انسان کی زندگی صرف دنیا کی چند روزہ زندگی تک محدود نہیں بلکہ موت کے بعد ایک دائمی زندگی ہے، جسے "آخرت" کہا جاتا ہے۔ وہاں قیامت کے دن انسان اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں قیامت کے ہولناک احوال بیان ہوئے ہیں تاکہ انسان غفلت نہ کرے اور اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری کے لیے وقف کردے۔اپنی زندگی میں ایسے اعمال کرے جن کے سبب اس کے لیے قیامت کے مراحل کو پار کرنا آسان ہو جائے اور ایسے اعمال سے بچے کہ جو اس کے لیے دنیاو اخروی نقصان کا باعث بنیں ۔قران کریم کی بعض آیات میں قیامت کے احوال کو طوالت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جن میں سے چند آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیے :

(1) وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَاۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ(۷) ترجمہ (کنز الایمان):اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں، اور اللہ ان کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔(پ17،الحج،7)

تفسیر (صراط الجنان):وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ:اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے:ارشاد فرمایا کہ یہ دلائل ا س لئے ذکر کئے گئے تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کے آنے میں کچھ شک نہیں اور یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان مردوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں اور مرنے کے بعد اٹھایا جانا حق ہے۔( خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۳۰۰)

(2) اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ (کنز الایمان):جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی۔ اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی۔(پ30،الزلزال ،1-2)

تفسیر (صراط الجنان):اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے:ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۰۰)

(3) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ (کنز الایمان):جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوں گے۔ اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے۔(پ30، القارعہ،4-5)

تفسیر (صراط الجنان):قیامت کے دن انسان بے سہارا بکھر جائیں گے اور مضبوط پہاڑ بھی غبار کی طرح اُڑ جائیں گے۔

احوال قیامت کا احادیث مبارکہ سے ثبوت

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے نماز کے بارے میں سوال ہوگا۔"

(ابوداؤد، حدیث: 864)

خاتم الانبیاء تاجدار مدینہ صاحب قلب و سینہ صاحب معطر پسینہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا"قیامت کے دن سورج قریب کر دیا جائے گا، حتی کہ پسینہ انسانوں کے کانوں تک پہنچ جائے گا۔" (صحیح بخاری، حدیث: 6532)

مدینے والے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا:"عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے۔"(ترمذی، حدیث: 2459)

ان احادیث مبارکہ اور آیات مبارکہ کو ملاحظہ فرما کر ثابت ہوا کہ قیامت کا واقع ہونا حق اور سچ ہے اور جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے۔

اس کے متعلق مزید معلومات کے لیے صحابہ کرام سے منقول اقوال حکایات اور اقوال بزرگان دین ملاحظہ فرمائیے۔

(1)حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جب رات کو اکیلے ہوتے تو قیامت کو یاد کر کے روتے اور فرماتے: "کاش میرا کوئی حصہ نہ ہوتا، قیامت کا دن کتنا سخت ہے۔"(حلیۃ الاولیاء، ج5، ص292)

(2)حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ:قیامت کا ذکر سنتے ہی بے ہوش ہو جایا کرتے اور فرماتے: "یہ دن کس قدر سخت ہوگا۔"(کتاب الزہد لابن المبارک، ص112)

3)ایک بزرگ رحمہ اللہ جب ایک قبرستان سے گزرے تو فرمایا: "کل یہ سب زندہ کیے جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوں گے، ہم کیا جواب دیں گے"(احیاء علوم الدین، ج4، ص559)

قیامت کا دن برحق ہے۔ قرآن و سنت میں اس دن کے ہولناک حالات بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان عبرت حاصل کرے۔ عقلمند وہ ہے جو اپنی زندگی کو آخرت کے لیے سنوارے، نیک اعمال کرے اور برائیوں سے بچے۔ دنیا کی اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔