اللہ پاک نے قرآن مجید میں مختلف سورتوں اور آیات میں قیامت کے احوال بیان کئے ہے۔ قرآن مجید میں قیامت کے دن کو یوم القیامہ، یوم الدین اور ساعت کے نام سے بھی پکارا گیا ہے۔ یہ دن انسان کی زندگی کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ ہوگا، جہاں ہر فرد کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔

قیامت کی علامات :

1. سورج کا مغرب سے طلوع ہونا

2. دجال کا ظہور

3. حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول

4. یاجوج اور ماجوج کا خروج

5. صور پھونکا جانا

6. زمین و آسمان کی تباہی

7. لوگوں کا حشر نشر ہونا

8. اعمال ناموں کی تقسیم

9. میزان میں تولنا

10. پل صراط عبور کرنا

(1) زمین و آسمان کی حالت میں تبدیلی: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنزالایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔(صراط الجنان جلد 10 پارہ 30 سورۃ زلزال)

ایک اور مقام پر اللہ پاک نے زمین وآسمان کی حالت کے بارے میں ارشاد فرمایا: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) ترجمہ کنزالایمان:جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ (پارہ 30سورۃ التکویر)

(2) قبروں سے انسانوں کا نکلنا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ(۵۱) ترجمہ کنزالایمان:اور پھونکا جائے گا صورجبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے۔( پارہ 23 سُورۃ یٰس)

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ: اور صور میں پھونک ماری جائے گی:اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس وقت مُردوں کو اٹھانے کے لئے دوسری مرتبہ صُورمیں پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ کفار زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل آئیں گے اوراپنے حقیقی رب عَزَّوَجَلَّ کے اس مقام کی طرف دوڑتے چلے جائیں گے جوحساب اور جز ا کے لئے تیار کیا گیا ہو گااور وہ کہیں گے :ہائے ہماری خرابی! کس نے ہمیں ہماری نیند سے جگادیا۔