قیامت و آخرت کے احوال کے بیان کی اہمیت ایسی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک وصف ، خوبی جو بتائی گئی کہ انہیں بھیجا گیا کہ یہ لوگوں کو ڈرائیں انہیں آخرت کے متعلق بتائیں۔ اس سے فوائد یہ ہیں کہ کچھ لوگ نعمتوں کے ذکر سے رب تعالیٰ کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد خوف خدا ، ڈر کی وجہ سے راہے راست پر آتی ہے۔ خوف خدا ہی ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے شریر سے شریر نفس راہے راست پر آتے ہیں انکار اور فساد فی الارض کے ناپاک عزائم سے دور ہوتے ہیں ۔ قرآن مجید میں خوف خدا کو پیدا کرنے کے لیے لوگوں کو اپنے اعمال سنوارنے کے لیے ، تزکیہ نفس کے لیے آخرت کی تیاری کرنے کے لیے ایک انداز جو اپنایا ہے وہ قیامت کا ذکر ہے۔ آئیے قرآن مجید میں جو قیامت کے احوال ہیں ان کا مطالعہ کرتے ہیں :

زمین و آسمان کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَت ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔ ( پارہ 30، سورۃ انفطار ، آیت نمبر 1 تا 5 )

قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی ۔( تحتِ آیات سورۃ انفطار ، تفسیر صراط الجنان )

زلزلے کا آنا اور اس کا سب کچھ باہر نگل دینا: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔ ( پارہ 30 سورۃ الزلزال ، آیت نمبر 1 ،2)

جس دن صور پھونکا جائے گا: اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ( پارہ30 ، سورۃ النباء ، آیت نمبر 7،8)

آسمان اور پہاڑ کا بدل جانا:وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا۔ ( پارہ30 ، سورۃ النباء ، آیت نمبر 19, 20)

سورج اور چاند کا بدل جانا: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔ (سورۃ القیامۃ،7تا9)

اسی آیت کریمہ کی تفسیر میں تفسیر صراط الجنان میں آتا ہے کہ قیامت کے احوال درج ہیں:

1: اس دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زدہ ہوجائے گی۔

2: چاندکی روشنی زائل ہوجائے گی جس سے وہ تاریک ہو جائے گا۔

3: سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔ یہ ملا دینا طلوع ہونے میں ہوگا کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے یا بے نور ہونے میں ہو گا کہ دونوں کی روشنی ختم ہوجائے گی۔( پارہ 29 سورۃ القیامہ ، آیت نمبر 7 تا 9)

دل اور آنکھ کا خوف زدہ ہو جانا : قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸) اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔ آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے ۔ ( پارہ 30 ، سورۃ النازعات ، آیت نمبر 8 تا 9)

ان آیات کے علاوہ سورۃ النازعات ، سورۃ الزلزال ، سورۃ النباء ، سورۃ انفطار ، سورۃ القیامہ ، سورۃ بنی اسرائیل ، سورۃ حج الغرض سینکڑوں آیات کریمہ قیامت کے مختلف احوال کو بیان کرتی ہیں ۔ جن کو پڑھ کر دل خوف زدہ ہو جاتے ہیں ، زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ، صاحب تقوی لرز اٹھتے ہیں ان کے ایمان کو مزید قوت ملتی ہے ، فاسق و فاجر گناہگار توبہ کی طرف مائل ہوتے ہیں دل ڈر جاتے ہیں ، ہر ایک اعمال کے محاسبہ کی جانب راغب ہوتا ہے ، ان آیات کے مطالعہ سے بندے کا نفس ایک مرتبہ اس کو جھنجھوڑتا ہے کہ اے بندے کیا ہو گیا ہے کہ جن قبیح و شنیع اعمال کو کر کے میں دنیا میں آج مست ہوں ہائے ان مناظر کو دیکھ کر قیامت کے روز میرا کیا بنے گا ۔ ان آیات کے مطالعہ سے انسان حقیقی کامیابی کی طرف دوڑتا ہے ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ وہ آیات جن میں احوال قیامت کا بیان ہے ، جن میں خوف خدا کا ذکر ہے ان کا مطالعہ کریں ، اس سے ہمارا نفس راہے راست پر آئے گا ۔

دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں آخرت کی فکر کرنے اس کی تیاری کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہر آفت سے ہولناکی سے محفوظ و مامون فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔