امجد علی جلالی ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
آخر
زمانہ میں جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا آپ علیہ السلام ایک
عرصے تک جناب محمد مصطفیٰ رسول خداﷺ کے دین کی تبلیغ کریں گے پھر آپ وفات پائیں گے
جب قیامت کے قائم ہونے میں 40 سال باقی ہونگے ایک خوشبودار ہوا مسلمانوں کے بغلوں
سے گزرے گی سب مسلمان فوت ہونگے پھر دنیا میں صرف کافر رہ جائیں گے۔ اسکے بعد 40
سال میں کوئی بھی بچہ پیدا نہ ہو گا یعنی 40 سال سے کم عمر کا کوئی نہ ہوگا ۔
زمین
پر خدا کا نام لیوا کوئی نہ ہوگا لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہونگے اچانک اسرافیل علیہ
السلام کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا شروع میں اسکی آواز آہستہ ہوگی پھر بلند آواز
ہوگی لوگ آواز کو کان لگا کر سنیں گے سب لوگ بے حوش ہوکر مرجائیں گے پھر اللہ کے
حکم سے سب زندہ ہونگے تب زمین اپنی ہر چیز باہر نکالے گی پھر صور پھونکنے کا حکم
ہوگا صور پھونکنے سے سب کے ساتھ اسرافیل علیہ السلام بھی فنا ہونگے اس وقت اس واحد
حقیقی اللہ پاک کی ذات کے سوا کوئی بھی باقی نہ ہوگا اللہ پاک فرمائے گا ( لِمَنِ المُلْکُ الْیَوْمَ ) آج
کس کی بادشاہت ہے پھر خود فرمائے گا ( لِلَّہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ)۔
قرآن
مجید میں اللہ پاک نے کئی مقامات پر قیامت کے احوال کو بیان
فرمایاقیامت کا دن کتنا سخت اورمشکل ہے جس سے ڈراتے ہوئے خدا واحد القہار نے قیامت
کے دن کی ہولناکیوں کو سورۃ الحج کی آیت 1 اور 2 ذکر فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ
عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ
تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ
بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمہ
کنزُالعِرفان : اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن
تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو
بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے
نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا
عذاب بڑا شدید ہے۔(پ17،الحج،1،2)
اسی
طرح ہم آج کل اپنی دوستیوں مجلسوں پر توجہ دیں تو گناہوں برائیوں میں کوئی کسر نہیں
چھوڑی حالانکہ کہ قیامت کے دن رشتہ دار اور اولاد بھی کوئی کام نہ دے گا بری دوستیاں
اور مجالس یہ تو ہمارے لئے سخت تر ہیں۔
اللہ
پاک قیامت کے دن سے ڈراتے ہوئے سورۃ الممتحنہ کی آیت 3 میں فرماتا ہے: لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْۚۛ-یَوْمَ
الْقِیٰمَةِیَفْصِلُ بَیْنَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۳) ترجمۂ
کنز العرفان : تمہارے رشتے اور تمہاری اولاد قیامت کے دن ہرگز تمہیں نفع نہ دیں
گے، اللہ تمہارے درمیان جدائی کردے گا اور اللہ تمہارے کام خوب دیکھ رہا ہے(پ28،الممتحنہ،3)
پیارے اسلامی بھائیو! قیامت اللہ پاک کا سچا وعدہ ہے
اس کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج ہے کچھ لوگ قیامت کے بارے میں شک کرنے لگے تو
اسی سچے وعدہ کے بارے میں سورۃ الجاثیہ کی آیت 32 اور 33 فرمایا: وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ
فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُۙ-اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ
مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ(۳۲) وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ
حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۳۳)
ترجمۂ
کنز العرفان : اور جب کہا جاتا کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک
نہیں توتم کہتے تھے: ہم نہیں جانتے ،قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا
ہوتا ہے اور ہمیں یقین نہیں ہے۔ اور ان کیلئے ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی
اور انہیں وہی عذاب گھیر لے گا جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے۔(پ25،الجاثیہ،32،33)
وہ
لوگ جو قیامت کے قائم ہونے کے منکر ہیں جو قیامت کے جلدی آنے کا کہتے ہیں اور گمان
کرتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی ان لوگوں کے بارے میں اللہ پاک سورۃ الشوریٰ کی آیت 18 میں ارشاد فرماتا ہے
: یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ
لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَاۚ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَاۙ-وَ یَعْلَمُوْنَ
اَنَّهَا الْحَقُّؕ-اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ
ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(۱۸) ترجمۂ
کنز العرفان » قیامت کی جلدی مچا رہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اورجو ایمان
والے ہیں وہ اس سے ڈر رہے ہیں اورجانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے۔سن لو! بیشک قیامت کے
بارے میں شک کرنے والے ضرور دُور کی گمراہی میں ہیں(پ25،الشوری،18)
اسی
طرح اللہ پاک سورۃ القیامہ کی آیت 5 سے 15
تک قیامت کے احوال کو بیان فرماتا ہے:
بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ
لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ(۵) یَسْــٴَـلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ(۶) فَاِذَا
بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ
الْقَمَرُۙ(۹) یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ(۱۰) كَلَّا
لَا وَزَرَؕ(۱۱) اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمُسْتَقَرُّؕ(۱۲) یُنَبَّؤُا
الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ(۱۳) بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى
نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ(۱۴) وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ(۱۵)
ترجمۂ
کنز العرفان : بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے کو جھٹلائے پوچھتا ہے :قیامت کا
دن کب ہوگا تو جس دن آنکھ دہشت زدہ ہوجائے گی۔ اور چاند تاریک ہوجائے گا اور سورج
اور چاند کو ملا دیا جائے گا۔ اس دن آدمی کہے گا: بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ہرگز نہیں
،کوئی پناہ نہیں ہوگی۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے۔ اس دن آدمی کو اس
کا سب اگلا پچھلا بتادیا جائے گا۔ بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھنے
والا ہوگا اگرچہ اپنی سب معذرتیں لا ڈالے۔(پ29،القیامۃ،5تا15)
قیامت
کا دن کتنا خوفناک ہوگا کہ زمین اپنا سب کچھ باہر نکال دے گی کہ نہ کوئی درخت نہ
کوئی مکان نہ کوئی پہاڑ رہے گا سب تھرتھرا جائیں گے ،زمین کا تھرتھرانا لوگوں کے
اعمال کی خبریں اس وجہ سے ہے کہ لوگ اپنے اعمال دیکھ لیں جنہوں نے نیکی کی ہے تو
اسکے لئے خیر ہے اور جس نے برائی کی ہوگی تو اس کیلئے شر ہوگا جس کا تذکرہ اللہ واحد القھار نے قرآن مجید سورۃ الزلازل میں یوں
بیان فرمایا:
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ
اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ
اَخْبَارَهَاۙ(۴) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ(۵) یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ
النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶)
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ
مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)
ترجمۂ
کنز العرفان : جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔ اور زمین
اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔ اور آدمی کہے گا: اسے کیا ہوا اس دن وہ اپنی خبریں
بتائے گی۔ اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔ اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں
گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے
گا۔ اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔(پ30،الزلزال،1تا8)
اللہ
پاک ہمیں قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami