قیامت کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے، اور اس کا بیان مختلف انداز میں کیا گیا ہے۔ قرآن میں قیامت کے دن کے شدید خوفناک ہونے اور ہولناک ہونے کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے، تاکہ انسانوں کو بیدار کیا جا سکے اور انہیں اپنی آخرت کے لیے تیاری کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔

(1) قیامت کا وقوع:قرآن میں قیامت کے وقوع کو ایک اچانک، غیر متوقع واقعہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔(پ17،الحج،2)

تفسیر صراط الجنان:یَوْمَ تَرَوْنَهَا:جس دن تم اسے دیکھو گے: ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو دیکھو گے تو یہ حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا شدید ہے۔( خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۲۹۸)

(2) وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠(۲۸۱) ترجمہ کنزالعرفان:اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر جان کو اس کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

تفسیر: صراط الجنانوَ اتَّقُوْا یَوْمًا: اور اس دن سے ڈرو: اس آیت میں قیامت کے دن سے ڈرایا جارہا ہے کہ اس دن سے ڈرو جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جائے گا اور اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، نہ بلاوجہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں اورنہ بدیاں بڑھائی جائیں گی۔

(3) اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ(۴) وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْﭪ(۵) وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْﭪ(۶) وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْﭪ(۷) وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸) بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ(۹) وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ(۱۰) وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْﭪ(۱۱) وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْﭪ(۱۲) وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْﭪ(۱۳) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ(۱۴)

ترجمہ: کنزالعرفان:جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوٹی پھریں گی۔اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں گے۔اور جب سمندر سلگائے جائیں گے۔اور جب جانوں کوجوڑا جائے گا ۔اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیااور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں گے۔اور جب آسمان کھینچ لیا جائے گا۔اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی ۔اور جب جنت قریب لائی جائے گی ۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔(التکویر:1تا 14)

تفسیر: صراط الجناناِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ: جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔ اس سورت کی ابتدائی 14آیات میں 12چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے۔

(1) جب سورج کے نور کوزائل کر دیا جائے گا ۔

(2) جب ستارے جھڑکر بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گر پڑیں گے اور کوئی ستارہ اپنی جگہ پر باقی نہ رہے گا۔

(3) جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔

(4) جب وہ اونٹنیاں جن کے حمل کو دس مہینے گذر چکے ہوں گے اور ان کا دودھ نکالنے کا وقت قریب آگیا ہو گا، آزاد پھریں گی کہ ان کو نہ کوئی چرانے والا ہو گا اورنہ ان کا کوئی نگراں ہو گا ، اس دن کی دہشت اور ہَولْناکی کا یہ عالَم ہو گا اور لوگ اپنے حال میں ایسے مبتلا ہوں گے کہ ان اونٹنیوں کی پرواہ کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔

(5) جب قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد وحشی جانور جمع کیے جائیں گے تاکہ وہ ایک دوسرے سے بدلہ لیں ، پھر خاک کردیئے جائیں ۔

(6) جب سمندر سلگائے جائیں گے،پھر وہ خاک ہو جائیں گے ۔

(7) جب جانوں کے جوڑ بنیں گے۔ مفسرین نے اس کے مختلف معنی بیان کئے ہیں (1) نیک لوگ نیکوں کے ساتھ اور برے لوگ بروں کے ساتھ کر دئیے جائیں گے۔ (2)جانیں اپنے جسموں کے ساتھ یا اپنے عملوں کے ساتھ ملادی جائیں گی۔(3) ایمانداروں کی جانیں حوروں کے ساتھ اور کافروں کی جانیں شَیاطِین کے ساتھ ملادی جائیں گی۔(4) روحیں اپنے جسموں کی طرف لوٹا دی جائیں گی۔

(8) جب نامۂ اعمال حساب کے لئے کھولے جائیں گے۔

(9)جب آسمان اپنی جگہ سے ایسے کھینچ لیا جائے گا جیسے ذبح کی ہوئی بکری کے جسم سے کھال کھینچ لی جاتی ہے۔

(10) جب جہنم کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے بھڑکایا جائے گا۔

(11) اور جب جنت کو اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے قریب لایا جائے گا۔اس کے بعد فرمایا کہ جب یہ 12چیزیں واقع ہوں گی تو اس وقت ہر جان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون سی نیکی یا بدی اپنے ساتھ لے کر حاضر ہوئی ہے۔( خازن ، التکویر ، تحت الآیۃ : ۱-۱۴ ، ۴ / ۳۵۵- ۳۵۶، مدارک، تحت الآیۃ: ۱-۱۴، ص۱۳۲۴-۱۳۲۵، جلالین مع صاوی، التکویر، تحت الآیۃ: ۱-۱۴، ۶ / ۲۳۱۹-۲۳۲۱، ملتقطاً)

قیامت کے ذکر سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا حال: بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ دونوں آیات غزوہ بنی مصطلق میں رات کے وقت نازل ہوئیں اور نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے اور جب صبح ہوئی تو انہوں نے اپنے جانوروں سے زینیں نہ اتاریں اور جس جگہ ٹھہرے وہاں خیمے نصب نہ کئے اور نہ ہی ہانڈیاں پکائیں اور وہ غمزدہ، پُر نم اور فکر مند تھے۔( روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۶ / ۳)

یہ ان ہستیوں کا حال ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے اور ان میں سے بعض کو دنیا میں ہی زبانِ رسالت سے جنت کی بشارت مل چکی ہے تو ہمیں قیامت کی شدت،ہیبت،ہولناکی اور سختی سے تو کہیں زیادہ ڈرنا چاہئے کیونکہ ہمارے ساتھ نہ تو کوئی ایسا وعدہ فرمایا گیا ہے جیسا صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ فرمایا گیا اور نہ ہی دنیا میں ہمیں جنت کی قطعی بشارت مل چکی ہے لیکن افسوس! فی زمانہ قیامت سے لوگوں کی غفلت انتہائی عروج پر نظر آ رہی ہے اور نجانے کس امید پر وہ قیامت کے بارے میں بے فکر ہیں ۔ امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اے مسکین! جس دن کی یہ عظمت ہے وہ اس قدر بڑا ہے، حاکم زبردست اور زمانہ قریب ہے تو تواس دن کے لیے تیاری کر لے جس دن تو دیکھے گا کہ آسمان پھٹ گئے، اس کے خوف سے ستارے جھڑگئے، روشن ستاروں کی چمک ماند پڑگئی، سورج کی روشنی لپیٹ دی گئی، پہاڑ چلنے لگے، پانی لانے والی اونٹنیاں کھلی پھرنے لگیں ، جنگلی جانور جمع ہوگئے، سمندر ابلنے لگے، روحیں بدنوں سے جاملیں ،جہنم کی آگ بھڑکائی گئی، جنت قریب لائی گئی ، پہاڑ اڑائے گئے اور زمین پھیلائی گئی اور جس دن تم دیکھو گے کہ زمین میں زلزلہ برپا ہوگا، زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی اور لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے تاکہ اپنے اَعمال (کابدلہ) دیکھیں اور جس دن زمین اور پہاڑ اٹھا کر پٹخ دیئے جائیں گے، اس دن عظیم واقعہ رونما ہوگا اور آسمان پھٹ جائیں گے حتّٰی کہ ان کی بنیادیں کمزور پڑجائیں گی ،فرشتے ان کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے اٹھایا ہوگا، اس دن تم سب کو پیش ہونا ہوگا اور تم سے کوئی بھی بات پوشیدہ نہ ہو گی ، جس دن پہاڑ چلیں گے اور تم زمین کو کھلی ہوئی دیکھو گے ، جس دن زمین کانپے گی اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے والی گَرد بن جائیں گے ، جس دن انسان بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوجائیں گے اور پہاڑ دُھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے، اس دن ہر دودھ پلانے والی دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی اور ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں گے، لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہوگا۔

جس دن یہ زمین و آسمان دوسری زمین میں بدل جائیں گے اور اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جس دن پہاڑ اڑا کر بکھیر دیئے جائیں گے اور صاف زمین باقی رہ جائے گی، اس میں کوئی ٹیڑھا راستہ (موڑ وغیرہ) اور ٹیلے نہیں ہوں گے ، جس دن تم پہاڑوں کو جمے ہوئے دیکھو گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے، جس دن آسمان پھٹ کر گلابی لال چمڑے کی طرح ہوجائیں گے اور اس دن کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔

اس دن گناہ گار کو بولنے سے روک دیا جائے گا اور نہ ہی اس کے جرموں کے بارے میں پوچھا جائے گا، بلکہ پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے گرفت ہوگی ، جس دن ہر شخص اپنے اچھے عمل کو سامنے پائے گا اور برے عمل کو بھی اور وہ چاہے گا کہ اس برے عمل اور اس (شخص) کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہو۔ جس دن ہر نفس اس چیز کو جان لے گا جو وہ لایا ہوگا اور جو آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا وہ سب حاضر ہوگا۔ جس دن زبانیں گُنگ ہوں گی اور باقی اَعضاء بولیں گے، یہ وہ عظیم دن ہے جس کے ذکر نے نبی اکرم ﷺ کو بوڑھا کردیا ۔ جب حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:یا رسولَ اللہ ! ﷺ ، آپ پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوگئے ہیں ،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے سورۃٔ ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔‘‘ اور وہ دوسری سورتیں سورۃٔ واقعہ، سورۃٔ مرسلات، سورۃٔ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ اوراِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ(وغیرہ) ہیں ۔تو اے قرآن پڑھنے والے عاجز انسان! تیرا قرآن مجید پڑھنے سے صرف اتنا حصہ ہے کہ تو اس کے ساتھ زبان کو حرکت دے دے ، اگر تو قرآن مجید میں جو کچھ پڑھتا ہے اس میں غور و فکر کرتا تو اس لائق تھا کہ ان باتوں سے تیرا کلیجہ پھٹ جاتا جن باتوں نے سرکارِ دو عالَم ﷺ کو بوڑھا کردیا تھا ، اگر تم صرف زبان کی حرکت پر قناعت کرو گے تو قرآنِ مجید کے ثَمرے سے محروم رہو گے۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الشطر الثانی، صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ، ۵ / ۲۷۴-۲۷۵)

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح طریقے سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے اور اس میں مذکور ڈرانے والی باتوں پر غوروفکر کرنے اور عبرت و نصیحت حاصل کرنی کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔