قیامت کا دن سخت ہو لناک دن ہوگا اس کی دہشت سے دل دہل جائیں گے زمین و آسمان جمادات و نباتات ،جن، فرشتے، ہر چیز فنا ہو جائے گی کائنات میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی آسمان کے ستارے بارش کے قطروں کی طرح زمین پر گر پڑیں گے اور ایک دوسرے سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ سوائے پروردگار عالم کی ذات کے ہر چیز فنا ہو جائے گی قیامت کی ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا اس قدر مضبوط اور مستحکم ہونے کے باوجود اس دن آسمان انتہائی ضعیف اور کمزور ہو جائے گا۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں احوال قیامت کو تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اسی کے متعلق چند آیات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ (۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)

ترجمہ: کنزالعرفان:پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(سورت عبس پارہ نمبر 30،آیت 33 تا 37)

ان آیات میں قیامت کے احوال کو بیان کیا جا رہا ہے جب دوسری بار صور پھونکنے کی کان پھاڑ دینے والی آواز آئے گی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے اپنی ماں اپنے باپ اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ نہیں کرے گا تاکہ ان میں سے کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کرے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے لاپرواہ کر دے گی( تفسیر کبیر سورۃ عبس آیت نمبر 33 تا 37 جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 61 62 دار احیاء التراث بیروت)

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)

ترجمہ: کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔ (سورت الانفطار پارہ نمبر 30،آیت 1 تا 5)

ان آیات میں قیامت کا احوال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لیے ہٹ جائے گا اور ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کر گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کر کے انہیں بہا دیا جائے گا اور میٹھے کھاری سمندر مل کر ایک ہو جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہو جائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی ۔(تفسیر روح البیان سورۃ الانفطار آیت نمبر 1 تا 5 جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 356. 355 دار احیاء التراث بیروت)

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ(۶) تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ(۷) قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸)

ترجمہ: کنزالایمان:کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھرتھرائے گی تھرتھرانے والی اُس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گےآنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے۔(پ30،النازعات،6تا8)

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! تم اس دن ضرور زندہ کیے جاؤ گے جس دن پہلی پھونک ماری جائے گی تو اس دن کی ہولناکی کی وجہ سے زمین اور پہاڑ شدید حرکت کرنے لگیں گے اور انتہائی سخت زلزلہ آ جائے گا اور تمام مخلوق مر جائے گی پھر اس پہلی پھونک کے بعد دوسری پھونک ماری جائے گی جس سے ہر چیز اللہ کے حکم سے زندہ کر دی جائے گی مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کفار کا حال یہ ہوگا کہ برے اعمال اور قبیح افعال کی وجہ سے ان کے دل خوفزدہ ہوں گے اور اس دن کی دہشت اور ہولناکی کی وجہ سے ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔

( تفسیر روح البیان سورۃ النازعات آیت نمبر 6 تا 9 جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 316. 317)

قیامت کا منظر بہت پر خطر ہوگا لیکن جو اللہ اور اس کے رسول کا مطیع ہوگا وہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ ہوگا اللہ تعالی ہمیں بھی ان خطرات سے محفوظ فرمائے۔ آمین