قیامت، جسے یومِ حشر، یومِ حساب اور یومِ الدین بھی کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن واقعہ ہے. قرآنِ کریم میں اس کا ذکر بار بار اور مختلف پہلوؤں سے کیا گیا ہے، تاکہ انسان اس کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال سکیں. قرآن میں قیامت کے جو احوال بیان کیے گئے ہیں، وہ صرف ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے، انہیں انصاف، عدل اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے ہیں۔

(1)صور کا پھونکنا : فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ (۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔ (سورۃ عبس آیات 33,34,35,36,37,)

(2) آسمان کا شق ہونا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔ (سورۃ انشقاق آیات1,2,3,4,5)

(3) مصیبت کی خبر: هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی۔(سورۃ غاشیہ آیت 1)