ایک چیز میرے سامنے ہے۔ میں اُسے دیکھ سکتا ہوں، محسوس کرسکتا ہوں تو مجھے اُس چیز کو ماننے اور اس پر یقین کرنے میں کوئی تامّل(شک، تذبذب) نہیں ہوگا۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو یہی وجہ ہے کہ مادہ پرستوں نے جس چیز کا سب سے زیادہ مذاق اُڑایا وہ قیامت ہے، وہ اِس پر نا صرف حیرانی اور تعجب کا اظہار کرتے بلکہ اسے بعید از عقل و امکان سمجھ کر ناقابلِ تصوّر گردانتے(سمجھتے) تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح توحید و رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے بلکل ایسے ہی کوئی شخص اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک قیامت کے حق ہونے کا اعتقاد نہ رکھے۔

اللہ تعالى نے قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر قیامت کے حق ہونے کا بیان فرمایا اور اِسی وجہ سے احوالِ قیامت کا بیان بھی قرآن میں بکثرت موجود ہے۔ اِن قرآنی بیانات میں دو باتیں خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔(1) احوالِ قیامت کے بیان کے وقت عام طور پر ماضی کے صیغے( وہ کلمات جو اِس بات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں کہ یہ کام زمانۃ ماضی میں ہوچکا ہے) استعمال کیے گئے ہیں جو کہ قیامت کے احوال اِس قطعیت(یقین) کے ساتھ بیان کررہے ہیں گویا کہ وہ واقع ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا وقوع ابھی ہونا ہے۔(2) قیامت کے احوال کی اِس انداز میں منظر کشی کی گئی ہے کہ گویا قاری اور سامع اُس منظر کا اپنے آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہے۔ اللہ تعالى نے یہ اہتمام اِس لیے فرمایا کہ کسی کے لیے قیامت کے انکار کی گنجائش نہ رہے۔ اِس کے بعد بھی جو نہ مانے وہ پرلے درجے کا ہٹ دھرم اور چڑھتے سورج کا انکار کرنے والا نادان ہے۔

ویسے تو قیامت کے احوال سے متعلق کئی چیزوں کا بیان قرآن کریم میں موجود ہے لیکن اللہ تعالى نے اپنی تخلیق میں سے بطورِ خاص تین شہکاروں کا ذکر کئی مقامات پہ فرمایا ہے بعد اِس کے کہ "اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ(تو کیا نہیں دیکھتے)" سے اِن تینوں میں غور کرنے کا حکم ارشاد فرمایا کہ آسمان کو کیسے اونچا کیا گیا اور پہاڑوں کو کیسے قائم کیا گیا اور زمین کو کیسے بچھایا گیا(پارہ:30، سورة الغاشية، آیت:17ـ20) کیونکہ ان میں تخلیق کی عظمت اور عجائبِ صنعت کے وہ راز ہیں جو اللہ تعالی کی قدرت و عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔

(1) زمین: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔(پارہ:30، سورة الزلزال، آیت:1)

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنزالایمان: اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے۔(پارہ:30، سورة الزلزال،آیت:2)

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ(۲۱) ترجمہ کنزالایمان:ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے۔ (پارہ:30،سورة الفجر،آیت:21)

(2)آسمان:یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ(۸) ترجمہ کنزالایمان: جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی۔ (پارہ:29،سورة المعارج، آیت:8)

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ(۹) ترجمہ کنزالایمان: اور جب آسمان میں رخنے پڑیں۔(پارہ:29، سورة المرسلٰت, آیت:9)

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے۔(پارہ:30،سورة الانفطار،آیت:01)

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ترجمہ کنزالایمان: جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سِجِل فرشتہ نامہ اعمال کو لپیٹتا ہے۔(پارہ:17،سورة الأنبياء، آیت:104)

(3) پہاڑ: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون۔ (پارہ:30، سورة القارعۃ، آیت:5)

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ(۱۰۵) ترجمہ کنزالایمان: اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ (پارہ:16،سورة طہ، آیت:105)

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ(۱۰) ترجمہ کنزالایمان: اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے۔(پارہ:27، سورة الطور، آیت:10)

اِن قرآنی بیانات میں موجود احوال میں اگر غور کیا جائے تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور اُس پر واضح ہوجائے کہ اتنی عظیم تخلیقات کا یہ حال یقیناً ایک عظیم دن کی خبر دے رہا ہے۔