احمد رضا (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
قیامت
کا ثبوت:قال اللہ تبارک و تعالیٰ
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا
عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ-لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَثَقُلَتْ فِی
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةًؕ-یَسْــٴَـلُوْنَكَ
كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ
اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸۷)
ترجمہ
کنزالایمان:۔تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم
تو میرے رب کے پاس ہے اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں
او رزمین میں تم پر نہ آئے گی مگر اچانک تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب
تحقیق کر رکھا ہے تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں۔(
پ9،سورۃ الاعراف آیت نمبر: 187)
شان
نزول:حضرتِ عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہودیوں
نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں
تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی کیونکہ ہمیں اس کا وقت معلوم ہے۔ اس پر یہ
آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔
قیامت
کے احوال کا ثبوت قرآن کی روشنی میں:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ
اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ
نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)
ترجمہ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے
جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی
جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔ (پ30،سورۃ الانفطار آیت نمبر:1تا 5)
ان
آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے
نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے
جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے
انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں
کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم
ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔
Dawateislami