جیسے
ہر چیز کی ایک عمر مقرر ہے اس کے پورے ہونے کے بعد وہ چیز فنا ہو جاتی ہے ایسے ہی
دنیا کی بھی ایک عمر اللہ کریم کے علم میں مقرر ہے اس کے پورا ہونے کے بعد دنیا
فنا ہو جائے گی زمین و آسمان آدمی جانور کوئی بھی باقی نہ رہے گا اس کو قیامت کہتے
ہیں (حوالہ کتاب فرض علوم سیکھیے صفحہ 121)
وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی
الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ (۸۷)
ترجمۂ
کنز العرفان ؛اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین
میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے
حاضر ہوں گے۔ (النمل: 87)
فرمایا کہ اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا۔ یعنی
جس دن باذن اللہ حضرت اسرائیل علیہ السلام صور میں پونکیں گے تو اس کی آواز سن کر
زمین و آسمان کے تمام جاندار خوف زدہ ہو جائیں گے اور اسی خوف کی وجہ سے مر جائیں
گے، مگر وہ جنہیں اللہ چاہے یعنی جنہیں اللہ تعالی چاہے گا اور جن کے دل کو اللہ
تعالی سکون عطا فرمائے گا انہیں یہ گھبر بہت نہ ہو گی اور صور پھو کتنے کے بعد سب
لوگ حساب کی جگہ میں اللہ تعالی کے حضور عاجزی سے حاضر ہو جائیں گے۔(حوالہ مدارک،
النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۸۵۷، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳ / ۴۲۱، ملتقطاً)
جب
دوسری بار صور پھونکا جائے گا
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴)
وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ (۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ
مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمہ
کنز العرفان:پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے
بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر
شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی ۔ (عبس:33تا
37)
آیت
کا خلاصہ یہ ہے کہ جب دوسری بار صور پھونکنے کی کان پھاڑدینے والی آواز آئے گی
تو اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں ، اپنے باپ ،اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے
بھاگے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ نہیں کرے گا تاکہ ان میں کوئی اپنے حقوق
کا مطالبہ نہ کر لے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے
دوسروں سے لاپرواہ کردے گی۔(تفسیر صراط الجنان سورۃ العبس)
قیامت کے مناظر اور قیامت قائم ہونے کے وقت
آسمان،زمین اور انسانوں کا حال وغیرہ ۔
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ
اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ
اَخْبَارَهَاۙ(۴) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ(۵) یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ
النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶)
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ
مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)
ترجمہ
کنز العرفان:جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے ۔اور زمین
اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔اور آدمی کہے گا:اسے کیا ہوااس دن وہ اپنی خبریں بتائے
گی۔اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے
تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے
گا۔اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔(الزلزال،1تا8)
اس
سورت میں قیامت قائم ہوتے وقت کی چند علامات بیان کرنے کے بعد بتایا گیا کہ قیامت
کے دن زمین اللہ تعالی کے حکم سے مخلوق کا وہ سب کچھ بیان کر دے گی جو اس پر انہوں
نے کیا ہو گا۔ یہ بتایا گیا کہ قیامت کے دن لوگ مختلف حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ
میں حاضر ہوں گے اور جس نے ذرہ بھر نیکی یا گناہ کیا ہو گا تو وہ اسے دیکھے گا۔
آیت
1 ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھر تھرادی جائے گی اور زمین پر کوئی
درخت، کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ
پھوٹ جائے گی۔ زمین کا یہ تھر تھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت
کے دن زمین تھر تھرائے گی۔
آیت
2 فرمایا کہ جب زمین اپنے اندر موجود خزانے اور مردے سب نکال کر باہر پھینک دے گی۔
اہم بات: انسانوں اور جنات کو ثقلین کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مردہ ہوں یا زندہ زمین
ان کا بوجھ اٹھاتی ہے۔
آیت
3 اس زلزلے کے وقت جو لوگ موجود ہوں گے وہ حیرت سے کہیں گے : زمین کو کیا ہو ا کہ
ایسی مضطرب ہوئی اور اتنا شدید زلزلہ آیا کہ جو کچھ اس کے اندر تھا اس نے سب باہر
پھینک دیا۔
آیت
5،4 ان دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب یہ امور واقع ہوں گے تو اس دن زمین اللہ تعالی
کے حکم سے مخلوق کو اپنی خبریں بتائے گی اور جو نیکی بدی اس پر کی گئی وہ سب بیان
کرے گی اور اس سے مقصود یہ ہو گا کہ زمین نافرمانوں سے شکوہ کر سکے اور
فرمانبرداروں کا شکریہ ادا کر سکے، چنانچہ وہ یہ کہے گی کہ فلاں شخص نے مجھ پر
نماز پڑھی، فلاں نے زکوۃ دی، فلاں نے روزے رکھے اور فلاں نے حج کیا جبکہ فلاں نے
کفر کیا، فلاں نے زنا کیا، فلاں نے چوری کی، فلاں نے ظلم کیا حتی کہ کافر تمنا کرے
گا کہ اسے جہنم میں پھینک دیا جائے۔ درس: زمین ہمارے اعمال پر گواہ ہے اور قیامت
کے دن یہ ہمارے سامنے ہمارے اعمال بیان کر دے گی۔
آیت
6 اس آیت کے دو معنی ہیں : (1) قیامت کے دن لوگ حساب کی جگہ پر پیش ہونے کے بعد
وہاں سے کئی راہیں ہو کر لوٹیں گے ،کوئی دائیں طرف سے ہو کر جنت جائے گا اور کوئی
بائیں جانب سے ہو کر دوزخ جائے گا تا کہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے۔
(2) جس دن وہ امور واقع ہوں گے جن کا ذکر کیا گیا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کی
جگہ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے کہ کسی کا چہرہ سفید تو کسی کا چہرہ سیاہ ہو گا،
کوئی سوار ہو گا اور کوئی زنجیروں میں جکڑا ہوا پیدل ہو گا، کوئی امن کی حالت میں
تو کوئی خوفزدہ ہو گا تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
(حوالہ
کتاب تفسیر تعلیم قران سورۃ الزلزال پارہ 30)
یادِ
قیامت کو بھولا دینے کا بیان:یقینا قیامت کو یاد رکھنے سے
عمل کرنے کا جذبہ اور گناہوں سے توبہ کرنے کی توفیق اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا
ہوتا ہے کیونکہ اس کے سامنے قیامت کے احوال اس کی ہولناکیاں پیش نظر ہوتی ہیں جبکہ
اس کے برعکس جو قیامت کو بھولاے ہوئے ہیں قران پاک میں ان کو جا بجا قیامت کو بھولانے
کی وعیدات ائی ہیں ان میں سے ایک پیش خدمت ہے
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) ترجمہ
کنز العرفان:لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
اس
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں نے دنیا میں جو بھی عمل کئے ہیں اور ان کے بدنوں ،
ان کے جسموں ، ان کے کھانے پینے کی چیزوں اور ان کے ملبوسات میں اور ان کی دیگر
ضروریات پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کے
حساب کا وقت(روزِقیامت)قریب آ گیا ہے اوراس وقت ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں
کے بدلے میں انہوں نے کیا عمل کئے،آیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور ا س
کے دئیے ہوئے حکم پر عمل کیا اور جس چیز سے اس نے منع کیا اس سے رک گئے یا انہوں
نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ،اس سنگین صورتِ حال کے باوجود لوگوں کی غفلت
کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کئے جانے سے اور قیامت کے دن پیش آنے والی عظیم
مصیبتوں اور شدید ہولناکیوں سے بے فکر ہیں اور اس کے لئے تیاری کرنے سے منہ پھیرے
ہوئے ہیں اورانہیں اپنے انجام کی کوئی پرواہ نہیں۔(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ /
۲۷۰-۲۷۱، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۰۹،
تفسیر طبری، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱،
۹ / ۳، ملتقطاً)
Dawateislami