محمد عزیز عطاری جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
مجید انسان کو اس کی تخلیق کے مقصد، دنیا کی فانی حیثیت اور آخرت کی ابدی زندگی کی
طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ قرآن کا ایک بڑا موضوع احوالہ قیامت یعنی قیامت کا دن
ہے، جو کہ جزا و سزا کا دن، حق و باطل کا فیصلہ کن وقت، اور ہر انسان کے اعمال کے
محاسبے کا وقت ہو گا۔
(1)
زمین کی ہولناک لرزش : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنز الایمان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک
دے جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھر تھر انا ٹھہرا ہے (سورۃ الزلزال آیت
نمبر 1،2)
(2)
قیامت کی ہولنا کی: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ
اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ
الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان: دل دہلانے والی۔کیا وہ
دہلانے والی ۔اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے
پتنگے اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون۔(سورۃ القارعہ آیت نمبر 1،5)
(3)
آسمان و زمین کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱)
وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ
اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ
اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب
کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں
ہے ڈال دے اور خالی ہو جائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔ (سورۃ
انشقاق آیت نمبر 1تا 5،تفسیر صراطِ الجنان مکتبہ المدینہ)
محمد اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
وقوع
قیامت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور قیامت کا دن حق ہے، خواہ کوئی
مانے یا نہ مانے، ہمارا ایمان ہے کہ انسان و حیوان، زمین و آسمان سمیت سارا جہاں
اور اس کائنات کی ہر چیز ایک دن فنا ہو جائے گی، صرف اللہ پاک کی ذات باقی رہے گی،
اس کو قیامت کہتے ہیں، قیامت کا دن بہت وحشت والا اور ہولناک ہوگا۔اس کی ہولناکیوں
کے متعلق قرآن وحدیث میں بہت سی آیات اور احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں ۔
آئیے چند آیات مبارکہ پڑھتے ہیں جن میں قیامت کی
ہولناکیوں کے متعلق بیان کیا گیا ہے:
(1)زمین
کا شدید زلزلے سے تھرتھرانا : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔ (سورۃ زلزال آیت نمبر 1 پارہ 30)
اس آیت مبارکہ میں قیامت کی ایک ہولناک منظر کو
بیان کیا ہے کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی
درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز
ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت
کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: 1، 4 / 400)
قیامت کا زلزلہ کتنا ہَولْناک ہے اس کے بارے میں
ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ
عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ
تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ
بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک
قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)ہر دودھ
پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن
ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
(سورۃحج
آیت نمبر 1،2 پارہ 17)
(2)آسمان
کا پھٹ جانا ،ستاروں کا جھڑنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ
بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب
تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے
گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(سورۃ انفطار آیت نمبر ،1،2،3،4،5 پارہ 30)
ان آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے
ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے
اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور
جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر
مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال
دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا
اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں
اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: 1-5،
10 / 355-354 خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: 1-5، 4 / 358 ملتقطاً)
(3)سورج
اور چاند کا مل جانا: فَاِذَا
بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ
الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور
چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔ ( سورۃقیامہ آیت نمبر 7،8،9
پارہ 29)
ان
آیات مبارکہ میں قیامت کی تین ہولناکیاں بیان فرمائی ہیں ۔
(1)اس
دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زدہ ہوجائے گی۔
(2)چاندکی
روشنی زائل ہوجائے گی جس سے وہ تاریک ہو جائے گا۔
(3) سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔ یہ ملا دینا
طلوع ہونے میں ہوگا کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے یا بے نور ہونے میں ہو گا کہ
دونوں کی روشنی ختم ہوجائے گی۔( تفسیرکبیر،القیامۃ،تحت الآیۃ:7-9،10 / 723-724،
روح البیان،القیامۃ،تحت الآیۃ:7-10،9 / 245-246،ملتقطاً)
(4)پہاڑوں
کا دھنکی اون کی مانند ہوجانا: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی
اون ۔ (القارعۃ: 5)
اس
آیت مبارکہ میں دل دہلا دینے والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے بلند و بالا اور
مضبوط ترین پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اس طرح اڑتے پھریں
گے جس طرح رنگ برنگی اُون کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں تو ا س وقت کمزور
انسان کا حال کیا ہو گا!( خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: 5، 4 / 403، روح البیان،
القارعۃ، تحت الآیۃ: 5 ،10 / 500، ملتقطاً)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا آیات میں ہم نے قیامت کی ہولناکیوں کے بارے میں
پڑھا۔یقینا ہمارا ایمان ہے کہ قیامت ایک نہ ایک دن ضرور آئے گی۔ آج ضرورت اس بات کی
ہے کہ ہم اپنے اعمال اور احوال میں ایسی تبدیلی لائیں جو ہمیں قیامت کی ہولناکیوں
سے بچا سکے۔
حضرت
امام غزالی رحمۃ اللہ علی ہ ارشاد فرماتے ہیں: جو دنیا میں رہ کر قیامت کے بارے میں
زیادہ غور و فکر کرے گا، وہ اُن ہولناکیوں سے زیادہ محفوظ رہے گا۔ بے شک اللہ کریم
بندے پر 2 خوف جمع نہیں فرماتا، لہذا جو دنیا میں ان ہولناکیوں کا خوف رکھے گا وہ
آخرت میں ان سے محفوظ رہے گا۔ خوف سے مراد عورتوں کی طرح رونا دھونا نہیں کہ آنکھیں
آنسو بہائیں اور سنتے وقت دل نرم ہو جائے، پھر تم اُسے بھول کر اپنے کھیل کود میں
مشغول ہو جاؤ۔ اس حالت کو خوف سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ جو شخص جس چیز کا خوف رکھتا
ہے اُس سے بھاگتا ہے اور جس چیز کی اُمید رکھتا ہے اُس کو طلب کرتا ہے۔ لہذا تمہیں
وہی خوف نجات دے گا جو اللہ کریم کی نافرمانی سے روکے اور اُس کی عبادت و
فرمانبرداری پر ابھارے۔(احياء العلوم، كتاب ذكر الموت ... الخ 284/5-287)آمین بجاہ
خاتم النبین۔
محمد عزیز عطاری جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
مجید انسان کو اس کی تخلیق کے مقصد، دنیا کی فانی حیثیت اور آخرت کی ابدی زندگی کی
طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ قرآن کا ایک بڑا موضوع احوالہ قیامت یعنی قیامت کا دن
ہے، جو کہ جزا و سزا کا دن، حق و باطل کا فیصلہ کن وقت، اور ہر انسان کے اعمال کے
محاسبے کا وقت ہو گا۔
(1)
زمین کی ہولناک لرزش : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنز الایمان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک
دے جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھر تھر انا ٹھہرا ہے (سورۃ الزلزال آیت
نمبر 1،2)
(2)
قیامت کی ہولنا کی: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ
اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ
الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان: دل دہلانے والی۔کیا وہ
دہلانے والی ۔اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے
پتنگے اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون۔(سورۃ القارعہ آیت نمبر 1،5)
(3)
آسمان و زمین کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱)
وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ
اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ
اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب
کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں
ہے ڈال دے اور خالی ہو جائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔ (سورۃ
انشقاق آیت نمبر 1تا 5،تفسیر صراطِ الجنان مکتبہ المدینہ)
محمد عثمان ( دورہ حدیث مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
قیامت
کا عقیدہ ضروریات دین میں سے ہےاور اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ قیامت کا انکار
کرنے والا کافر ہے۔(الشفاء ،فصل فی بیان ما ھوا من المقالات ،جلد2،صفحہ290)
جیسے
ہر شے کی ایک عمر مقرر ہے اس کے پورا ہونے کے بعد وہ فنا ہو جاتی ہے ۔ایسے ہی دنیا
کی بھی ایک عمر اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر ہے۔اس کے پورا ہونے کے بعد دنیا فنا
ہو جائے گی ۔زمین و آسمان ،آدمی ،جانور کوئی بھی باقی نہیں رہے گا اس کو" قیامت"کہتے
ہیں جیسے آدمی کے مرنے سے پہلے بیماری کی شدت،جان نکلنے کی علامت ظاہر ہوتی ہے ۔ آئیے!
قیامت کے چند قرآنی احوال پڑھیے اور نصیحت حاصل کیجئے ۔
آسمانوں کا پھٹ جانا: بروز قیامت
آسمان اپنے پھٹنے کے بارے میں اپنے رب عزوجل کا حکم سنے گا اور اپنے رب عزوجل کے
حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پھٹ جائے گا اور اس کےلیے یہی لائق ہے کہ اپنے رب عزوجل کے
حکم کی تعمیل کرے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) ترجمہ کنزالایمان:جب آسمان شق
ہو ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔ (پارہ30،الانشقاق،آیت:1تا2)
زمین کا ہموار ہونا: بروز قیامت
زمین کو ہموار کرکے سیدھا کردیا جائے گا اور زمین پر کوئی بھی عمارت باقی نہ رہے گی
۔اور زمین اپنے اندر موجود خزانے اور مردوں کو باہر پھینک دے گی۔جیسا کہ قرآن مجید
میں ہے:
وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) ترجمہ کنزالایمان:اور جب زمین
دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔ (پارہ30،الانشقاق،آیت:3تا4)
جانوروں کا زندہ ہونا: قیامت
کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد وحشی جانور جمع کیے جائیں گے تاکہ وہ ایک دوسرے
سے بدلہ لیں ، پھر خاک کردیئے جائیں ۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: وَ اِذَا الْوُحُوْشُ
حُشِرَتْﭪ(۵) ترجمہ کنزالایمان:اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں۔ (پارہ30،التکویر،آیت:5)
اللہ
تعالیٰ ہمیں احوالِ قیامت کی حقیقت کو سمجھنے اور اپنی آخرت کی فکر کرتے ہوئے نیکی
کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ
واصحابہ وبارک وسلم
محمد زین عطّاری (درجہ سابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
، پاکستان)
قیامت،
جسے یومِ حشر، یومِ حساب اور یومِ الدین بھی کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کا سب سے
بڑا اور فیصلہ کن واقعہ ہے. قرآنِ کریم میں اس کا ذکر بار بار اور مختلف پہلوؤں سے
کیا گیا ہے، تاکہ انسان اس کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگی کو اس
کے مطابق ڈھال سکیں. قرآن میں قیامت کے جو احوال بیان کیے گئے ہیں، وہ صرف ڈرانے
کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے، انہیں انصاف، عدل اور اخلاقی ذمہ
داری کا احساس دلانے کے لیے ہیں۔
(1)صور
کا پھونکنا : فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ
الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ
(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے
والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں
سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔ (سورۃ عبس آیات
33,34,35,36,37,)
(2)
آسمان کا شق ہونا: اِذَا
السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا
الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ
مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب
کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں
ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔ (سورۃ
انشقاق آیات1,2,3,4,5)
(3)
مصیبت کی خبر: هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی
خبر آئی جو چھا جائے گی۔(سورۃ غاشیہ آیت 1)
محمد حسن(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
جیسے
ہر چیز کی ایک عمر مقرر ہے اس کے پورے ہونے کے بعد وہ چیز فنا ہو جاتی ہے ایسے ہی
دنیا کی بھی ایک عمر اللہ کریم کے علم میں مقرر ہے اس کے پورا ہونے کے بعد دنیا
فنا ہو جائے گی زمین و آسمان آدمی جانور کوئی بھی باقی نہ رہے گا اس کو قیامت کہتے
ہیں (حوالہ کتاب فرض علوم سیکھیے صفحہ 121)
وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی
الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ (۸۷)
ترجمۂ
کنز العرفان ؛اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین
میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے
حاضر ہوں گے۔ (النمل: 87)
فرمایا کہ اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا۔ یعنی
جس دن باذن اللہ حضرت اسرائیل علیہ السلام صور میں پونکیں گے تو اس کی آواز سن کر
زمین و آسمان کے تمام جاندار خوف زدہ ہو جائیں گے اور اسی خوف کی وجہ سے مر جائیں
گے، مگر وہ جنہیں اللہ چاہے یعنی جنہیں اللہ تعالی چاہے گا اور جن کے دل کو اللہ
تعالی سکون عطا فرمائے گا انہیں یہ گھبر بہت نہ ہو گی اور صور پھو کتنے کے بعد سب
لوگ حساب کی جگہ میں اللہ تعالی کے حضور عاجزی سے حاضر ہو جائیں گے۔(حوالہ مدارک،
النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۸۵۷، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳ / ۴۲۱، ملتقطاً)
جب
دوسری بار صور پھونکا جائے گا
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴)
وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ (۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ
مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمہ
کنز العرفان:پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے
بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر
شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی ۔ (عبس:33تا
37)
آیت
کا خلاصہ یہ ہے کہ جب دوسری بار صور پھونکنے کی کان پھاڑدینے والی آواز آئے گی
تو اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں ، اپنے باپ ،اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے
بھاگے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ نہیں کرے گا تاکہ ان میں کوئی اپنے حقوق
کا مطالبہ نہ کر لے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے
دوسروں سے لاپرواہ کردے گی۔(تفسیر صراط الجنان سورۃ العبس)
قیامت کے مناظر اور قیامت قائم ہونے کے وقت
آسمان،زمین اور انسانوں کا حال وغیرہ ۔
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ
اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ
اَخْبَارَهَاۙ(۴) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ(۵) یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ
النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶)
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ
مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)
ترجمہ
کنز العرفان:جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے ۔اور زمین
اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔اور آدمی کہے گا:اسے کیا ہوااس دن وہ اپنی خبریں بتائے
گی۔اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے
تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے
گا۔اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔(الزلزال،1تا8)
اس
سورت میں قیامت قائم ہوتے وقت کی چند علامات بیان کرنے کے بعد بتایا گیا کہ قیامت
کے دن زمین اللہ تعالی کے حکم سے مخلوق کا وہ سب کچھ بیان کر دے گی جو اس پر انہوں
نے کیا ہو گا۔ یہ بتایا گیا کہ قیامت کے دن لوگ مختلف حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ
میں حاضر ہوں گے اور جس نے ذرہ بھر نیکی یا گناہ کیا ہو گا تو وہ اسے دیکھے گا۔
آیت
1 ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھر تھرادی جائے گی اور زمین پر کوئی
درخت، کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ
پھوٹ جائے گی۔ زمین کا یہ تھر تھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت
کے دن زمین تھر تھرائے گی۔
آیت
2 فرمایا کہ جب زمین اپنے اندر موجود خزانے اور مردے سب نکال کر باہر پھینک دے گی۔
اہم بات: انسانوں اور جنات کو ثقلین کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مردہ ہوں یا زندہ زمین
ان کا بوجھ اٹھاتی ہے۔
آیت
3 اس زلزلے کے وقت جو لوگ موجود ہوں گے وہ حیرت سے کہیں گے : زمین کو کیا ہو ا کہ
ایسی مضطرب ہوئی اور اتنا شدید زلزلہ آیا کہ جو کچھ اس کے اندر تھا اس نے سب باہر
پھینک دیا۔
آیت
5،4 ان دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب یہ امور واقع ہوں گے تو اس دن زمین اللہ تعالی
کے حکم سے مخلوق کو اپنی خبریں بتائے گی اور جو نیکی بدی اس پر کی گئی وہ سب بیان
کرے گی اور اس سے مقصود یہ ہو گا کہ زمین نافرمانوں سے شکوہ کر سکے اور
فرمانبرداروں کا شکریہ ادا کر سکے، چنانچہ وہ یہ کہے گی کہ فلاں شخص نے مجھ پر
نماز پڑھی، فلاں نے زکوۃ دی، فلاں نے روزے رکھے اور فلاں نے حج کیا جبکہ فلاں نے
کفر کیا، فلاں نے زنا کیا، فلاں نے چوری کی، فلاں نے ظلم کیا حتی کہ کافر تمنا کرے
گا کہ اسے جہنم میں پھینک دیا جائے۔ درس: زمین ہمارے اعمال پر گواہ ہے اور قیامت
کے دن یہ ہمارے سامنے ہمارے اعمال بیان کر دے گی۔
آیت
6 اس آیت کے دو معنی ہیں : (1) قیامت کے دن لوگ حساب کی جگہ پر پیش ہونے کے بعد
وہاں سے کئی راہیں ہو کر لوٹیں گے ،کوئی دائیں طرف سے ہو کر جنت جائے گا اور کوئی
بائیں جانب سے ہو کر دوزخ جائے گا تا کہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے۔
(2) جس دن وہ امور واقع ہوں گے جن کا ذکر کیا گیا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کی
جگہ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے کہ کسی کا چہرہ سفید تو کسی کا چہرہ سیاہ ہو گا،
کوئی سوار ہو گا اور کوئی زنجیروں میں جکڑا ہوا پیدل ہو گا، کوئی امن کی حالت میں
تو کوئی خوفزدہ ہو گا تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
(حوالہ
کتاب تفسیر تعلیم قران سورۃ الزلزال پارہ 30)
یادِ
قیامت کو بھولا دینے کا بیان:یقینا قیامت کو یاد رکھنے سے
عمل کرنے کا جذبہ اور گناہوں سے توبہ کرنے کی توفیق اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا
ہوتا ہے کیونکہ اس کے سامنے قیامت کے احوال اس کی ہولناکیاں پیش نظر ہوتی ہیں جبکہ
اس کے برعکس جو قیامت کو بھولاے ہوئے ہیں قران پاک میں ان کو جا بجا قیامت کو بھولانے
کی وعیدات ائی ہیں ان میں سے ایک پیش خدمت ہے
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) ترجمہ
کنز العرفان:لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
اس
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں نے دنیا میں جو بھی عمل کئے ہیں اور ان کے بدنوں ،
ان کے جسموں ، ان کے کھانے پینے کی چیزوں اور ان کے ملبوسات میں اور ان کی دیگر
ضروریات پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کے
حساب کا وقت(روزِقیامت)قریب آ گیا ہے اوراس وقت ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں
کے بدلے میں انہوں نے کیا عمل کئے،آیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور ا س
کے دئیے ہوئے حکم پر عمل کیا اور جس چیز سے اس نے منع کیا اس سے رک گئے یا انہوں
نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ،اس سنگین صورتِ حال کے باوجود لوگوں کی غفلت
کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کئے جانے سے اور قیامت کے دن پیش آنے والی عظیم
مصیبتوں اور شدید ہولناکیوں سے بے فکر ہیں اور اس کے لئے تیاری کرنے سے منہ پھیرے
ہوئے ہیں اورانہیں اپنے انجام کی کوئی پرواہ نہیں۔(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ /
۲۷۰-۲۷۱، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۰۹،
تفسیر طبری، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱،
۹ / ۳، ملتقطاً)
احمد رضا (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
قیامت
کا ثبوت:قال اللہ تبارک و تعالیٰ
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا
عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ-لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَثَقُلَتْ فِی
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةًؕ-یَسْــٴَـلُوْنَكَ
كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ
اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸۷)
ترجمہ
کنزالایمان:۔تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم
تو میرے رب کے پاس ہے اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں
او رزمین میں تم پر نہ آئے گی مگر اچانک تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب
تحقیق کر رکھا ہے تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں۔(
پ9،سورۃ الاعراف آیت نمبر: 187)
شان
نزول:حضرتِ عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہودیوں
نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں
تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی کیونکہ ہمیں اس کا وقت معلوم ہے۔ اس پر یہ
آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔
قیامت
کے احوال کا ثبوت قرآن کی روشنی میں:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ
اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ
نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)
ترجمہ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے
جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی
جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔ (پ30،سورۃ الانفطار آیت نمبر:1تا 5)
ان
آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے
نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے
جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے
انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں
کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم
ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔
محمد عامر (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اللہ
پاک نے قرآن مجید میں مختلف سورتوں اور آیات میں قیامت کے احوال بیان کئے ہے۔ قرآن
مجید میں قیامت کے دن کو یوم القیامہ، یوم الدین اور ساعت کے نام سے بھی پکارا گیا
ہے۔ یہ دن انسان کی زندگی کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ ہوگا، جہاں ہر فرد کو اپنے
اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
قیامت
کی علامات :
1. سورج
کا مغرب سے طلوع ہونا
2. دجال
کا ظہور
3. حضرت عیسیٰ
بن مریم کا نزول
4. یاجوج
اور ماجوج کا خروج
5. صور
پھونکا جانا
6. زمین و
آسمان کی تباہی
7. لوگوں
کا حشر نشر ہونا
8. اعمال
ناموں کی تقسیم
9. میزان
میں تولنا
10. پل
صراط عبور کرنا
(1)
زمین و آسمان کی حالت میں تبدیلی: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ
الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنزالایمان:جب زمین
تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے
۔(صراط الجنان جلد 10 پارہ 30 سورۃ زلزال)
ایک
اور مقام پر اللہ پاک نے زمین وآسمان کی حالت کے بارے میں ارشاد فرمایا: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱)
وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) ترجمہ
کنزالایمان:جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ (پارہ
30سورۃ التکویر)
(2)
قبروں سے انسانوں کا نکلنا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى
رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ(۵۱) ترجمہ کنزالایمان:اور پھونکا
جائے گا صورجبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے۔( پارہ 23 سُورۃ یٰس)
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ:
اور صور میں پھونک ماری جائے گی:اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے
کہ جس وقت مُردوں کو اٹھانے کے لئے دوسری مرتبہ صُورمیں پھونک ماری جائے گی تواسی
وقت وہ کفار زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل آئیں گے اوراپنے حقیقی رب عَزَّوَجَلَّ
کے اس مقام کی طرف دوڑتے چلے جائیں گے جوحساب اور جز ا کے لئے تیار کیا گیا ہو
گااور وہ کہیں گے :ہائے ہماری خرابی! کس نے ہمیں ہماری نیند سے جگادیا۔
مُحمّد یاسر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
قیامت
کی حقیقت اور ایمان بالآخرة کی اہمیت قرآن کریم میں بہت اہمیت کے ساتھ بیان کی گئی
ہے۔ قیامت کا دن ایک ایسا دن ہے جب تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا اور ان کے
اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
قرآنی
آیات میں قیامت کے مناظر:قرآن کریم میں قیامت کے منظر کویوں بیان کیا گیا ہے: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ
اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ
مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) ترجمۂ کنز العرفان :جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ
حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل
والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ
نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔ (پ17، الحج:2)
ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو
دیکھو گے تو یہ حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے
کو بھول جائے گی اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور
تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ
تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا
شدید ہے۔
قیامت
کے ذکر سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا حال:
بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ دونوں آیات غزوہ بنی مصطلق میں رات کے وقت نازل ہوئیں
اور نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے
سامنے ان کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے اور جب صبح ہوئی تو انہوں نے
اپنے جانوروں سے زینیں نہ اتاریں اور جس جگہ ٹھہرے وہاں خیمے نصب نہ کئے اور نہ ہی
ہانڈیاں پکائیں اور وہ غمزدہ، پُر نم اور فکر مند تھے۔
یہ ان ہستیوں کا حال ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے
بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے اور ان میں سے بعض کو دنیا میں ہی زبانِ رسالت سے جنت کی
بشارت مل چکی ہے تو ہمیں قیامت کی شدت،ہیبت،ہولناکی اور سختی سے تو کہیں زیادہ
ڈرنا چاہئے کیونکہ ہمارے ساتھ نہ تو کوئی ایسا وعدہ فرمایا گیا ہے جیسا صحابۂ کرام
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ فرمایا گیا اور نہ ہی دنیا میں ہمیں جنت کی
قطعی بشارت مل چکی ہے لیکن افسوس! فی زمانہ قیامت سے لوگوں کی غفلت انتہائی عروج
پر نظر آ رہی ہے اور نجانے کس امید پر وہ قیامت کے بارے میں بے فکر ہیں ۔ امام
محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اے مسکین! جس دن کی یہ
عظمت ہے وہ اس قدر بڑا ہے، حاکم زبردست اور زمانہ قریب ہے تو تواس دن کے لیے تیاری
کر لے جس دن تو دیکھے گا کہ آسمان پھٹ گئے، اس کے خوف سے ستارے جھڑگئے، روشن
ستاروں کی چمک ماند پڑگئی، سورج کی روشنی لپیٹ دی گئی، پہاڑ چلنے لگے، پانی لانے
والی اونٹنیاں کھلی پھرنے لگیں ، جنگلی جانور جمع ہوگئے، سمندر ابلنے لگے، روحیں بدنوں
سے جاملیں ،جہنم کی آگ بھڑکائی گئی، جنت قریب لائی گئی ، پہاڑ اڑائے گئے اور زمین
پھیلائی گئی اور جس دن تم دیکھو گے کہ زمین میں زلزلہ برپا ہوگا، زمین اپنے بوجھ
باہر نکال دے گی اور لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے تاکہ اپنے اَعمال (کابدلہ) دیکھیں
اور جس دن زمین اور پہاڑ اٹھا کر پٹخ دیئے جائیں گے، اس دن عظیم واقعہ رونما ہوگا
اور آسمان پھٹ جائیں گے حتّٰی کہ ان کی بنیادیں کمزور پڑجائیں گی ،فرشتے ان کے کناروں
پر ہوں گے اور اس دن تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے اٹھایا ہوگا،
اس دن تم سب کو پیش ہونا ہوگا اور تم سے کوئی بھی بات پوشیدہ نہ ہو گی ، جس دن
پہاڑ چلیں گے اور تم زمین کو کھلی ہوئی دیکھو گے ، جس دن زمین کانپے گی اور پہاڑ
ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے والی گَرد بن جائیں گے ، جس دن انسان بکھرے ہوئے پتنگوں کی
طرح ہوجائیں گے اور پہاڑ دُھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے، اس دن ہر
دودھ پلانے والی دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی اور ہر حمل والی کا حمل گر جائے
گا اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں
گے، لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہوگا۔
جس دن یہ زمین و آسمان دوسری زمین میں بدل جائیں
گے اور اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جس دن پہاڑ اڑا کر بکھیر دیئے
جائیں گے اور صاف زمین باقی رہ جائے گی، اس میں کوئی ٹیڑھا راستہ (موڑ وغیرہ) اور
ٹیلے نہیں ہوں گے ، جس دن تم پہاڑوں کو جمے ہوئے دیکھو گے حالانکہ وہ بادلوں کی
طرح چل رہے ہوں گے، جس دن آسمان پھٹ کر گلابی لال چمڑے کی طرح ہوجائیں گے اور اس
دن کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔ اس دن گناہ گار
کو بولنے سے روک دیا جائے گا اور نہ ہی اس کے جرموں کے بارے میں پوچھا جائے گا،
بلکہ پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے گرفت ہوگی ، جس دن ہر شخص اپنے اچھے عمل کو
سامنے پائے گا اور برے عمل کو بھی اور وہ چاہے گا کہ اس برے عمل اور اس (شخص) کے
درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہو۔ جس دن ہر نفس اس چیز کو جان لے گا جو وہ لایا ہوگا اور
جو آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا وہ سب حاضر ہوگا۔ جس دن زبانیں گُنگ ہوں گی اور باقی
اَعضاء بولیں گے، یہ وہ عظیم دن ہے جس کے ذکر نے نبی اکرم ﷺ کو
بوڑھا کردیا ۔ جب حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:
یا
رسولَ اللہ ! ﷺ ، آپ پر بڑھاپے کے آثار
ظاہر ہوگئے ہیں ،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے سورۃ ہود اور اس جیسی
دوسری سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔‘‘ اور وہ دوسری سورتیں سورۃواقعہ، سورۃ مرسلات،
سورۃعَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ
اوراِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ(وغیرہ)
ہیں ۔تو اے قرآن پڑھنے والے عاجز انسان! تیرا قرآن مجید پڑھنے سے صرف اتنا حصہ ہے
کہ تو اس کے ساتھ زبان کو حرکت دے دے ، اگر تو قرآن مجید میں جو کچھ پڑھتا ہے اس
میں غور و فکر کرتا تو اس لائق تھا کہ ان باتوں سے تیرا کلیجہ پھٹ جاتا جن باتوں نے
سرکارِ دو عالَم ﷺ کو بوڑھا کردیا تھا ،
اگر تم صرف زبان کی حرکت پر قناعت کرو گے تو قرآنِ مجید کے ثَمرے سے محروم رہو
گے۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح طریقے سے
قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے اور اس میں مذکور ڈرانے والی باتوں پر غوروفکر کرنے اور
عبرت و نصیحت حاصل کرنی کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
قیامت
کی حقیقت اور ایمان بالآخرة کی اہمیت قرآن کریم میں بہت اہمیت کے ساتھ بیان کی گئی
ہے۔ قیامت کی یاد انسان کو نیک عمل کرنے اور توبہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم قیامت کے دن کے بارے میں سوچیں اور اپنے اعمال کو درست کریں۔
محمد عبید رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
مجید میں قیامت کا ذکر نہایت تفصیل سے اور
بار بار کیا گیا ہے۔ یہ دن انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن دن ہے جسے یوم
القیامہ، یوم الحساب، یوم الدین، یوم الفصل، یوم الجمع، الطامۃ الکبریٰ، الصاخۃ،
القارعۃ وغیرہ جیسے مختلف ناموں سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے قیامت کے احوال
کو ایسی مؤثر اور بلیغ انداز میں پیش کیا ہے کہ پڑھنے والے کے دل میں خوفِ خدا اور
انجام کی فکر بیدار ہو جاتی ہے۔ ذیل میں ہم قرآنِ حکیم کی روشنی میں قیامت کے
مختلف احوال کا تذکرہ کرتے ہیں:
(1)
قیامت اچانک برپا ہوگی:قرآن
نے واضح فرمایا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہو گی اور لوگ اس کے آنے سے بے خبر ہوں گے:
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ
السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ-لَا یُجَلِّیْهَا
لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِی
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً-یَسْــٴَـلُوْنَكَ
كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَاقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ
اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸۷)
ترجمہ:
کنزالایمان:تم سے قیامت کو پُوچھتے ہیں کہ وہ کب کوٹھہری ہے(کب آئے گی) تم فرماؤ
اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے اُسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا بھاری پڑرہی ہے
آسمانوں اور زمین میں تم پر نہ آئے گی مگر اچانک تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے
اُسے خوب تحقیق کررکھا ہے تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت لوگ
جانتے نہیں(پ9،الاعراف،187)
(2)
کائنات کی تباہی: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ
بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ
کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے
جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا
اور جو پیچھے چھوڑا۔(پ30،الانفطار،1تا5)
(3)
انسان کا قبر سے اٹھایا جانا:قیامت
کے دن سب انسان اپنی قبروں سے زندہ کر کے میدانِ حشر میں جمع کیے جائیں گے:
یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ(۴۳)
خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ
كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠(۴۴)
ترجمہ:
کنزالعرفان:جس دن قبروں سے جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے گویا وہ نشانوں کی طرف لپک رہے
ہیں ۔ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چڑھ رہی ہوگی، یہ وہ دن ہے جس کا
ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
(4)
اعمال نامہ اور حساب:ہر
شخص کے سامنے اس کا اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا: وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ
مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ
صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا
حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠(۴۹)
ترجمہ:
کنزالایمان:اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے
سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نَوِشْتہ(تحریر) کو کیا ہوا نہ اس
نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے
پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔(پ15،الکہف،49)
اللہ
تبارک وتعالی ہمیں اپنی قبر و آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نصیر احمد (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ فیضان بغداد کورنگی
کراچی ، پاکستان)
قیامت
کا دن انتہائی سخت دن ہوگا قیامت کا دن بہت حیرت انگیز ہو گا قیامت کے دن لوگو ں
کے اعمال ترازو پر رکھے جائیں گے اور جس کا اعمال نامہ اچھا ہوگا وہ جنت میں داخل ہو
گا جس کا اعمال نامہ اچھا نہیں ہوگا وہ جہنم میں داخل ہوجائے گا ۔
قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا : سورۃ الانشقاق میں اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے۔ اِذَا السَّمَآءُ
انْشَقَّتْۙ(۱) جب آسمان پھٹ جائے گا،(سورۃ الانشقاق ،1)
سورۃ عبس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا: فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳)
یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ
صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب
آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور
باپ۔ اور جورو اور بیٹوں سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس
ہے۔
سورۃ
النازعات کی آیت نمبر 6 اور7 میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد
فرماتا ہے : یَوْمَ تَرْجُفُ
الرَّاجِفَةُۙ(۶) تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ(۷) ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تھر تھرائے گی
تھرتھرانے والی ۔ اُس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔
قیامت
کے دن زمین کا راز ظاہر ہونا ،سورۃ الزلزال میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب
زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔
اللہ
پاک ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ قیامت کے امتحان میں کامیابی عطا
فرمائے۔ آمین
قیامت
کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے، اور اس کا بیان مختلف انداز میں کیا گیا
ہے۔ قرآن میں قیامت کے دن کے شدید خوفناک ہونے اور ہولناک ہونے کی کیفیت کو بیان کیا
گیا ہے، تاکہ انسانوں کو بیدار کیا جا سکے اور انہیں اپنی آخرت کے لیے تیاری کرنے
کی ترغیب دی جا سکے۔
(1)
قیامت کا وقوع:قرآن میں
قیامت کے وقوع کو ایک اچانک، غیر متوقع واقعہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تم
اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی
اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ
ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔(پ17،الحج،2)
تفسیر صراط الجنان:یَوْمَ تَرَوْنَهَا:جس دن
تم اسے دیکھو گے: ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو دیکھو گے تو یہ
حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی
اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے
گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے
خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا شدید ہے۔( خازن،
الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۲۹۸)
(2) وَ اتَّقُوْا یَوْمًا
تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠(۲۸۱) ترجمہ کنزالعرفان:اور اس دن سے
ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر جان کو اس کی کمائی بھرپور دی
جائے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔
تفسیر: صراط
الجنانوَ اتَّقُوْا یَوْمًا:
اور اس دن سے ڈرو: اس آیت میں قیامت کے دن سے ڈرایا جارہا ہے کہ اس دن سے ڈرو جس
میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جائے گا اور اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، نہ بلاوجہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں اورنہ بدیاں
بڑھائی جائیں گی۔
(3) اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲)
وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ(۴) وَ اِذَا
الْوُحُوْشُ حُشِرَتْﭪ(۵) وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْﭪ(۶) وَ اِذَا النُّفُوْسُ
زُوِّجَتْﭪ(۷) وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸) بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ(۹)
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ(۱۰) وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْﭪ(۱۱) وَ اِذَا
الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْﭪ(۱۲) وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْﭪ(۱۳) عَلِمَتْ نَفْسٌ
مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ(۱۴)
ترجمہ:
کنزالعرفان:جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب پہاڑ چلائے
جائیں گے۔اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوٹی پھریں گی۔اور جب وحشی جانور جمع
کئے جائیں گے۔اور جب سمندر سلگائے جائیں گے۔اور جب جانوں کوجوڑا جائے گا ۔اور جب
زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیااور جب
نامۂ اعمال کھولے جائیں گے۔اور جب آسمان کھینچ لیا جائے گا۔اور جب جہنم بھڑکائی
جائے گی ۔اور جب جنت قریب لائی جائے گی ۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔(التکویر:1تا
14)
تفسیر:
صراط الجناناِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ:
جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔ اس سورت کی ابتدائی 14آیات میں 12چیزوں کو ذکر کیا گیا
ہے۔
(1)
جب سورج کے نور کوزائل کر دیا جائے گا ۔
(2)
جب ستارے جھڑکر بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گر پڑیں گے اور کوئی ستارہ اپنی جگہ
پر باقی نہ رہے گا۔
(3)
جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔
(4)
جب وہ اونٹنیاں جن کے حمل کو دس مہینے گذر چکے ہوں گے اور ان کا دودھ نکالنے کا
وقت قریب آگیا ہو گا، آزاد پھریں گی کہ ان کو نہ کوئی چرانے والا ہو گا اورنہ ان
کا کوئی نگراں ہو گا ، اس دن کی دہشت اور ہَولْناکی کا یہ عالَم ہو گا اور لوگ
اپنے حال میں ایسے مبتلا ہوں گے کہ ان اونٹنیوں کی پرواہ کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔
(5)
جب قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد وحشی جانور جمع کیے جائیں گے تاکہ وہ
ایک دوسرے سے بدلہ لیں ، پھر خاک کردیئے جائیں ۔
(6)
جب سمندر سلگائے جائیں گے،پھر وہ خاک ہو جائیں گے ۔
(7)
جب جانوں کے جوڑ بنیں گے۔ مفسرین نے اس کے مختلف معنی بیان کئے ہیں (1) نیک لوگ نیکوں
کے ساتھ اور برے لوگ بروں کے ساتھ کر دئیے جائیں گے۔ (2)جانیں اپنے جسموں کے ساتھ یا
اپنے عملوں کے ساتھ ملادی جائیں گی۔(3) ایمانداروں کی جانیں حوروں کے ساتھ اور
کافروں کی جانیں شَیاطِین کے ساتھ ملادی جائیں گی۔(4) روحیں اپنے جسموں کی طرف
لوٹا دی جائیں گی۔
(8)
جب نامۂ اعمال حساب کے لئے کھولے جائیں گے۔
(9)جب
آسمان اپنی جگہ سے ایسے کھینچ لیا جائے گا جیسے ذبح کی ہوئی بکری کے جسم سے کھال
کھینچ لی جاتی ہے۔
(10) جب جہنم کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے بھڑکایا جائے گا۔
(11)
اور جب جنت کو اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے قریب لایا جائے گا۔اس کے
بعد فرمایا کہ جب یہ 12چیزیں واقع ہوں گی تو اس وقت ہر جان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ
کون سی نیکی یا بدی اپنے ساتھ لے کر حاضر ہوئی ہے۔( خازن ، التکویر ، تحت الآیۃ :
۱-۱۴ ، ۴ / ۳۵۵- ۳۵۶، مدارک، تحت الآیۃ: ۱-۱۴، ص۱۳۲۴-۱۳۲۵، جلالین مع صاوی، التکویر، تحت
الآیۃ: ۱-۱۴، ۶ / ۲۳۱۹-۲۳۲۱، ملتقطاً)
قیامت
کے ذکر سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا حال:
بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ دونوں آیات غزوہ بنی مصطلق میں رات کے وقت نازل ہوئیں
اور نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے
سامنے ان کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے اور جب صبح ہوئی تو انہوں نے
اپنے جانوروں سے زینیں نہ اتاریں اور جس جگہ ٹھہرے وہاں خیمے نصب نہ کئے اور نہ ہی
ہانڈیاں پکائیں اور وہ غمزدہ، پُر نم اور فکر مند تھے۔( روح البیان، الحج، تحت
الآیۃ: ۲، ۶ / ۳)
یہ ان ہستیوں کا حال ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے
بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے اور ان میں سے بعض کو دنیا میں ہی زبانِ رسالت سے جنت کی
بشارت مل چکی ہے تو ہمیں قیامت کی شدت،ہیبت،ہولناکی اور سختی سے تو کہیں زیادہ
ڈرنا چاہئے کیونکہ ہمارے ساتھ نہ تو کوئی ایسا وعدہ فرمایا گیا ہے جیسا صحابۂ
کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ فرمایا گیا اور نہ ہی دنیا میں ہمیں جنت
کی قطعی بشارت مل چکی ہے لیکن افسوس! فی زمانہ قیامت سے لوگوں کی غفلت انتہائی
عروج پر نظر آ رہی ہے اور نجانے کس امید پر وہ قیامت کے بارے میں بے فکر ہیں ۔
امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اے مسکین! جس دن کی
یہ عظمت ہے وہ اس قدر بڑا ہے، حاکم زبردست اور زمانہ قریب ہے تو تواس دن کے لیے تیاری
کر لے جس دن تو دیکھے گا کہ آسمان پھٹ گئے، اس کے خوف سے ستارے جھڑگئے، روشن
ستاروں کی چمک ماند پڑگئی، سورج کی روشنی لپیٹ دی گئی، پہاڑ چلنے لگے، پانی لانے
والی اونٹنیاں کھلی پھرنے لگیں ، جنگلی جانور جمع ہوگئے، سمندر ابلنے لگے، روحیں بدنوں
سے جاملیں ،جہنم کی آگ بھڑکائی گئی، جنت قریب لائی گئی ، پہاڑ اڑائے گئے اور زمین
پھیلائی گئی اور جس دن تم دیکھو گے کہ زمین میں زلزلہ برپا ہوگا، زمین اپنے بوجھ
باہر نکال دے گی اور لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے تاکہ اپنے اَعمال (کابدلہ) دیکھیں
اور جس دن زمین اور پہاڑ اٹھا کر پٹخ دیئے جائیں گے، اس دن عظیم واقعہ رونما ہوگا
اور آسمان پھٹ جائیں گے حتّٰی کہ ان کی بنیادیں کمزور پڑجائیں گی ،فرشتے ان کے کناروں
پر ہوں گے اور اس دن تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے اٹھایا ہوگا،
اس دن تم سب کو پیش ہونا ہوگا اور تم سے کوئی بھی بات پوشیدہ نہ ہو گی ، جس دن
پہاڑ چلیں گے اور تم زمین کو کھلی ہوئی دیکھو گے ، جس دن زمین کانپے گی اور پہاڑ
ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے والی گَرد بن جائیں گے ، جس دن انسان بکھرے ہوئے پتنگوں کی
طرح ہوجائیں گے اور پہاڑ دُھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے، اس دن ہر
دودھ پلانے والی دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی اور ہر حمل والی کا حمل گر جائے
گا اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں
گے، لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہوگا۔
جس دن یہ زمین و آسمان دوسری زمین میں بدل جائیں
گے اور اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جس دن پہاڑ اڑا کر بکھیر دیئے
جائیں گے اور صاف زمین باقی رہ جائے گی، اس میں کوئی ٹیڑھا راستہ (موڑ وغیرہ) اور
ٹیلے نہیں ہوں گے ، جس دن تم پہاڑوں کو جمے ہوئے دیکھو گے حالانکہ وہ بادلوں کی
طرح چل رہے ہوں گے، جس دن آسمان پھٹ کر گلابی لال چمڑے کی طرح ہوجائیں گے اور اس
دن کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔
اس
دن گناہ گار کو بولنے سے روک دیا جائے گا اور نہ ہی اس کے جرموں کے بارے میں پوچھا
جائے گا، بلکہ پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے گرفت ہوگی ، جس دن ہر شخص اپنے اچھے
عمل کو سامنے پائے گا اور برے عمل کو بھی اور وہ چاہے گا کہ اس برے عمل اور اس
(شخص) کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہو۔ جس دن ہر نفس اس چیز کو جان لے گا جو وہ لایا
ہوگا اور جو آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا وہ سب حاضر ہوگا۔ جس دن زبانیں گُنگ ہوں گی
اور باقی اَعضاء بولیں گے، یہ وہ عظیم دن ہے جس کے ذکر نے نبی اکرم ﷺ کو
بوڑھا کردیا ۔ جب حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:یا رسولَ اللہ
! ﷺ ، آپ پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوگئے ہیں
،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے سورۃٔ ہود اور اس جیسی
دوسری سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔‘‘ اور وہ دوسری سورتیں سورۃٔ واقعہ، سورۃٔ
مرسلات، سورۃٔ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ
اوراِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ(وغیرہ)
ہیں ۔تو اے قرآن پڑھنے والے عاجز انسان! تیرا قرآن مجید پڑھنے سے صرف اتنا حصہ ہے
کہ تو اس کے ساتھ زبان کو حرکت دے دے ، اگر تو قرآن مجید میں جو کچھ پڑھتا ہے اس
میں غور و فکر کرتا تو اس لائق تھا کہ ان باتوں سے تیرا کلیجہ پھٹ جاتا جن باتوں نے
سرکارِ دو عالَم ﷺ کو بوڑھا کردیا تھا ،
اگر تم صرف زبان کی حرکت پر قناعت کرو گے تو قرآنِ مجید کے ثَمرے سے محروم رہو
گے۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الشطر الثانی، صفۃ یوم القیامۃ
ودواہیہ واسامیہ، ۵ / ۲۷۴-۲۷۵)
اللہ
تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح طریقے سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے اور اس میں مذکور
ڈرانے والی باتوں پر غوروفکر کرنے اور عبرت و نصیحت حاصل کرنی کی توفیق عطا
فرمائے،اٰمین۔
احمد رضا بن شباب خان ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
قیامت
کا دن انسان کے لیے سب سے بڑی حقیقت ہے جس سے کوئی مفر نہیں۔ قرآن مجید میں بار
بار اس دن کا ذکر کر کے انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ غفلت نہ کرے۔ دنیا کی رنگینیاں،
مال و دولت اور طاقت سب مٹ جائیں گے، صرف اعمال باقی رہیں گے۔ اس دن کی تیاری کے
بغیر زندگی گزارنا ایسے ہے جیسے کوئی مسافر بغیر زادِ راہ کے صحرا میں نکل پڑے۔
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب آئے
گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ۔ (پ30،سورۃ
عبس: 33)
یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ
الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنزالایمان: جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے اور پہاڑ ہوں گے جیسے دھنکی (دھنی ہوئی)اون۔ (پ30، سورۃ القارعۃ: 4-5)
قیامت
کے مناظر اور سبق:قیامت کی ہولناک چیخ انسان کے کان پھاڑ دے گی۔ لوگ بکھری
ہوئی مکھیوں کی طرح
بھاگیں گے اور پہاڑ روئی کی طرح ہو جائیں گے۔
سبق یہ ہے کہ انسان اپنی طاقت یا دولت پر غرور نہ کرے کیونکہ ایک آواز میں سب کچھ
ختم ہو جائے گا۔
قیامت
ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل حقیقت دنیا کی نہیں، بلکہ آخرت کی ہے۔ عقل مند وہی ہے
جو دنیا کو عارضی اور آخرت کو دائمی سمجھ کر زندگی گزارے۔ ہمیں چاہیے کہ آج ہی سے
نیک اعمال کی فکر کریں، گناہوں سے بچیں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں تاکہ اس دن کامیابی
حاصل ہو ۔
Dawateislami