطار ، سورۃ القیامہ ، سورۃ بنی اسرائیل ، سورۃ حج الغرض سینکڑوں آیات کریمہ قیامت کے مختلف احوال کو بیان کرتی ہیں ۔ جن کو پڑھ کر دل خوف زدہ ہو جاتے ہیں ، زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ، صاحب تقوی لرز اٹھتے ہیں ان کے ایمان کو مزید قوت ملتی ہے ، فاسق و فاجر گناہگار توبہ کی طرف مائل ہوتے ہیں دل ڈر جاتے ہیں ، ہر ایک اعمال کے محاسبہ کی جانب راغب ہوتا ہے ، ان آیات کے مطالعہ سے بندے کا نفس ایک مرتبہ اس کو جھنجھوڑتا ہے کہ اے بندے کیا ہو گیا ہے کہ جن قبیح و شنیع اعمال کو کر کے میں دنیا میں آج مست ہوں ہائے ان مناظر کو دیکھ کر قیامت کے روز میرا کیا بنے گا ۔ ان آیات کے مطالعہ سے انسان حقیقی کامیابی کی طرف دوڑتا ہے ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ وہ آیات جن میں احوال قیامت کا بیان ہے ، جن میں خوف خدا کا ذکر ہے ان کا مطالعہ کریں ، اس سے ہمارا نفس راہے راست پر آئے گا ۔

دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں آخرت کی فکر کرنے اس کی تیاری کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہر آفت سے ہولناکی سے محفوظ و مامون فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔


آخر زمانہ میں جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا آپ علیہ السلام ایک عرصے تک جناب محمد مصطفیٰ رسول خداﷺ کے دین کی تبلیغ کریں گے پھر آپ وفات پائیں گے جب قیامت کے قائم ہونے میں 40 سال باقی ہونگے ایک خوشبودار ہوا مسلمانوں کے بغلوں سے گزرے گی سب مسلمان فوت ہونگے پھر دنیا میں صرف کافر رہ جائیں گے۔ اسکے بعد 40 سال میں کوئی بھی بچہ پیدا نہ ہو گا یعنی 40 سال سے کم عمر کا کوئی نہ ہوگا ۔

زمین پر خدا کا نام لیوا کوئی نہ ہوگا لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہونگے اچانک اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا شروع میں اسکی آواز آہستہ ہوگی پھر بلند آواز ہوگی لوگ آواز کو کان لگا کر سنیں گے سب لوگ بے حوش ہوکر مرجائیں گے پھر اللہ کے حکم سے سب زندہ ہونگے تب زمین اپنی ہر چیز باہر نکالے گی پھر صور پھونکنے کا حکم ہوگا صور پھونکنے سے سب کے ساتھ اسرافیل علیہ السلام بھی فنا ہونگے اس وقت اس واحد حقیقی اللہ پاک کی ذات کے سوا کوئی بھی باقی نہ ہوگا اللہ پاک فرمائے گا ( لِمَنِ المُلْکُ الْیَوْمَ ) آج کس کی بادشاہت ہے پھر خود فرمائے گا ( لِلَّہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ

قرآن مجید میں اللہ پاک نے کئی مقامات پر قیامت کے احوال کو بیان فرمایاقیامت کا دن کتنا سخت اورمشکل ہے جس سے ڈراتے ہوئے خدا واحد القہار نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو سورۃ الحج کی آیت 1 اور 2 ذکر فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)

ترجمہ کنزُالعِرفان : اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔(پ17،الحج،1،2)

اسی طرح ہم آج کل اپنی دوستیوں مجلسوں پر توجہ دیں تو گناہوں برائیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی حالانکہ کہ قیامت کے دن رشتہ دار اور اولاد بھی کوئی کام نہ دے گا بری دوستیاں اور مجالس یہ تو ہمارے لئے سخت تر ہیں۔

اللہ پاک قیامت کے دن سے ڈراتے ہوئے سورۃ الممتحنہ کی آیت 3 میں فرماتا ہے: لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْۚۛ-یَوْمَ الْقِیٰمَةِیَفْصِلُ بَیْنَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۳) ترجمۂ کنز العرفان : تمہارے رشتے اور تمہاری اولاد قیامت کے دن ہرگز تمہیں نفع نہ دیں گے، اللہ تمہارے درمیان جدائی کردے گا اور اللہ تمہارے کام خوب دیکھ رہا ہے(پ28،الممتحنہ،3)

پیارے اسلامی بھائیو! قیامت اللہ پاک کا سچا وعدہ ہے اس کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج ہے کچھ لوگ قیامت کے بارے میں شک کرنے لگے تو اسی سچے وعدہ کے بارے میں سورۃ الجاثیہ کی آیت 32 اور 33 فرمایا: وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُۙ-اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ(۳۲) وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۳۳)

ترجمۂ کنز العرفان : اور جب کہا جاتا کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں توتم کہتے تھے: ہم نہیں جانتے ،قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں یقین نہیں ہے۔ اور ان کیلئے ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی اور انہیں وہی عذاب گھیر لے گا جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے۔(پ25،الجاثیہ،32،33)

وہ لوگ جو قیامت کے قائم ہونے کے منکر ہیں جو قیامت کے جلدی آنے کا کہتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی ان لوگوں کے بارے میں اللہ پاک سورۃ الشوریٰ کی آیت 18 میں ارشاد فرماتا ہے : یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَاۚ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَاۙ-وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّؕ-اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(۱۸) ترجمۂ کنز العرفان » قیامت کی جلدی مچا رہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اورجو ایمان والے ہیں وہ اس سے ڈر رہے ہیں اورجانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے۔سن لو! بیشک قیامت کے بارے میں شک کرنے والے ضرور دُور کی گمراہی میں ہیں(پ25،الشوری،18)

اسی طرح اللہ پاک سورۃ القیامہ کی آیت 5 سے 15 تک قیامت کے احوال کو بیان فرماتا ہے:

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ(۵) یَسْــٴَـلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ(۶) فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ(۱۰) كَلَّا لَا وَزَرَؕ(۱۱) اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمُسْتَقَرُّؕ(۱۲) یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ(۱۳) بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ(۱۴) وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ(۱۵)

ترجمۂ کنز العرفان : بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے کو جھٹلائے پوچھتا ہے :قیامت کا دن کب ہوگا تو جس دن آنکھ دہشت زدہ ہوجائے گی۔ اور چاند تاریک ہوجائے گا اور سورج اور چاند کو ملا دیا جائے گا۔ اس دن آدمی کہے گا: بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ہرگز نہیں ،کوئی پناہ نہیں ہوگی۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے۔ اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا بتادیا جائے گا۔ بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھنے والا ہوگا اگرچہ اپنی سب معذرتیں لا ڈالے۔(پ29،القیامۃ،5تا15)

قیامت کا دن کتنا خوفناک ہوگا کہ زمین اپنا سب کچھ باہر نکال دے گی کہ نہ کوئی درخت نہ کوئی مکان نہ کوئی پہاڑ رہے گا سب تھرتھرا جائیں گے ،زمین کا تھرتھرانا لوگوں کے اعمال کی خبریں اس وجہ سے ہے کہ لوگ اپنے اعمال دیکھ لیں جنہوں نے نیکی کی ہے تو اسکے لئے خیر ہے اور جس نے برائی کی ہوگی تو اس کیلئے شر ہوگا جس کا تذکرہ اللہ واحد القھار نے قرآن مجید سورۃ الزلازل میں یوں بیان فرمایا:

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ(۴) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ(۵) یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶) فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)

ترجمۂ کنز العرفان : جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔ اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔ اور آدمی کہے گا: اسے کیا ہوا اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی۔ اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔ اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔ اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔(پ30،الزلزال،1تا8)

اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین