وقوع قیامت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور قیامت کا دن حق ہے، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارا ایمان ہے کہ انسان و حیوان، زمین و آسمان سمیت سارا جہاں اور اس کائنات کی ہر چیز ایک دن فنا ہو جائے گی، صرف اللہ پاک کی ذات باقی رہے گی، اس کو قیامت کہتے ہیں، قیامت کا دن بہت وحشت والا اور ہولناک ہوگا۔اس کی ہولناکیوں کے متعلق قرآن وحدیث میں بہت سی آیات اور احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں ۔

آئیے چند آیات مبارکہ پڑھتے ہیں جن میں قیامت کی ہولناکیوں کے متعلق بیان کیا گیا ہے:

(1)زمین کا شدید زلزلے سے تھرتھرانا : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔ (سورۃ زلزال آیت نمبر 1 پارہ 30)

اس آیت مبارکہ میں قیامت کی ایک ہولناک منظر کو بیان کیا ہے کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: 1، 4 / 400)

قیامت کا زلزلہ کتنا ہَولْناک ہے اس کے بارے میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔

(سورۃحج آیت نمبر 1،2 پارہ 17)

(2)آسمان کا پھٹ جانا ،ستاروں کا جھڑنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(سورۃ انفطار آیت نمبر ،1،2،3،4،5 پارہ 30)

ان آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: 1-5، 10 / 355-354 خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: 1-5، 4 / 358 ملتقطاً)

(3)سورج اور چاند کا مل جانا: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔ ( سورۃقیامہ آیت نمبر 7،8،9 پارہ 29)

ان آیات مبارکہ میں قیامت کی تین ہولناکیاں بیان فرمائی ہیں ۔

(1)اس دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زدہ ہوجائے گی۔

(2)چاندکی روشنی زائل ہوجائے گی جس سے وہ تاریک ہو جائے گا۔

(3) سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔ یہ ملا دینا طلوع ہونے میں ہوگا کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے یا بے نور ہونے میں ہو گا کہ دونوں کی روشنی ختم ہوجائے گی۔( تفسیرکبیر،القیامۃ،تحت الآیۃ:7-9،10 / 723-724، روح البیان،القیامۃ،تحت الآیۃ:7-10،9 / 245-246،ملتقطاً)

(4)پہاڑوں کا دھنکی اون کی مانند ہوجانا: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون ۔ (القارعۃ: 5)

اس آیت مبارکہ میں دل دہلا دینے والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے بلند و بالا اور مضبوط ترین پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح رنگ برنگی اُون کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں تو ا س وقت کمزور انسان کا حال کیا ہو گا!( خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: 5، 4 / 403، روح البیان، القارعۃ، تحت الآیۃ: 5 ،10 / 500، ملتقطاً)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا آیات میں ہم نے قیامت کی ہولناکیوں کے بارے میں پڑھا۔یقینا ہمارا ایمان ہے کہ قیامت ایک نہ ایک دن ضرور آئے گی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اعمال اور احوال میں ایسی تبدیلی لائیں جو ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے بچا سکے۔

حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علی ہ ارشاد فرماتے ہیں: جو دنیا میں رہ کر قیامت کے بارے میں زیادہ غور و فکر کرے گا، وہ اُن ہولناکیوں سے زیادہ محفوظ رہے گا۔ بے شک اللہ کریم بندے پر 2 خوف جمع نہیں فرماتا، لہذا جو دنیا میں ان ہولناکیوں کا خوف رکھے گا وہ آخرت میں ان سے محفوظ رہے گا۔ خوف سے مراد عورتوں کی طرح رونا دھونا نہیں کہ آنکھیں آنسو بہائیں اور سنتے وقت دل نرم ہو جائے، پھر تم اُسے بھول کر اپنے کھیل کود میں مشغول ہو جاؤ۔ اس حالت کو خوف سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ جو شخص جس چیز کا خوف رکھتا ہے اُس سے بھاگتا ہے اور جس چیز کی اُمید رکھتا ہے اُس کو طلب کرتا ہے۔ لہذا تمہیں وہی خوف نجات دے گا جو اللہ کریم کی نافرمانی سے روکے اور اُس کی عبادت و فرمانبرداری پر ابھارے۔(احياء العلوم، كتاب ذكر الموت ... الخ 284/5-287)آمین بجاہ خاتم النبین۔

محمد عزیز عطاری جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)

قرآنِ مجید انسان کو اس کی تخلیق کے مقصد، دنیا کی فانی حیثیت اور آخرت کی ابدی زندگی کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ قرآن کا ایک بڑا موضوع احوالہ قیامت یعنی قیامت کا دن ہے، جو کہ جزا و سزا کا دن، حق و باطل کا فیصلہ کن وقت، اور ہر انسان کے اعمال کے محاسبے کا وقت ہو گا۔

(1) زمین کی ہولناک لرزش : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنز الایمان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھر تھر انا ٹھہرا ہے (سورۃ الزلزال آیت نمبر 1،2)

(2) قیامت کی ہولنا کی: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان: دل دہلانے والی۔کیا وہ دہلانے والی ۔اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون۔(سورۃ القارعہ آیت نمبر 1،5)

(3) آسمان و زمین کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں ہے ڈال دے اور خالی ہو جائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔ (سورۃ انشقاق آیت نمبر 1تا 5،تفسیر صراطِ الجنان مکتبہ المدینہ)