قیامت وہ دن ہے جس دن مخلوقات کو حسابِ اعمال کے لئے زندہ کیا جائے  گا ، قیامت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا محض تصور جسم پر کپکپاہٹ پیدا کر دیتا ہے قرآنِ پاک میں قیامت کے ہولناک اور عظیم احوال کو بار بار بیان فرمایا گیا ہے تاکہ انسان بیدار ہو کر ایمان اور عملِ صالح کی طرف متوجہ ہو۔

قیامت کے منکر کا حکم :قیامت حق ہے بے شک قیامت قائم ہو گی، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ (بہار شریعت، حصہ: 1 ، 1/129)

کیونکہ قیامت کے متعلق اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا ترجمۂ کنز العرفان:یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ (پ17،سورۃ الحج آیت:7)

ایک مقام پر ہے: لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ ترجمہ کنز العرفان: وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (سورۃالنساءآیت :87)

ذیل میں قرآن پاک سے قیامت کے احوال کے متعلق چند آیات پیش ہیں:

(1) پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ صور پھونکنا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمۂ کنز العرفان:اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں سب بیہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔(پ24، سورۃ الزمر، آیۃ نمبر: 68)

(2) آسمان میں دروازے بننا: وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمۂ کنز العرفان:اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے بن جائے گا۔اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے باریک چمکتی ہوئی ریت جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔(پ30،سورۃ النباء آیت: 19، 20)

اسی بات کو صراحت کے ساتھ ایک اور مقام پر بیان کیا گیا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا :

(3) آسمان کا پھٹ جانا : وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىٕكَةُ تَنْزِیْلًا(۲۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس دن آسمان بادلوں سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے پوری طرح اتارے جائیں گے۔(پ19،سورۃ فرقان ، آیت:25)

(4) زمین و آسمان کی تبدیلی: یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۴۸) ترجمۂ کنز الایمان:جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے ایک اللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے۔(پ13، سُورۃ ابراہیم آیت: 48)

(5) آسمان کا پھٹنا اور ستاروں کا بکھرنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(پ30،سورۃ الانفطار: 1-5)

(6) زمین کے زلزلے اور بوجھ نکالنا: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔اور آدمی کہے اسے کیا ہوا ۔( پ30،سورۃ الزلزال آیت : 1-3)

(7) سورج لپیٹا جانا اور جانوروں کا جمع ہونا: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ(۴) وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْﭪ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گااور جب تارے جھڑ پڑیں۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوٹی پھریں۔اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں۔(پ30،سورۃ التکویر آیت: 1-5)

(8) پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہونا: وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ(۱۰۵) فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ(۱۰۶) لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ(۱۰۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ تو زمین کو پٹ پر ہموار کر چھوڑے گا۔ کہ تو اس میں نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے۔(پ16، سورۃ طٰہٰ آیت: 105تا107)

(9) ایک دن کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر: تَعْرُجُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ(۴) ترجمۂ کنز الایمان:فرشتے اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف چڑھتے ہیں ، (وہ عذاب) اس دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔(پ29،سورۃ المعارج, آیۃ: 4) اور دوسری آیت میں فرمایا:

(10) ایک دن کی مدت ایک ہزار سال کے برابر: یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں ۔(پ21،سورۃ السجدہ 5)

اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: یاد رہے کہ اس آیت اور سورۃ سجدہ کی آیت نمبر 5میں یہ بیان ہو اکہ قیامت کا دن لوگوں کی گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہو گا اور سورۃ معارج کی آیت نمبر4میں یہ بیان ہو اہے کہ قیامت کے دن کی مقدارپچاس ہزار سال ہے۔ان میں مطابقت یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار کو جن سختیوں اور ہولناکیوں کا سامنا ہو گا ان کی وجہ سے بعض کفار کو وہ دن ایک ہزار سال کے برابر لگے گا اور بعض کفار کو پچاس ہزار سال کے برابر لگے گا۔(تفسیرِ صراط الجنان، تحت سورۃ سجدۃ آیت نمبر 5 )

(11) صرف ایک ذات کی بادشاہت و ملکیت ! اَلْمُلْكُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِؕ-وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا(۲۶) ترجمۂ کنز العرفان:اس دن سچی بادشاہی رحمٰن کی ہوگی اور کافروں پر وہ بڑا سخت دن ہوگا۔ (پ19، سورۃ الفرقان،26 )

اس حوالے سے ایک اور مقام میں فرمایا: لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۱۶) ترجمۂ کنز العرفان:آج کس کی بادشاہی ہے ایک اللہ کی جو سب پر غا لب ہے۔(پ24،المؤمن ، آیت نمبر 16)

ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہے کہ قیامت کا دن نہایت سخت، ہولناک اور فیصلہ کن دن ہوگا، جس میں ہر انسان اپنے اعمال کا دیکھے گا۔

الله پاک ہم اپنی زندگی نیک کاموں میں گزارنے اور قبر و آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰه علیہ وسلم