محمد صائم قریشی (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابوعطار
ملیر، کراچی ، پاکستان)
قیامت
کا دن وہ عظیم دن ہے جس پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے عقیدہ کا حصہ ہے۔ قرآنِ کریم
میں مختلف مقامات پر اس دن کی ہولناکی، اس کی نشانیاں، اور اُس وقت کے حالات کو
انتہائی مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ انسان عبرت حاصل کرے اور اپنی زندگی
کو سنوارے۔ آپ کے سامنے مختصر سا قیامت کے احوال کا قرآنی بیان ذکر کیا جاتا ہے :
قیامت
کے زلزلے کا ہولناک منظر: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنزالعرفان:جب زمین
تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے ۔(پ30، الزلزال 1)
یہ
زمین کا تھرتھرانا یا تو قیامت سے پہلے ہوگا یا قیامت کے دن ، اس کا زلزلہ کے ساتھ
تھرتھرانہ اس طرح ہوگا کہ سب چیزیں ٹوٹ پھوٹ جائیں گی ، کوئی درخت ، عمارت اور کوئی
پہاڑ باقی نہیں رہے گا ۔
زلزلے کی کیفیت: ایک
مقام پر رب تعالیٰ نے زلزلہ کی کیفیت کی منظر کشی قرآن کریم میں اس طرح کی ارشادِ
باری تعالیٰ: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا
رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا
تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ
حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ
اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) ترجمہ:اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت
بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے
دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں
کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ
کا عذاب بڑا شدید ہے۔ (پ17، الحج: 1-2)
صراط
الجنان میں ہے کہ" نبی کریم ﷺ نے
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سامنے ان
(آیات1-2)کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے، نہ ہی ہانڈیاں پکائیں
اور وہ غمزدہ، پُر نم اور فکر مند تھے"۔(صراط الجنان، الحج، تحت الآیۃ:
1,2،تلخیصاً)
ان ہستیوں سے تو اللہ پاک بھلائی کا وعدہ فرما
چکا اور بعض کو تو دنیا میں ہی زبانِ رسالت سے جنت کی بشارت مل چکی ہے تب ان کا یہ
حال ہے تو ہمیں قیامت کی شدت،ہیبت،ہولناکی اور سختی سے بہت زیادہ ڈرنا چاہئے کیونکہ
ہمارے ساتھ تو کوئی ایسا وعدہ بھی نہیں ہوا ۔
آسمان، ستاروں اور زمین کا حال: احوالِ
قیامت میں رب تعالیٰ نے ایک مقام پر آسمان و ستاروں کا حال اس طرح بیان فرمایا : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) ترجمہ کنزالعرفان : جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے
جھڑ پڑیں گے۔(پ30 ، الانفطار: 1-2)
دوسرے
مقام پر زمین کا حال اس طرح بیان فرمایا : وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنز العرفان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک
دے گی۔(پ30، الزلزال 2)
انسانوں کا حال: اللہ اکبر وہ ایک ایسا منظر ہوگا کہ جس میں سب
جمع ہونگے اور ننگے بدن ہونگے پھر بھی کسی کو ننگے بدن کی پرواہ نہیں ہوگی وہ اپنی
ہی فکر میں ڈوبے ہونگے اس کو اللہ پاک اس طرح بیان فرماتا ہے : یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)
وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمہ کنزالعرفان: اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں
اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی
فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔ (پ 30، عبس 34-36 )
پھر
اس کے بعد نامہ اعمال پیش کیا جائے گا اس
کا ذکر رب تعالیٰ نے سورۃ الحاقہ میں فرمایا اور سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا کہ
بندے سے کہا جاۓ گا
اپنا نامہ اعمال خود پڑھے۔ ہم سوچیں اگر ہم دنیا میں صرف رب تعالیٰ کی نافرمانی
کرتے ہیں تو ہم کیسے پڑھ پائیں گے سب کے سامنے اپنا نامہ اعمال سورۃ الانبیاء میں
میزان کے قائم ہونے کا بیان ہوا، سب کا حساب و کتاب ہوگا ، زیادتی کسی پر نہ ہوگی
اور پھر سورۃ النازعات میں بیان ہوا کہ : وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى(۳۶) ترجمہ کنزالعرفان:جہنم سب دیکھنے والوں کے سامنے
ظاہر کر دی جائے گی۔(پ:30 ، النازعات:36)
انسان
کے اعمال کے مطابق اس کے سامنے جنت یا جہنم پیش کی جائے گی، اور پھر وہی اس کا
دائمی ٹھکانہ ہوگا۔
قرآنِ
مجید کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن نہایت ہی سخت، ہولناک، اور فیصلہ
کن دن ہوگا۔ ہمیں قیامت کے حساب و کتاب کی دنیا میں ہی تیاری کرنی چاہیے ، یہ آیات
اور ان کے علاؤہ دیگر آیات دنیا کی عیش و عشرت اور غفلت میں ڈوبے انسان کے لیے بیداری
کا ذریعہ ہیں ۔ جو دنیا میں اللہ کے احکام کے مطابق چلے، اس کے لیے نجات ہے، اور
جو غافل رہا، اس کے لیے حسرت، ندامت اور عذاب ہوگا۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں قیامت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami