قیامت کا دن وہ دن ہے کہ جس کو قرآن و حدیث میں "یوم الآخر" اور "یوم الحساب" سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ دن دنیا میں کیے گئے اعمال و افعال کا حساب کتاب دینے کا دن ہے۔ اس دن نیکوکار اپنا انعام جنت کی صورت میں پائیں گے اور بدکار اپنی سزا جہنم کی صورت میں پائیں گے۔ یہ دن بہت لرزہ خیز اور وحشت ناک ہوگا۔ نفسی  نفسی کا عالم ہوگا ، سب کو اپنی ہی پڑی ہوگی ۔ نہ ماں بیٹے کی اور نہ بیٹا ماں کا ہوگا۔ صرف ایک داد رسی کرنے والا محبوب خدا ﷺ ہوگا جو کبیرہ گناہ کرنے والوں کی شفاعت فرمائے گا۔ اعلی حضرت ایک شعر میں فرماتے ہیں :

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ قرض لیتی ہے گناہ پرہیز گاری واہ واہ

اب قیامت کے درد ناک احوال کا قرآن کی روشنی میں مطالعہ کرتے ہیں:

(1) بے ہوشی کا صور: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ ترجمہ کنز العرفان: اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں سب بیہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے ۔ (پ24،سورۃ زمر، آیت نمبر 68)

اس سے جو بے ہوشی طاری ہوگی اس کا یہ اثر ہوگا کہ فرشتوں اور زمین والوں میں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے اوران پر موت نہ آئی ہوگی تو وہ اس سے مرجائیں گے اور وہ بزرگ ہستیاں جنہیں ان کی دُنْیَوی موت کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی عنایت کی ہوئی ہے اوروہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں جیسے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور شہداء، ان پر اُس نَفخہ سے بے ہوشی کی سی کیفِیَّت طاری ہوگی۔(جمل، الزّمر، تحت الآیۃ: ۶۸، ۶ / ۴۴۷)

(2) دوبارہ اٹھنے کا صور: ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمہ کنز العرفان: پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔ (پ24،سورۃ زمر، آیت نمبر 68)

دیکھتے ہوئے کھڑے ہونے سے یا تو یہ مراد ہے کہ وہ حیرت میں آکر مَبہوت (حیران) شخص کی طرح ہر طرف نگاہیں اُٹھا اُٹھا کر دیکھیں گے یا یہ معنی ہیں کہ وہ یہ دیکھتے ہوں گے کہ اب انہیں کیا معاملہ پیش آئے گا ۔

(3) حشر و نشر: وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْؕ-اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠(۲۵) ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک تمہارا رب ہی انہیں اٹھائے گا بیشک وہی علم والا، حکمت والا ہے۔ (پ14،سورۃ حجر ، آیت نمبر 25)

حدیث پاک مں ہے چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ہر بندہ اسی حال پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی ہو گی۔(مسلم، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الامر بحسن الظنّ ب اللہ تعالی عند الموت: ص۱۵۳۸، الحدیث: ۸۳ (۲۸۷۸)

(4) سوال و جواب: ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸) ترجمہ کنز العرفان: پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ (پ30،سورۃ تکاثر، آیت نمبر 8)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتّٰی کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (1) اس کی عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں خرچ کی۔ (2) اس کی جوانی کے بارے میں کہ کس کام میں گزری ۔ (3،4) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ (5) اس کے علم کے بارے میں کہ ا س پر کتنا عمل کیا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق و الورع، باب فی القیامۃ، ۴ / ۱۸۸، الحدیث: ۲۴۲۴)

(5) میزان: وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اس دن وزن کرنا ضرور برحق ہے تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔(پ8،سورۃ اعراف آیت نمبر 8)

جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ’’وزن‘‘ سے’’ میزان کے ذریعے اعمال کا وزن کرنا‘‘ مراد ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸، ۲ / ۷۸)

قیامت کے دن اعمال کے وزن کی صورت کیا ہوگی اس بارے میں مفسرین نے تین ممکنہ صورتیں بیان فرمائی ہیں ، ایک یہ ہے کہ اعمال اعراض کی قسم ہیں ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان اعراض کے مقابلے میں اجسام پیدا فرما دے اور ان اجسام کا وزن کیا جائے ۔ دوسری صورت یہ کہ نیک اعمال حسین جسموں کی صورت میں کر دئیے جائیں گے اور برے اعمال قبیح جسموں میں بدل دئیے جائیں گے اور ان کا وزن کیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ نفسِ اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گابلکہ اعمال کے صحائف کا وزن کیا جائے گا۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸، ۵ / ۲۰۲، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸، ۲ / ۷۸، ملتقطاً)۔

(6) اعمال کے صحیفے دائیں یا بائیں ہاتھ سے لینا: اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ-فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: تو بہر حال جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: لو میرا نامۂ اعمال پڑھ لو۔(پ29،سورۃ حاقۃ آیت نمبر 19)

جسے اس کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ یہ سمجھ لے گا کہ وہ نجات پانے والوں میں سے ہے اور وہ انتہائی فرحت و سُرور کے ساتھ اپنی جماعت ، اپنے اہلِ خانہ اور قرابت داروں سے کہے گاکہ لو میرے نامۂ اعمال کو پڑھ لو۔

ایک اور جگہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵) ترجمہ کنز العرفان: اور رہا وہ جسے اس کانامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔(پ29،سورۃ حاقۃ آیت نمبر 25)

(7) مومنوں کا جنت میں داخل ہونا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ(۷) جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠(۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ۔ ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے ،یہ صلہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ (سورۃ بینۃ، آیت نمبر 7،8)

(8) کافروں کا جہنم میں داخل ہونا: اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَااُولٰٓىٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ(۶) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اہلِ کتاب میں سے جو کافر ہوئے وہ اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں سب سے بدتر ہیں۔(سورۃ بینۃ، آیت نمبر 6)