محمد عزیز عطاری جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
قرآنِ
مجید انسان کو اس کی تخلیق کے مقصد، دنیا کی فانی حیثیت اور آخرت کی ابدی زندگی کی
طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ قرآن کا ایک بڑا موضوع احوالہ قیامت یعنی قیامت کا دن
ہے، جو کہ جزا و سزا کا دن، حق و باطل کا فیصلہ کن وقت، اور ہر انسان کے اعمال کے
محاسبے کا وقت ہو گا۔
(1)
زمین کی ہولناک لرزش : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنز الایمان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک
دے جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھر تھر انا ٹھہرا ہے (سورۃ الزلزال آیت
نمبر 1،2)
(2)
قیامت کی ہولنا کی: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ
اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ
الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان: دل دہلانے والی۔کیا وہ
دہلانے والی ۔اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے
پتنگے اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون۔(سورۃ القارعہ آیت نمبر 1،5)
(3)
آسمان و زمین کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱)
وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ
اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ
اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب
کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں
ہے ڈال دے اور خالی ہو جائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔ (سورۃ
انشقاق آیت نمبر 1تا 5،تفسیر صراطِ الجنان مکتبہ المدینہ)
Dawateislami