اسلام کا ایک بنیادی تصور، یومِ حساب ہے جب ہر فرد سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ قرآن اس دن کو واضح طور پر بیان کرتا ہے، اس کی ہولناکی اور اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآنی آیات کا جائزہ لیں گے جو قیامت کے دن، اس کی تفصیل اور اس کے لیے تیاری کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں۔

قیامت کے دن کی ہولناکی:قرآن نے قیامت کے دن کو بڑی دہشت اور ہولناکی کے دن کے طور پر بیان کیا ہے۔ اس دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا اور ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ قرآن فرماتا ہے:

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔ (سورۃ عبس آیت33تا37)

ترجمۂ کنزالایمان: کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے ہنستے خوشیاں مناتے اور کتنے مونھوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے یہ وہی ہیں کافر بدکار ۔ (قرآن سورۃ عبس آیت38تا42)

قرآن مجید میں قیامت کے دن کی تفصیل

قرآن مجید کی کئی سورتوں میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ کچھ مشہور سورتیں جن میں قیامت کی منظر کشی اور تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان میں سورۃ التکویر، سورۃ الانفطار، سورۃ الواقعہ، اور سورۃ الحاقہ شامل ہیں۔ قیامت کو قرآن میں مختلف ناموں سے بھی پکارا گیا ہے، جیسے یوم الدین اور الیوم الآخر

قیامت کا ذکر کرنے والی چند سورتیں:

سورۃ التکویر:اس سورۃ میں سورج کے تاریک ہونے اور قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہے

سورۃ الانفطار:اس سورۃ میں بھی قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے، جس میں آسمان پھٹ جانے اور ستاروں کے منتشر ہونے کا ذکر ہے.

سورۃ الواقعہ:اس سورت میں قیامت کے دن کے مختلف مناظر اور لوگوں کے جمع ہونے کا ذکر ہے

سورۃ الحاقہ:اس سورۃ میں قیامت کی شدت اور ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے

سورۃ الزمر:اس سور میں صور پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھنے کا ذکر ہے.

سورۃ ص:اس سورۃ میں صور کی ہولناک آواز اور اس سے پیدا ہونے والی دہشت کا ذکر کیا گیا ہے

قیامت کے دیگر نام:قرآن مجید میں قیامت کو ان ناموں سے بھی موسوم کیا گیا ہے:

یوم الدین: یعنی جزا کا دن

الیوم الآخر: یعنی آخرت کا دن

قیامت کی نشانیاں:قرآن و حدیث میں کئی نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو قیامت کے قریب آنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

معمولی نشانیاں: علم کا چھین لینا، جہالت کا پھیل جانا، سود کا پھیل جانا اور شراب کا وسیع استعمال۔

بڑی نشانیاں: دجال کا ظہور، عیسیٰ ابن مریم کا نزول، یاجوج ماجوج اور تین تودے گرنا۔

یومِ جزا اسلام میں ایک بنیادی تصور ہے، جو احتساب اور تیاری کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ قرآن اس دن کی واضح وضاحت کرتا ہے، اس کی ہولناکی اور اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ بحیثیت مومن، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے اعمال پر غور کریں اور اسلام کی موجودہ تعلیمات کے مطابق زندگی گزار کر اس دن کے لیے تیاری کریں۔ ایسا کرنے سے، ہم قیامت کے دن ایک سازگار حاصل کرنے اور جنت میں جگہ حاصل کرنے کی امید کر سکتے ہیں۔