محمد عثمان ( دورہ حدیث مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
قیامت
کا عقیدہ ضروریات دین میں سے ہےاور اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ قیامت کا انکار
کرنے والا کافر ہے۔(الشفاء ،فصل فی بیان ما ھوا من المقالات ،جلد2،صفحہ290)
جیسے
ہر شے کی ایک عمر مقرر ہے اس کے پورا ہونے کے بعد وہ فنا ہو جاتی ہے ۔ایسے ہی دنیا
کی بھی ایک عمر اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر ہے۔اس کے پورا ہونے کے بعد دنیا فنا
ہو جائے گی ۔زمین و آسمان ،آدمی ،جانور کوئی بھی باقی نہیں رہے گا اس کو" قیامت"کہتے
ہیں جیسے آدمی کے مرنے سے پہلے بیماری کی شدت،جان نکلنے کی علامت ظاہر ہوتی ہے ۔ آئیے!
قیامت کے چند قرآنی احوال پڑھیے اور نصیحت حاصل کیجئے ۔
آسمانوں کا پھٹ جانا: بروز قیامت
آسمان اپنے پھٹنے کے بارے میں اپنے رب عزوجل کا حکم سنے گا اور اپنے رب عزوجل کے
حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پھٹ جائے گا اور اس کےلیے یہی لائق ہے کہ اپنے رب عزوجل کے
حکم کی تعمیل کرے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) ترجمہ کنزالایمان:جب آسمان شق
ہو ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔ (پارہ30،الانشقاق،آیت:1تا2)
زمین کا ہموار ہونا: بروز قیامت
زمین کو ہموار کرکے سیدھا کردیا جائے گا اور زمین پر کوئی بھی عمارت باقی نہ رہے گی
۔اور زمین اپنے اندر موجود خزانے اور مردوں کو باہر پھینک دے گی۔جیسا کہ قرآن مجید
میں ہے:
وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) ترجمہ کنزالایمان:اور جب زمین
دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔ (پارہ30،الانشقاق،آیت:3تا4)
جانوروں کا زندہ ہونا: قیامت
کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد وحشی جانور جمع کیے جائیں گے تاکہ وہ ایک دوسرے
سے بدلہ لیں ، پھر خاک کردیئے جائیں ۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: وَ اِذَا الْوُحُوْشُ
حُشِرَتْﭪ(۵) ترجمہ کنزالایمان:اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں۔ (پارہ30،التکویر،آیت:5)
اللہ
تعالیٰ ہمیں احوالِ قیامت کی حقیقت کو سمجھنے اور اپنی آخرت کی فکر کرتے ہوئے نیکی
کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ
واصحابہ وبارک وسلم
Dawateislami