محمد احمد محسنی (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
قرآن
کریم میں قیامت کے احوال کو باربار بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان کو تنبیہ ہو ایمان
مضبوط ہو اور اعمالِ صالحہ کی طرف رغبت ہو قیامت کے دن کی ہولناکیاں حساب و کتاب
جزا و سزا کے مناظر دلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں
کہ یہ دنیا فانی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے :
یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ
الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالعرفان :جس دن
آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔ اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی
طرح ہوجائیں گے۔(پ30،سورۃ القارعہ آیت 4/5)
وضاحت:قیامت
کی دہشت سے انسان بے بس اورپہاڑ غبار کی
طرح بکھر جائیں گے ۔
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ
الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲)
ترجمہ
کنزالعرفان جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔ اور زمین اپنے
بوجھ باہر پھینک دے گی۔(پ30،سورۃ الزلزال آیت 1/2)
وضاحت
:یہ منظر قیامت کےآغاز کا بیان ہے جب زمین اپنی تمام پوشیدہ چیزیں ظاہر کردے گی ۔
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵)
وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ(۲۶) ترجمہ کنزالعرفان: اوررہا وہ
جسے اس کانامہ اعمال ا س کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے کاش کہ
مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔(پ29،سورۃ الحاقہ آیت 25/26)
وضاحت:
گناہگار اپنے انجام پر نادم ہونگے اور فریاد کریں گے ۔
یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ(۸) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِۙ(۹) ترجمہ کنزالعرفان :جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی جیساہوجائے
گا۔اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہوجائیں گے۔ (پ29،سورۃ المعارج آیت 8/9)
وضاحت
:قیامت کے وقت آسمان اور زمین کی ساری ہئیت بگڑ جائے گی دنیا کی مضبوط چیزیں بے
وقعت ہو جائیں گی
ان
آیات سے پتہ چلا کہ قیامت کا دن سخت ہوگا اعمال کا حساب دینا ہو گا نیک کامیاب اور
بدکار رسوا ہوں گے یہ آیات ہمیں متنبہ کرتی ہیں آج ہی اپنی زندگی کو آخرت کے مطابق
ڈھالیں تاکہ اس دن کے خوفناک مناظر سے امن نصیب ہو اللہ پاک ہمیں قیامت کی ہولناکیوں
سے محفوظ رکھے آمین۔
Dawateislami